Updated: May 28, 2026, 7:02 PM IST
| Mumbai
یو یو ہنی سنگھ نے انکشاف کیا ہے کہ دو ہارٹ اٹیک، منشیات کے استعمال اور برسوں تک جاری بھاری دواؤں نے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔ گلوکار نے بتایا کہ دواؤں کے باعث ان کے بال مکمل طور پر جھڑ گئے اور اب وہ وِگ استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۴؍ میں منشیات چھوڑنے کے باوجود مکمل صحت یابی میں انہیں تقریباً آٹھ سال لگے۔
یو یو ہنی سنگھ۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی ریپر اور گلوکار یو یو ہنی سنگھ نے اپنی ذہنی صحت، منشیات کی لت اور طویل علاج کے اثرات کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ برسوں کی بھاری دوائیوں کے باعث وہ مکمل طور پر گنجے ہو گئے تھے اور اب وِگ پہنتے ہیں۔ گلوکار نے یہ انکشاف حال ہی میں اے بی ٹاکس پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران کیا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے تاریک دور پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ یو یو ہنی سنگھ ایک وقت میں ہندوستانی پاپ اور ریپ میوزک کے سب سے بڑے ناموں میں شمار ہوتے تھے، لیکن شہرت کے عروج پر ہی وہ اچانک عوامی زندگی سے غائب ہو گئے تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ذہنی صحت کے سنگین مسائل اور منشیات کے استعمال سے نبرد آزما تھے۔
یہ بھی پڑھئے: زویا اختر کے ٹائیگر بے بی آفس میں چوری، ۶۶؍ ہارڈ ڈسک غائب
پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دو ہارٹ اٹیک (بائی پولر ڈس آرڈر) کے علاج کیلئے کئی سال تک جاری دواؤں نے ان کے جسم پر شدید اثرات ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں سات سال تک بھاری دوائیوں پر رہا۔ اس کی وجہ سے میرا وزن ۱۰۵؍ کلو ہو گیا اور میرے بال مکمل طور پر جھڑ گئے۔ یہ جعلی بال ہیں، میں بالکل گنجا ہوں، یہ وِگ ہے۔‘‘ گلوکار نے اعتراف کیا کہ ان کی صحت یابی کا سفر انتہائی طویل اور تکلیف دہ تھا، اور منشیات چھوڑنے کے بعد بھی ذہنی طور پر مستحکم ہونے میں کئی سال لگ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ یقین نہیں کریں گے، لیکن جب میں نے ۲۰۱۴ء میں منشیات کا استعمال چھوڑ دیا، تب بھی مجھے مکمل صحت یاب ہونے میں سات سے آٹھ سال لگے۔‘‘ یویو ہنی سنگھ نے بتایا کہ ان کی حالت اس قدر خراب ہو چکی تھی کہ انہوں نے خود کو دنیا سے مکمل طور پر الگ تھلگ کر لیا تھا۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے اپنی بہن کو فون کیا اور کہا کہ میرے ساتھ کچھ ہو رہا ہے۔ اس نے کہا کہ مجھے پھر بھی شو کرنا ہوگا۔ میں نے دو گانے گائے اور شو کے درمیان میں ہی چلا گیا۔ اس کے بعد میں سات سال تک گھر کے اندر رہا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے چاہنے والے مجھے اس حالت میں دیکھیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’چنری چنری‘ تنازع: واشو بھگنانی کے الزامات پر ٹپس فلمز اور فلم ٹیم کا سخت ردعمل
گلوکار کے مطابق، اس دوران انہوں نے خود کو تقریباً مکمل تنہائی میں رکھا، انہوں نے بتایا کہ ’’میں نے اپنے بچپن کے دوستوں سے بھی ملاقات نہیں کی۔ نہ لوگوں سے بات ہوتی تھی، نہ ٹی وی دیکھتا تھا، نہ انٹرنیٹ استعمال کرتا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ برسوں تک ایک ہی دوائیوں پر رہنے کے باوجود انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں ہو رہا تھا، لیکن بعد میں ڈاکٹر تبدیل کرنے اور علاج میں تبدیلی کے بعد ان کی حالت بہتر ہونا شروع ہوئی۔ ہنی سنگھ نے کہا کہ ’’میں سات سال سے ایک ہی دوا لے رہا تھا اور پھر بھی بہتر نہیں ہو رہا تھا۔ جب میں نے گھر سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا تو میں نے ڈاکٹر بدلا۔ اس نے کچھ دوائیں تبدیل کیں، نئی دوائیں شامل کیں اور خوراک ایڈجسٹ کی۔ صرف چار ہفتوں میں میں بہتر محسوس کرنے لگا۔‘‘ یو یو ہنی سنگھ نے کہا کہ اس کے بعد انہوں نے دوبارہ لوگوں سے ملنا اور معمول کی زندگی کا سامنا کرنا شروع کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’چنری چنری‘‘ ریمیک: ابھیجیت بھٹاچاریہ اور انو ملک کی تنقید
ان کے انکشافات کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں اور کئی شخصیات نے ان کی ایمانداری اور ذہنی صحت کے موضوع پر کھل کر بات کرنے کی تعریف کی ہے۔ کئی صارفین نے کہا کہ عوامی شخصیات کی جانب سے اس طرح کے تجربات شیئر کرنا ذہنی بیماریوں سے متعلق سماجی داغ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ یویو ہنی سنگھ نے گزشتہ چند برسوں میں دوبارہ موسیقی کی دنیا میں واپسی کی ہے اور کئی نئے گانے اور لائیو پرفارمنس بھی دی ہیں، تاہم ان کی یہ گفتگو ان کے مداحوں کیلئے ان کی ذاتی جدوجہد کا ایک غیر معمولی اور جذباتی اعتراف بن کر سامنے آئی ہے۔