Updated: May 25, 2026, 9:04 PM IST
| Mumbai
ایف ڈبلیو آئی سی اینے رنویر سنگھ کے خلاف عدم تعاون کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ اداکار نے ’’ڈان ۳‘‘ سے اچانک علیحدگی اختیار کی اور متعدد بار طلب کیے جانے کے باوجود وضاحت دینے کے لیے پیش نہیں ہوئے۔ ایف ڈبلیو آئی سی ای کے مطابق فلم کے پروڈیوسرز نے تقریباً ۴۵؍ کروڑ روپے کے نقصانات کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
ایف ڈبلیو آئی سی نے اداکار رنویر سنگھ کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے عدم تعاون کی ہدایت جاری کر دی ہے، جس کے بعد ’’ڈان ۳‘‘ سے ان کی مبینہ علیحدگی کا تنازع مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ ۲۵؍ مئی کو منعقدہ پریس کانفرنس میں FWICE کے چیف ایڈوائزر اشوک پنڈت، صدر بی این تیواری اور اعزازی جنرل سیکریٹری اشوک دوبے نے میڈیا کو تنظیم کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ اشوک پنڈت کے مطابق فرحان اختر نے آئی ایف ٹی ڈی اے میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ رنویر سنگھ نے شوٹنگ شروع ہونے سے تقریباً تین ہفتے قبل فلم چھوڑ دی۔
یہ بھی پڑھئے : موہن لال کی ’’درشیم ۳‘‘ کا چار دن میں ۱۴۱؍ کروڑ روپے کا کاروبار
انہوں نے بتایا کہ فرحان اختر اس وقت لندن میں تھے اور انہوں نے زوم کے ذریعے میٹنگ میں شرکت کی جبکہ رتیش سدھوانی ذاتی طور پر IFTDA دفتر پہنچے اور معاملے کی تفصیلات پیش کیں۔ اشوک پنڈت نے کہا کہ ’’ہم نے اصول کے مطابق دوسری پارٹی یعنی رنویر سنگھ سے رابطہ کیا۔ ہر دس دن بعد انہیں تین مرتبہ یاد دہانی کرائی گئی کہ وہ آ کر اپنا مؤقف پیش کریں، لیکن ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔ بعد میں ایک ای میل موصول ہوا جس میں کہا گیا کہ FWICE کو اس معاملے میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں۔‘‘ ایف ڈبلیو آئی سی ای کے صدر بیرندر ناتھ تیواری نے اس موقع پر کہا کہ فلمی منصوبوں میں اچانک رکاوٹیں صرف پروڈیوسرز ہی نہیں بلکہ ہزاروں کارکنوں کی روزی روٹی کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ انڈسٹری کو یہ پیغام جانا چاہیے کہ کوئی بھی سپر اسٹار قانون اور ضابطوں سے بڑا نہیں۔ اسی لیے ہم نے رنویر سنگھ کے خلاف عدم تعاون کی ہدایت جاری کی ہے۔ جب تک تنازع حل نہیں ہوتا اور وہ ہمارے سامنے پیش نہیں ہوتے، یہ فیصلہ برقرار رہے گا۔‘‘ اشوک دوبے نے بتایا کہ ایف ڈبلیو آئی سی ای سے منسلک تمام یونینز اور شعبہ جات، جن میں ہدایت کار، ٹیکنیشنز، کیمرہ مین، لائٹ مین، اسپاٹ بوائز اور دیگر عملہ شامل ہے، کو رنویر سنگھ کے ساتھ کام نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : ہیما مالنی نے آنسوؤں کے ساتھ دھرمیندر کا پدم وبھوشن حاصل کیا، راشٹرپتی بھون میں جذباتی مناظر
پریس کانفرنس کے دوران اشوک پنڈت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایکسل انٹرٹینمنٹ نے رنویر سنگھ سے تقریباً ۴۵؍ کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، ’’یہ رقم مکمل آڈٹ اور حساب کتاب کے بعد طے کی گئی ہے۔ فرحان نے کہا کہ یہی وہ رقم ہے جو پری پروڈکشن پر خرچ ہوئی، اور اگر رنویر کو کسی حساب پر اعتراض ہے تو وہ اس پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ تاہم، ایف ڈبلیو آئی سی ای نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ اشوک پنڈت نے کہا، ’’فرحان، رتیش، رنویر اور ہمارے تمام ادارے ایک ساتھ بیٹھ کر مثبت حل نکالنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : ممبئی صرف خواب نہیں دکھاتا بلکہ انہیں پورا کرنے کی طاقت بھی دیتا ہے: شریا
یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ’’ڈان ۳‘‘ پہلے ہی مداحوں اور انڈسٹری کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ فلم میں رنویر سنگھ کو نئے ’’ڈان‘‘ کے طور پر کاسٹ کیے جانے کے اعلان نے کافی بحث چھیڑی تھی، کیونکہ اس سے قبل یہ کردار شاہ رخ خان نبھا چکے ہیں۔ فی الحال رنویر سنگھ یا ان کی ٹیم کی جانب سے ایف ڈبلیو آئی سی ایکے الزامات پر کوئی باضابطہ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔