Updated: August 22, 2026, 10:03 PM IST
| Mumbai
فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کو ناظرین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملنے کے باوجود باکس آفس پر توقع کے مطابق کامیابی نہ ملنے پر ہدایتکار راج کمار سنتوشی نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر سنی دیول کا پہلی مرتبہ مسلمان کردار ادا کرنا فلم کی کمزور باکس آفس کارکردگی کی ایک وجہ ہوسکتا ہے۔ سنتوشی نے کہا کہ فلم دیکھنے والے ناظرین اسے ’’غدر‘‘ سے بھی بہتر قرار دے رہے ہیں، تاہم بڑی تعداد میں لوگ سینما گھروں کا رخ نہیں کررہے۔
فلم ’’بٹوارہ‘‘، راج کمار سنتوشی۔ تصویر: آئی این این
جب فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ سینما گھروں میں ریلیز ہوئی تو بہت سے ناظرین نے فلم کو کافی پسند کیا، تاہم یہ باکس آفس پر اتنی مضبوط کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ فلم میں سنی دیول نے ایک مسلمان شخص کا کردار ادا کیا ہے، جو تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان منتقل ہوجاتا ہے اور ایک ہندو خاتون کی حفاظت کرتا ہے، جس کا گھر اس کی اجازت کے بغیر ان کے نام الاٹ کردیا جاتا ہے۔ فلم کو ریلیز کے بعد ناظرین کی جانب سے کافی پذیرائی ملی، لیکن مثبت ’’ورڈ آف ماؤتھ‘‘ بھی اسے باکس آفس پر کامیاب بنانے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوا۔ فلم کے ہدایتکار راج کمار سنتوشی کا ماننا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ سنی دیول کا مسلمان کردار ادا کرنا ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کُبریٰ سیٹھ نے ’’فرضی ۲‘‘کی شوٹنگ شروع کی، سائرہ کے کردار میں نظرآئیں گی
سنی دیول کے مسلمان کردار پر راج کمار سنتوشی کا ردعمل
زوم کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں راج کمار سنتوشی نے کہا کہ لوگ مذہب کی وجہ سے فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ دیکھنے کے لیے سینما گھروں کا رخ نہیں کررہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ سنی دیول نے اپنے روایتی حب الوطنی پر مبنی کرداروں کے بجائے ایک پاکستانی مسلمان کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ضروری ہے کہ لوگ گھروں سے نکلیں اور فلم دیکھیں۔ جن لوگوں نے فلم ’’بٹوارہ‘‘ دیکھی ہے، وہ اسے بہت پسند کررہے ہیں اور اس کی بے حد تعریف کررہے ہیں۔ ہمیں بہت سے مداحوں کے خطوط موصول ہورہے ہیں۔ فلم کے لیے بکنگ بھی ہورہی ہے۔ لوگ فون کرکے فلم کی تعریف کررہے ہیں۔ جب سینما سے باہر آنے والے لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ فلم کیسی ہے تو ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں۔‘‘ راج کمار سنتوشی نے مزید بتایا کہ سنی دیول کے بہت سے مداح اس فلم کا موازنہ ان کی سابقہ کامیاب فلم ’’غدر‘‘ سے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ ’’غدر‘‘ سے بڑی فلم ہے، یہ ’’غدر‘‘ سے بہتر فلم ہے۔ فلم ’’غدر‘‘ سنی دیول کے کریئر کی سب سے بڑی کامیاب فلموں میں سے ایک ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ فلم کی اتنی تعریف کررہے ہیں، لیکن اس تعریف کا اثر باکس آفس کے اعداد و شمار میں نظر نہیں آرہا۔ راج کمار سنتوشی نے کہا، ’’وہ فلم کی اتنی تعریف کررہے ہیں، لیکن باکس آفس کے نمبرز نہیں آرہے۔ مجھے ان لوگوں پر حیرت ہے جو فلم دیکھنے نہیں آرہے۔‘‘
کیا سنی دیول کا مسلمان کردار وجہ بنا؟
راج کمار سنتوشی کے خیال میں فلم کی کمزور باکس آفس کارکردگی کی وجہ مذہب ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں حیران ہوں کہ لوگ فلم دیکھنے کیوں نہیں آرہے؟ یا تو انہوں نے یہ سن لیا ہے کہ سنی مسلمان کردار ادا کررہے ہیں۔ سنی نے پہلی مرتبہ فلم میں مسلمان کا کردار ادا کیا ہے۔ تو پھر لوگ فلم کیوں نہیں دیکھ رہے؟‘‘ ہدایتکار نے ناظرین سے اپیل کی کہ وہ پہلے فلم دیکھیں اور اس کے بعد اپنی رائے قائم کریں۔ ان کا کہنا تھا، ’’میں چاہتا ہوں کہ لوگ آئیں اور فلم دیکھیں۔ فلم دیکھنے کے بعد وہ اپنی رائے دینے کے مکمل حق دار ہیں۔ وہ مجھ پر تنقید بھی کرسکتے ہیں، مجھے برا نہیں لگے گا۔ لیکن انہیں پہلے فلم دیکھنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا محض اس لیے فلم کو مسترد کیا جارہا ہے کہ سنی دیول نے مسلمان کا کردار ادا کیا ہے؟ انہوں نے کہا، ’’کیا وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ سنی مسلمان کا کردار کررہا ہے، اس لیے ہم فلم نہیں دیکھیں گے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: پارول گلاٹی بنیں ’دی ٹریٹرز ۲‘ کی سب سے زیادہ زیرِ بحث کھلاڑی
اسپائیڈر مین کی مثال دیتے ہوئے کیا کہا؟
راج کمار سنتوشی نے اپنی بات سمجھانے کے لیے اسپائیڈر مین کی مثال بھی دی۔ انہوں نے کہا، ’’اگر کل ہمیں معلوم ہو کہ اسپائیڈر مین کا نام اسلم شیخ ہے اور وہ پاکستان میں رہتا ہے، تو کیا لوگ اسپائیڈر مین کو مسترد کردیں گے؟ وہ ہندوستان میں اتنی بڑی ہٹ فلم ہے۔ صرف نام اور خطے کی وجہ سے کیا اسپائیڈر مین اپنی تمام خصوصیات کھودے گا؟ کیا اس صورت میں اسپائیڈر مین کا وجود ہی ختم ہوجائے گا؟ یہ کیا بات ہے؟‘‘ سنتوشی نے سنی دیول کی اداکاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بہترین کردار ادا کیا ہے اور فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ ان کے کریئر کی بہترین پرفارمنس میں سے ایک ہے۔ فلم میں شبانہ اعظمی، پریتی زنٹا، کرن دیول اور علی فضل نے بھی اہم کردار ادا کیے ہیں۔ فلم میں تقسیمِ ہند کے پس منظر میں سیکولرازم اور ہندوستان و پاکستان کے درمیان مذہبی تقسیم جیسے موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے۔