Updated: July 23, 2026, 9:03 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکار بوبی دیول نے کہا ہے کہ جنوبی ہندوستانی سنیما میں ہیرو کو غیر معمولی مقام حاصل ہوتا ہے، اسی لیے فلم ساز اکثر ویلن کے کردار کے لیے ہندی فلم انڈسٹری کے اداکاروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ویلن بھی مقامی طور پر اتنا ہی مقبول ہو تو ناظرین کے لیے اسے شکست کھاتے دیکھنا آسان نہیں ہوتا۔ بوبی دیول اس وقت وجے کی فلم ’’جنا نائیگن‘‘ میں مرکزی منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔
بوبی دیول۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ کے معروف اداکار بوبی دیول نے جنوبی ہندوستانی فلموں میں ہندی اداکاروں کو ویلن کے کرداروں میں بار بار کاسٹ کیے جانے کی روایت پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پیچھے وہاں کے فلمی کلچر اور ہیرو کے لیے غیر معمولی عقیدت کا بڑا کردار ہے۔ ان کے مطابق جنوبی سنیما میں ہیرو کو ایک علامت اور مسیحا کی حیثیت حاصل ہوتی ہے، اس لیے فلم ساز اکثر چاہتے ہیں کہ ویلن ایسا ہو جس سے مقامی ناظرین جذباتی طور پر وابستہ نہ ہوں۔ انڈین ایکسپریس کو دیے گئے انٹرویو میں بوبی دیول نے کہا کہ ’’جنوبی فلموں میں ہیرو کی پرستش کا کلچر بہت مضبوط ہے۔ اگر ویلن بھی اسی انڈسٹری کا بڑا اسٹار ہو تو ناظرین کے لیے اسے ہیرو کے ہاتھوں شکست کھاتے دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے، اسی لیے اکثر ویلن ہندی فلموں سے لیے جاتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایف ٹی آئی آئی طلبہ نے آر مادوھون کے دفتر پر ’’ غائب‘‘ کا پوسٹر آویزاں کیا
بوبی دیول نے کہا کہ جنوبی فلم ساز کردار کی ضرورت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اگر انہیں لگے کہ کسی کردار کے لیے بالی ووڈ کا اداکار زیادہ موزوں ہے تو وہ بلا جھجھک اسے منتخب کرتے ہیں۔ ان کے مطابق زبان کبھی رکاوٹ نہیں بنی کیونکہ مختلف زبانوں میں کام کرنے سے بطور اداکار سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور نئے ناظرین تک رسائی بھی حاصل ہوتی ہے۔ اداکار اس وقت تمل سپر اسٹار اور تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے کی فلم ’’جنا نائیگن‘‘ میں مرکزی منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ فلم طویل تاخیر اور دیگر مشکلات کے بعد ریلیز ہوئی ہے اور اس میں وجے اور بوبی دیول پہلی مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل نظر آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نصیرالدین شاہ نے اپنے انسٹاگرام پر طلبہ کے حق میں آواز اُٹھائی
بوبی دیول نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں انہیں جنوبی ہندوستانی فلموں میں جس طرح کے کردار ملے، انہوں نے ان کے کریئر کو نئی سمت دی۔ ان کے مطابق وہ منفی کرداروں کو صرف اس وقت قبول کرتے ہیں جب ان میں گہرائی اور اداکاری کی گنجائش موجود ہو، کیونکہ ان کا مقصد صرف ویلن بننا نہیں بلکہ ایک یادگار کردار تخلیق کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بالی ووڈ اور جنوبی ہندوستانی فلمی صنعت کے درمیان تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے اور مختلف زبانوں کے فنکار ایک دوسرے کی فلموں میں کام کر رہے ہیں، جس سے ہندوستانی سنیما مزید مضبوط اور ہمہ گیر ہو رہا ہے۔