فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے اپنے حالیہ کونسل اجلاس میں کھیل کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی اہداف اور خواتین کے فٹ بال کے لیے دور رس نتائج کے حامل نئے قوانین کی منظوری دے دی ہے۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 7:46 PM IST | Zurich
فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے اپنے حالیہ کونسل اجلاس میں کھیل کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی اہداف اور خواتین کے فٹ بال کے لیے دور رس نتائج کے حامل نئے قوانین کی منظوری دے دی ہے۔
فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے اپنے حالیہ کونسل اجلاس میں کھیل کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی اہداف اور خواتین کے فٹ بال کے لیے دور رس نتائج کے حامل نئے قوانین کی منظوری دے دی ہے۔ فیفا صدر جیانی انفینٹینو نے ’’فٹ بال دنیا کو جوڑتا ہے‘‘ کے فلسفے کے تحت کھیل کو امن اور انسانی وقار کے فروغ کا ذریعہ بنانے پر زور دیا ہے۔
فیفا نے فٹ بال کی عالمی ترقی کے لیے اب تک کے سب سے بڑے بجٹ کی منظوری دی ہے۔ ۲۰۲۷ء سے ۲۰۳۰ء کے لیے۱۴؍ ارب ڈالر کی ریکارڈ آمدنی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ترقیاتی سرمایہ کاری کو بڑھا کر ۷ء۲؍ ارب ڈالر کر دیا گیا ہے، جو کہ ۲۰۱۶ء کے مقابلے میں ۸؍ گنا زیادہ ہے۔ جس کا مقصد رکن ممالک میں کھیل کے بنیادی ڈھانچے، جدید ٹیکنالوجی اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت پر خرچ کرنا ہے۔
فلسطین فٹ بال ایسوسی ایشن ( پی ایف اے) کی شکایت پر فیفا ڈسپلنری کمیٹی نے اہم فیصلہ سنایا ہے: جس میں اسرائیلی ایسوسی ایشن کو امتیازی سلوک اور نسل پرستی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک لاکھ ۵۰؍ ہزار سوئس فرانک کا جرمانہ عائد کیا گیا۔
اسرائیل کو اپنے اگلے ۳؍ ہوم میچوں میں ’’امتیازی سلوک کو نہ کہیں‘‘ کے بڑے بینرز آویزاں کرنے اور نسل پرستی کے خاتمے کا اصلاحاتی منصوبہ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فیفا نے واضح کیا کہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی کلبوں پر فی الحال کوئی تادیبی کارروائی نہیں ہوگی کیونکہ یہ ایک پیچیدہ قانونی مسئلہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کو ۶؍ وکٹ سے شکست دی
خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے فیفا نے تاریخی ریگولیٹری تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ اب خواتین کے مقابلوں میں ہیڈ کوچ یا کم از کم ایک اسسٹنٹ کوچ، طبی عملہ اور دو آفیشلز کا خواتین ہونا لازمی ہوگا۔ اس ٹورنامنٹ کے لیے میزبانی کے عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے ۲۰۲۶ء کے آخر میں خصوصی کانگریس بلائی جائے گی، جس میں پہلی بار ۴۸؍ ٹیمیں شرکت کریں گی۔ کھیل کے ماحول کو ہراساں کیے جانے اور بدسلوکی سے پاک رکھنے کے لیے نئی پالیسی کی منظوری بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا:فلسطین کے خلاف ’امتیازی سلوک‘ پر اسرائیل کے خلاف پابندیاں عائد
مراکش میں ہونے والا ’’انڈر ۱۷؍ ویمن ورلڈ کپ‘‘ اکتوبر ۲۰۲۶ء میں منعقد ہوگا۔ اس کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے لیے آسیان کپ کی تاریخوں کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔