Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’گھوس خور پنڈت‘‘ تنازع:لوگ آج کل ناراض ہونے کیلئے تیار بیٹھے ہیں: منوج باجپائی

Updated: June 10, 2026, 7:03 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ کے معروف اداکار منوج با جپائی نے حالیہ انٹرویو میں موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی حساسیت اور اظہارِ رائے پر عائد غیر رسمی دباؤ کے بارے میں کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے ماحول میں فلم سازوں اور فنکاروں کو غیر ضروری تنازعات سے بچنے کیلئے بہت احتیاط برتنی پڑتی ہے۔

Manoj Bajpayee. Photo: INN
منوج باجپائی۔ تصویر: آئی این این

منوج باجپائی کافی عرصے سے خبروں میں ہیں، ایک طرف اُن کی آنے والی تھریلر فلم’’گورنر‘‘ کی وجہ سے اور دوسری طرف اُن کی پولیس ڈراما فلم کے عنوان پر ہونے والے بڑے تنازع کی وجہ سے، جس کا پہلے نام’’گھوس خور پنڈت‘‘ تھا۔ ’ نیوز۱۸؍ شوشہ ‘کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں جب اُن سے پوچھا گیا، ’’کتنی احتیاط کافی ہوتی ہے؟‘‘ تو انہوں نے جواب دیا:’’بہت دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ ‘‘لوگوں کے آج کل آسانی سے ناراض ہو جانے کے رجحان پر بات کرتے ہوئے منوج باجپائی نے کہا:’’ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں، اور میں پوری دنیا کی بات کر رہا ہوں۔ امریکہ کو دیکھ لیجیے یا کسی اور ملک کو، ہر کوئی جیسے ناراض ہونے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگ کہتے ہوں، `آؤ مجھے ناراض کرو، میں صبح سے بیٹھا ہوں۔ اگر دوپہر بارہ بجے تک کسی نے ناراض نہیں کیا تو آ کر کر دو، تب ہی میں کھانا کھاؤں گا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: مجھے فلم ’’گھوس خور پنڈت‘‘ تنازع کے درمیان دھمکیاں ملی تھیں: منوج باجپائی

اداکار نے مزید کہا کہ جب لوگ ہر بات پر اتنے حساس ہو جائیں تو انسان کو بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔ باجپائی نے کہا:’’ایسے وقت میں انسان کو ہوشیار اور باخبر رہنا پڑتا ہے، کیونکہ آپ نہیں چاہتے کہ اُس فلم کو غیر ضروری توجہ ملے جسے آپ نے خون پسینہ ایک کر کے بنایا ہو۔ فلم صرف ایک شخص کی محنت کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ سب کی محنت شامل ہوتی ہے۔ ہر کسی کی زندگی اور کریئر اس سے جڑا ہوتا ہے۔ ‘‘گفتگو کے اختتام پر بہتر دنیا کی امید ظاہر کرتے ہوئے منوج باجپائی نے کہا:’’ہم ایسے وقت میں رہ رہے ہیں جہاں ہمیں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ لیکن ہم یقیناً ایسے دور کا تصور کرتے ہیں جہاں کوئی بھی کسی بات پر ناراض نہ ہو۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: منوج باجپائی کی ’’گھوس خور پنڈت‘‘ عنوان کے سبب تنازع کا شکار

’’گھوس خور پنڈت‘‘تنازع کیا تھا؟
اس تنازع کا مرکز فلم کا عنوان’’ گھوس خور پنڈت‘‘تھاجس کا مطلب تقریباً ’بدعنوان پنڈت‘ بنتا ہے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ’ پنڈت‘ کا لفظ عموماً برہمن برادری کے ایک معروف لقب یا خاندانی نام کے طور پر استعمال ہوتا ہے، اور اسے منفی کردار کے ساتھ جوڑنا ایک خاص برادری کے بارے میں منفی تاثر پیدا کر سکتا ہے، جو بعض لوگوں کیلئے توہین آمیز ہے۔ تنقید کے بعد فلم کے پروڈیوسرز اور سازندگان نے عوام کے جذبات مجروح ہونے پر معذرت کی اور یقین دہانی کرائی کہ فلم کا عنوان تبدیل کر دیا جائے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK