Updated: May 07, 2026, 4:02 PM IST
| Paris
انجلینا جولی نے بریڈ پٹ کے خلاف چیٹو میراول وائنری تنازع میں اہم قانونی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ لاس اینجلس سپیریئر کورٹ نے پٹ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں وہ جولی کی نجی ای میلز تک رسائی چاہتے تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ پٹ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ یہ دستاویزات قانونی استحقاق کے تحفظ میں نہیں آتیں۔ جولی کی قانونی ٹیم نے فیصلے کو بڑی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پٹ نجی اور محفوظ مواصلات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں ’’حد سے آگے‘‘ جا رہے تھے۔
بریڈ پٹ اور انجلینا جولی۔ تصویر: آئی این این
انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کے درمیان چیٹو میراول وائنری سے متعلق طویل قانونی جنگ میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب لاس اینجلس سپیریئر کورٹ نے انجلینا جولی کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے بریڈ پٹ کی نجی ای میلز تک رسائی کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالتی دستاویزات، جو امریکی میڈیا ادارے پیج سکس نے حاصل کیں، کے مطابق جج نے پیر کو اپنے فیصلے میں کہا کہ پٹ اس بات کو ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ جولی کی ای میلز قانونی تحفظ یا استحقاق کے دائرے میں نہیں آتیں۔ عدالت نے درخواست کو ’’بغیر کسی تعصب کے مسترد‘‘ کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ پٹ مستقبل میں دوبارہ یہی معاملہ عدالت میں اٹھا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فلم ’’جَن نائیکن‘‘ کے نئے ویڈیو نے دھوم مچادی، وجے کے نام کے ساتھ جڑا خاص ٹائٹل
جولی کے وکیل پال مرفی نے اس فیصلے کو اپنی مؤکل کے لیے ’’اہم فتح‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ بریڈ پٹ واضح طور پر محفوظ اور مراعات یافتہ دستاویزات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جو قانونی حدود سے تجاوز تھا۔ مرفی کے مطابق پٹ نے ابتدا میں ۱۲۶؍ دستاویزات تک رسائی مانگی تھی، بعد میں اس تعداد کو کم کر کے ۲۲؍ کیا گیا، لیکن آخرکار انہیں ایک بھی دستاویز حاصل نہیں ہو سکی۔قانونی ٹیم کا مؤقف تھا کہ پٹ جولی کی نجی قانونی حکمت عملی اور اس کے وکلاء کے ساتھ ہونے والی گفتگوؤں پر بھی کنٹرول حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہ تنازع فرانس میں واقع مشہور Château Miraval وائنری سے جڑا ہے، جو سابق جوڑے کی مشترکہ ملکیت تھی۔
بریڈ پٹ نے ۲۰۲۲ء میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ جولی نے ۲۰۲۱ء میں اپنے حصص روسی نژاد اسٹولی گروپ کے وائن ڈویژن Tenute del Mondo کو ان کی اجازت کے بغیر فروخت کر دیے۔ پٹ کا دعویٰ تھا کہ دونوں کے درمیان پہلے سے یہ معاہدہ موجود تھا کہ کوئی بھی فریق دوسرے کی رضامندی کے بغیر اپنے حصص فروخت نہیں کرے گا۔ دوسری جانب جولی نے ایسے کسی معاہدے کے وجود سے انکار کیا اور جوابی مقدمے میں الزام لگایا کہ پٹ ان کے خلاف ’’انتقامی قانونی جنگ‘‘ چھیڑے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ودیا بالن اور عرفان خان کی ۲۵؍ سال پرانی فلم یوٹیوب پر ریلیز
پٹ کی قانونی ٹیم خاص طور پر جولی کے بزنس مینیجر ٹیری برڈ، پبلسٹی چلو ڈالٹن اور ارمینکا ہیلیک کے ساتھ ہونے والی ای میلز تک رسائی چاہتی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ دستاویزات وائنری کے مالی معاملات اور فروخت کے فیصلے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم جولی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ تمام مواصلات ان کی قانونی حکمت عملی اور مشاورت کا حصہ تھیں، اس لیے انہیں قانونی استحقاق حاصل ہے۔ یاد رہے کہ جولی اور پٹ نے دسمبر ۲۰۲۴ء میں آٹھ سالہ قانونی لڑائی کے بعد اپنی طلاق کو حتمی شکل دی تھی۔ دونوں کے چھ بچے ہیں، جن میں میڈڈوکس، پیکس، زاہارا، شیلو اور جڑواں بچے ناکس اور ویوین شامل ہیں۔