شام ۵؍بجے بڑی تعداد میں پولیس اسٹیشن پہنچنے کی دھاراوی واسیوں سے اپیل ،پولیس نے دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران کو نوٹس جاری کیا ۔
دھاراوی۔ تصویر:آئی این این
دھاراوی کو جہنم کہنے کے وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس کے بیان کی مذمت میں آج پیر کو سنویدھان چوک پر احتجاج کے اعلان کے بعد ذمہ داران کو دھاراوی پولیس کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس نوٹس میں دفعہ۳۷(۳) اور۱۰(۲) اور دیگر دفعات کے تحت۲۱؍ جولائی تک پولیس کمشنریٹ کے ذریعے حکم امتناعی کے حوالے سے کسی اور جگہ احتجاج کے بجائے آزاد میدان میں احتجاج اور دھرنا وغیرہ کرنے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ انتباہ دیا گیا ہے کہ اگر نظم ونسق کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس کے ذمہ دار دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران ہوں گے اور اس نوٹس کو عدالت میں ان کے خلاف ثبوت کے طور پر پیش کیا جائے گا اور نقصان کی بھرپائی بھی کرائی جائے گی۔دھاراوی پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر ادے سوئیسکر نے نوٹس میں یہ بھی لکھا کہ احتجاج کے لئے اجازت نہیں دی گئی ہے ،اس لئے اس کا خیال رکھئے اور احتجاج کرنے کا ارادہ ترک کردیجئے۔ اس تعلق سے دیگر پولیس اہلکار بھی ذمہ داران کو سمجھا رہے ہیں کہ وہ احتجاج نہ کریں۔
اب تک ایسا ۲۷؍ نوٹس دیا گیا ہے
پولیس کا نوٹس پانے والے الیش گاجا کوش نے بتایا کہ الگ الگ مواقع پر احتجاج کے لئے اب تک ایسے۲۷؍ نوٹس دیئے جاچکے ہیں مگر ہم احتجاج کے اپنے فیصلے پر اٹل ہیں، یہ ہمارا جمہوری حق ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے دھاراوی واسیوں کی توہین کی ہے ، ایک وزیراعلیٰ کے طور پر انہیں ایسا بیان زیب نہیں دیتا ، انہوں نے دھاراوی کی محنت کش عوام کا مذاق اڑایا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم احتجاج کے ذریعے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ غریب عوام اس طرح کی توہین برداشت نہیں کرسکتے اور نہ ہی وہ اسے قبول کریں گے۔ وہ اپنی محنت کے ذریعے دھاراوی ہی نہیں ممبئی اور ریاست کی ترقی میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔ نوٹس پانے والے دوسرے ذمہ دار کامریڈ نصیرالحق نے کہا کہ نوٹس تو ملتا رہتا ہے لیکن ہم اپنے ارادے سے باز آنے والے نہیں کیونکہ یہ دھاراوی واسیوں کی عزت اور ان کے وقار سےجڑا ہوا مسئلہ ہے ، وزیراعلیٰ کو ایسا بیان دینے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس احتجاج کے ذریعے دھاراوی واسی یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ جہنم میں نہیں رہتے ہیں بلکہ جہنم تو اصل میں وہ جگہ ہے جہاں حکومت ان کو منتقل کرنا چاہتی ہے۔ کامریڈ نصیرالحق نے مزید کہا کہ پولیس کا نوٹس دینا معمول کی بات ہے مگر ہم سب آئین کے مطابق آواز بلند کریں گے اور حکومت کے خلاف پرامن طریقے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کریں گے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ اپنا بیان واپس لیں اور دھاراوی واسیوں کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے اور دھاراوی ہی میں ان کی باز آبادکاری کو یقینی بنایا جائے، وہ یہاں سے کہیں جانے والے نہیں۔اس تعلق سے دھاراوی واسیوں سے اپیل ہے کہ وہ آج( پیرکو) شام۵؍ بجے میمورنڈم دینے کے لئے بڑی تعداد میں دھاراوی پولیس اسٹیشن پہنچیں۔