سوال کیا کہ اگر ملک کی اہم شخصیات کو اس طرح نوٹس تھمایا جاسکتا ہے اور ان سے اس طرح کے بچکانہ اور غیر معقول سوال کئے جاسکتے ہیں تو محسوس کیا جاتا ہے کہ اس عمل سے عام لوگوں کو کتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 11:19 AM IST | Ahmadullah Siddiqui | New Delhi
سوال کیا کہ اگر ملک کی اہم شخصیات کو اس طرح نوٹس تھمایا جاسکتا ہے اور ان سے اس طرح کے بچکانہ اور غیر معقول سوال کئے جاسکتے ہیں تو محسوس کیا جاتا ہے کہ اس عمل سے عام لوگوں کو کتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔
کانگریس نے ایس آئی آر میں بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج کیلئے مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے جانے کے درمیان پارٹی نے ایک بار پھرملک کی ۵۰؍اہم نامور شخصیات کو الیکشن کمیشن کے ذریعہ نوٹس جاری کیے جانےکو انتہائی غیر معقول اوراہم مسئلہ کو نظر انداز کیے جانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن نےملک کی ۵۰؍نامور شخصیات کو مختلف بے ضابطگی کیلئے نوٹس جاری کیا ہے جن میں سیاستداں، اعلیٰ بیوروکریٹس، فوج کے اعلیٰ افسران، کاروباری شخصیات، فلم ساز، کھلاڑی اور ماہرین تعلیم بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی میں ’پوسٹر وار‘، فرقہ پرستوں کی اوچھی حرکت، سماجوادی کو نشانہ بنایا
کانگریس نے ان نامور شخصیات کو الیکشن کمیشن کے ذریعہ نوٹس جاری کیے جانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ شخصیات ہیں جن کے پاس تمام وسائل موجود ہیں لیکن اس کی آڑ میں اہم مسئلہ کو یکسر نظرانداز کیا جارہاہے۔ پارٹی نے کہا کہ اگر نامور اور اہم شخصیات کو مختلف وجوہات کی بناء پر نوٹس جاری کیا جاسکتا ہے تو عام لوگوں کی صورتحال کیا ہوگی جو اس صورتحال سے نپٹنے سے قاصر ہیں۔ کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے ملک کی ۵۰؍ نامور شخصیات کی لسٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کے عمل کی غیر معقولیت کی اس سے زیادہ واضح مثال شاید ہی کوئی ہوسکتی ہے۔ کم از کم ۵۰؍ نمایاں ہندوستانیوںکو مختلف معاملات پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ کمیشن نے جن وجوہات کی بنا پر نوٹس جاری کیا ہے ان میں والدین سے متعلق عمر کے اندراج میں تضاد، خاندان کی تفصیلات کا درست اندراج نہ ہونا، ناموں میں مطابقت نہ ہونا اور جمع کرائی گئی تفصیلات میں تضاد کا حوالہ دیا گیا۔ اس میں منطقی تضاد کا حوالہ دے کر بھی نوٹس جاری کیاگیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملک کے تعلیم یافتہ، مکمل دستاویزات کے حامل اور بااثر ترین شہری بھی ایسی بے ضابطگیوں کی وجہ سے جانچ کے دائرے میں آ سکتے ہیں تو ذرا غور کریں کہ ایک عام آدمی کیلئے اس عمل کا کیا مطلب ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:جموئی واقعے پرراہل اور تیجسوی کی بہار سرکار پرسخت تنقید
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ایسے غریب، دیہی باشندے، معمر یا کم تعلیم یافتہ ووٹر جن کے پاس دستاویزات اور ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی محدود ہے اور جسے سرکاری دفتری کارروائیوں کو سمجھنے اور نپٹانے کا کوئی آسان راستہ میسر نہیں۔ پون کھیڑا نے مزید کہا کہ حکومت شاید ان نمایاں شخصیات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہہ سکتی ہے کہ ’دیکھیں، نوٹس تو سبھی کو جاری کیے جا رہے ہیں اور یہ عمل بالکل معمول کے مطابق ہے۔ بس ’مقررہ قانونی طریقۂ کارپر عمل کریں اور اپنا نام ووٹر لسٹ میں شامل کروائیں لیکن اس میں اصل مسئلے کو یکسر نظر انداز کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے پاس وکلاء، دفاتر اور رابطے موجود ہیں اور وہ ایک فون کال کے ذریعے کسی عہدیدار سے اپنے معاملے کا جائزہ لینے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ اصل سوال ان کروڑوں عام ہندوستانیوں کا ہے جو اس طرح کے فون کال کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے؟