’’غزہ :ڈاکٹروں پر حملہ‘‘نے بَافٹا ٹی وی ایوارڈز میں موجودہ امور کا انعام جیت لیا، جس کے بعد فلمسازوں نے بی بی سی پر ڈاکیومنٹری کو جزوی تعصب کے خدشات کی وجہ سے روکنے (سنسر کرنے) کا الزام لگایا۔
EPAPER
Updated: May 11, 2026, 9:09 PM IST | London
’’غزہ :ڈاکٹروں پر حملہ‘‘نے بَافٹا ٹی وی ایوارڈز میں موجودہ امور کا انعام جیت لیا، جس کے بعد فلمسازوں نے بی بی سی پر ڈاکیومنٹری کو جزوی تعصب کے خدشات کی وجہ سے روکنے (سنسر کرنے) کا الزام لگایا۔
’’غزہ: ڈاکٹروں پر حملہ‘‘کے نام سے بنی یہ ڈاکیومنٹری کے تخلیق کاروں نے اتوار کو بَافٹا ٹی وی ایوارڈز کی تقریب میں اپنی قبولیت کی تقریر کے دوران بی بی سی پر تنقید کی، جب یہ فلم موجودہ امور کے زمرے میں ایوارڈ جیت گئی۔ اس واقعہ نے اس تنازع کو دوبارہ جنم دیا کہ کس طرح نشریاتی ادارے نے اس پروجیکٹ کو پہلے روک دیا تھا، جسے بعد میں چینل ۴؍ نے نشر کیا۔
یہ ڈاکیومنٹری، جس میں غزہ میں فلسطینی طبی عملے کے براہِ راست تجربات شامل ہیں، لندن کے رائل فیسٹیول ہال میں اس وقت اعزاز سے نوازا گیا جب بی بی سی نے تقریباً ایک سال قبل اسے نشر کرنے سے انکار کیا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ اس میں غیر جانبداری کے حوالے سے خدشات ہیں۔
ایوارڈ قبول کرتے ہوئے ایگزیکٹیو پروڈیوسر بین ڈی پیئر نے فلم بنانے والے صحافیوں کا شکریہ ادا کیا اور براہِ راست بی بی سی سے مخاطب ہوئے، جس نے بَافٹا تقریب کو بی بی سی ون پر دو گھنٹے سے زیادہ تاخیر سے نشر کیا۔ڈی پیئر نے کہا’’آخر میں بی بی سی سے ایک سوال، چونکہ آپ نے ہماری فلم چھوڑ دی تھی، تو کیا آپ آج رات بَافٹا کی اسکریننگ سے ہمیں بھی نکال دیں گے؟‘‘
صحافی اور پریزنٹر رمیتا ناوائی نے بھی اپنی تقریر میں نشریاتی ادارے پر تنقید کی، اور ڈاکیومنٹری کی اس تحقیق کا حوالہ دیا جس میں غزہ کے صحت کے نظام پر حملوں کی تحقیقات شامل تھیں۔ناوائی نے کہا’’یہ ہماری تحقیق کے نتائج ہیں جسے بی بی سی نے فنڈ کیا لیکن دکھانے سے انکار کر دیا۔ مگر ہم خاموش یا سنسر ہونے کو قبول نہیں کرتے۔ ہم چینل ۴؍ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے یہ فلم نشر کی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ کے مطابق ۱۷۰۰؍ سے زیادہ فلسطینی ڈاکٹرز اور طبی کارکن مارے جا چکے ہیں اور ۴۰۰؍ سے زائد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ ایوارڈ ان فلسطینی طبی کارکنوں کے نام کیا جو مبینہ طور پر اسرائیلی حراستی مراکز میں قید ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بی بی سی نے ناوائی کی تقریر کے کچھ حصے اپنی ٹیلی ویژن نشریات سے اپنے معیار (کمپلائنس) ٹیم سے مشاورت کے بعد حذف کر دیے۔
یہ بھی پڑھئے:مودی کی اپیل کے بعد حکومت کی وضاحت، ایندھن اور توانائی کا وافر ذخیرہ ہے
بی بی سی نے یہ ڈاکیومنٹری ایک سال سے زیادہ پہلے آزاد پروڈکشن کمپنی بیسمنٹ فلمز سے کمیشن کی تھی، مگر اسے نشر کرنے میں تاخیر کی گئی کیونکہ اسی نوعیت کی ایک اور غزہ ڈاکیومنٹری ’’غزہ: وار زون میں کیسے زندہ رہیں‘‘ پر جائزہ لیا جا رہا تھا۔ بعد میں نشریاتی ادارے نے ’’غزہ: ڈاکٹروں پر حملہ‘‘ نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ اس فلم سے’’غیر جانبداری کے بارے میں ایسا تاثر پیدا ہو سکتا ہے جو بی بی سی سے عوام کی درست توقعات کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔‘‘ادارے نے یہ بھی کہا کہ غیر جانبداری ’’بی بی سی نیوز کا بنیادی اصول‘‘ ہے۔ بعد ازاں یہ فلم چینل ۴؍ نے حاصل کی اور گزشتہ سال جولائی میں نشر کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:وجے کی ’’جنا نا ئیگن‘‘ جلد ہی ریلیز ہوگی: پروڈیوسر کی تصدیق
بَافٹا جیتنے کے بعد بیک اسٹیج بات کرتے ہوئے ڈی پیئر نے غزہ کے صحافیوں جابر بدوان اور اوسانہ الاشی کی تعریف کی، جنہوں نے ڈاکیومنٹری کے لیے فوٹیج فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم ’’ہر روز اس فکر میں رہتی تھی کہ زمین پر موجود دونوں صحافی زندہ ہیں یا نہیں۔‘‘