Inquilab Logo Happiest Places to Work

رتناگیری میں دائود ابراہیم کی آبائی جائیداد کی نیلامی، ممبئی کے باشندےنے خریدی

Updated: March 20, 2026, 12:23 PM IST | Ratnagiri

زرعی زمینوںکیکئی سال سے زیر التواء نیلامی کی تکمیل کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ، خریدار کا نام فی الحال مخفی رکھا گیا ہے۔

Dawood Ibrahim. Photo: INN
دائود ابراہیم۔ تصویر: آئی این این

انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کی رتناگیری ضلع کی آبائی زرعی زمینوں کی طویل عرصے سے زیر التوا نیلامی کو بالآخر کامیابی مل گئی، جہاں ۵؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو ہونے والی مرکزی حکومت کی نیلامی میں ممبئی کے ایک باشندے نے ایک اور شخص کے ساتھ مل کر چاروں پلاٹ کیلئے سب سے زیادہ بولی لگا کر انہیں حاصل کر لیا۔ یہ نیلامی اسمگلرس اینڈ فارن ایکسچینج مینی پولیٹرس (فورفیچر آف پراپرٹی) ایکٹ (سیفیما) کے تحت منعقد کی گئی، جو کاسکر خاندان کی جائیدادوں کی فروخت کے عمل میں ایک اہم پیش رفت  ہے۔

یہ بھی پڑھئے: توانائی کے بعد کھاد کا بحران، دنیا کے غذائی نظام کوشدید خطرہ

حکام کے مطابق یہ اقدام انڈرورلڈ نیٹ ورک کی جائیدادوں کو ختم کرنے کے سلسلے میں اہم مرحلہ ہے۔سرکاری معلومات کے مطابق چاروں زرعی پلاٹ رتناگیری کے کھیڑ تعلقہ کے ممکے گاؤں میں واقع ہیں، جو داؤد ابراہیم کا آبائی گاؤں مانا جاتا ہے۔ ان میں سے کئی جائیدادیں اسکی والدہ امینہ بی کے نام پر درج تھیں۔ خریدار کی شناخت ابھی ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ نیلامی کی شرائط کے مطابق خریدار کو اپریل ۲۰۲۶ء کے اوائل تک مکمل ادائیگی کرنی ہوگی، جبکہ حتمی منتقلی کا عمل متعلقہ محکمہ کی منظوری کے بعد مکمل کیا جائے گا۔ اس سے قبل ان زمینوں کی نیلامی کی کئی کوششیں ناکام رہی تھیں۔ نومبر ۲۰۲۵ء میں ریزرو قیمت تقریباً ۳۰؍ فی صد کم کرنے کے باوجود کوئی بولی موصول نہیں ہوئی تھی۔ حکام کے مطابق داؤد کی جائیدادوں کا سماجی تاثر، دیہی مقام، زرعی استعمال کی پابندیاں اور قانونی پیچیدگیاں ممکنہ خریداروں کی عدم دلچسپی کی بڑی وجوہات تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کی اپیل’’ کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں، امن و امان قائم رکھیں‘‘

  حالیہ نیلامی میں سروے نمبر ۴۴۲؍ (حصہ نمبر ۱۳۔بی) کے پلاٹ، جس کی ریزرو قیمت ۹ء۴۱؍ لاکھ روپے تھی، دو بولی دہندگان کی شرکت کے بعد ۱۰؍ لاکھ روپے سے زائد میں فروخت ہوا۔ دیگر تین پلاٹس، یعنی سروے نمبر ۵۳۳؍ ۴۵۳؍ اور ۶۱۷؍ کیلئے صرف ایک بولی دہندہ سامنے آیا، جس نے تینوں زمینیں حاصل کر لیں۔ حکام نے بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ان جائیدادوں کو کئی بار نیلامی کیلئے پیش کیا گیا، جن میں ۲۰۱۷ء، ۲۰۲۰ء ۲۰۲۴ء اور ۲۰۲۵ء شامل ہیں، مگر زیادہ تر مواقع پر یا تو نیلامی ناکام رہی یا محدود شرکت دیکھنے میں آئی۔ یہ زمینیں اصل میں ۱۹۹۰ء کی دہائی میں کاسکر خاندان سے ضبط کی گئی تھیں اور بعد ازاں انہیں ۱۹۹۳ءممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے خلاف کارروائی کے تحت مرکزی حکومت کے کنٹرول میں لے لیا گیا تھا۔ اس سے قبل دہلی کے وکیل اجے سریواستو نے بھی داؤد سے منسلک جائیدادوں کی کئی نیلامیوں میں حصہ لیا تھا۔ ۲۰۲۰ء میں انہوں نے ممکے گاؤں میں داؤد کا آبائی بنگلہ خریدا تھا، تاہم بعض معاملات ادائیگی میں تاخیر اور قانونی تنازعات کے باعث التوا کا شکار رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK