Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈیوڈ دھون نے مخصوص انداز کی مزاحیہ فلمیں بنائیں

Updated: August 17, 2026, 1:01 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ہندی سنیما کی تاریخ میں ایسے ہدایت کار بہت کم گزرے ہیں جنہوںنےکسی مخصوص صنف کو اس طرح اپنی شناخت بنا لیا ہو کہ فلم کا نام سنتے ہی ہدایت کار کا انداز ذہن میں آنے لگے۔

Creator of comedy films David Dhawan. Picture: INN
مزاحیہ فلموں کے خالق ڈیوڈ دھن۔ تصویر: آئی این این

ہندی سنیما کی تاریخ میں ایسے ہدایت کار بہت کم گزرے ہیں جنہوںنےکسی مخصوص صنف کو اس طرح اپنی شناخت بنا لیا ہو کہ فلم کا نام سنتے ہی ہدایت کار کا انداز ذہن میں آنے لگے۔ ڈیوڈ دھون ایسے ہی فلم ساز ہیں۔ ان کی فلموں میں کہانی خواہ کتنی ہی سادہ کیوں نہ ہو، کردار کتنے ہی الجھے ہوئے کیوں نہ ہوں اور حالات کتنے ہی بے قابو کیوںنہ ہوجائیں، پردے پر ایک ایسا ہنگامہ ضروربرپا ہوتا تھا جو ناظرین کو ہنسنے پر مجبور کردیتا تھا۔ غلط فہمیاں، دوہرے کردار، محبت کی مثلث، تیز رفتار مکالمے، شرارتی کردار، رنگ برنگے گیت اور حالات کی مضحکہ خیزی ان کے سنیما کی پہچان بن گئے۔ڈیوڈ دھون کا اصل نام راجندر دھون ہے۔ ان کی پیدائش ۱۶؍ اگست ۱۹۵۵ءکواگرتلہ، تریپورہ میں ہوئی۔ وہ اداکار انیل دھون کے چھوٹے بھائی اور اداکار ورون دھون کے والد ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دھرمیندر کا گھر سب کیلئے کھلا رہتا تھا: امیتابھ بچن نے سنایا دلچسپ واقعہ

ہدایت کار کی حیثیت سے ان کا آغاز ۱۹۸۹ءکی فلم طاقتور سے ہوا، جس میں سنجے دت اور گووندانے اہم کردار ادا کیے۔ ابتدا میں ڈیوڈ دھون نے صرف مزاحیہ فلموں تک خودکو محدود نہیں رکھا۔ ان کی فلموں میںایکشن، ڈراما، رومان اور سماجی جذبات سے بھرپور فلمیں بھی شامل ہیں۔ سورگ، شعلہ اور شبنم اور آنکھیں جیسی فلموں نے یہ ثابت کیاکہ وہ محض ہنسانے والے ہدایت کار نہیں بلکہ مختلف النوع کہانیوں کو پردے پر پیش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔

لیکن ڈیوڈ دھون کی اصل پہچان ۱۹۹۰ءکی دہائی میں بنی، جب ان کانام گووندا کے ساتھ تقریباً مترادف ہوگیا۔ گووندا اس زمانے میں  بےمثال مزاحیہ اداکاری، رقص اور مکالموں کی ادائیگی کے باعث مقبولیت کی بلندیوں پر تھے اور ڈیوڈ دھون نے ان کی صلاحیتوں کو ایک ایسے قالب میں ڈھالا جس نے باکس آفس پر دھوم مچا دی۔ شعلہ اور شبنم نے گووندا اور ڈیوڈ دھون کی شراکت کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ اس کے بعد آنکھیں، راجا بابو، قلی نمبر ون، ساجن چلے سسرال، جڑواں، ہیرو نمبر ون اور بڑے میاں چھوٹے میاں جیسی فلموںنےاس جوڑی کو بالی ووڈ کی کامیاب ترین ہدایت کار۔اداکار جوڑیوں میں شامل کردیا۔ ڈیوڈ دھون نے گووندا کے جسمانی مزاح، چہرےکے تاثرات، رقص اور بے ساختہ اداکاری کو اپنی فلموں کی رفتار کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ ایک مخصوص ’’ڈیوڈ دھون۔گووندا‘‘ انداز وجود میں آگیا۔

یہ بھی پڑھئے: فلم ’پارٹنر‘ کے دوران سلمان خان جذباتی مشکلات سے گزر رہے تھے:گووندا

ان کی فلموں میں موسیقی کا بھی ایک اہم مقام رہا۔ ۱۹۹۰ءکی دہائی میں فلمی موسیقی عروج پر تھی اور ڈیوڈ دھون نے اس دور کے مقبول موسیقاروں، گلوکاروں اور نغمہ نگاروں کے ساتھ مل کر ایسے گیت پیش کیے جو فلم کی مقبولیت کا حصہ بن گئے۔ قلی نمبر ون، بیوی نمبر ون، جڑواں اور بڑے میاں چھوٹے میاں کے گیت آج بھی اس دور کی یاد دلاتے ہیں۔ ان کے سنیما میں گانا محض کہانی کے درمیان ایک وقفہ نہیں ہوتا تھا بلکہ تفریح کے پورے پیکیج کا حصہ ہوتا تھا۔ ۲۰۲۶ءمیں ڈیوڈ دھون نے اپنی آخری فلم ہےجوانی تو عشق ہوناہے پیش کی، جس میں ورون دھون کے ساتھ پوجا ہیگڑے اور مرنال ٹھاکر بھی شامل ہیں۔ فلم۵؍جون۲۰۲۶ءکو ریلیز ہوئی اور اسے ڈیوڈ دھون کے ہدایت کاری کے سفر کی آخری فلم کے طور پر پیش کیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK