ٹی وی شوانوپما میں راہی کپاڈیا کا کردار نبھانے والی ادریجا رائے نے شو میں جاری میل ڈومیسٹک وائلنس (مردوں پر گھریلو تشدد) کے ٹریک پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسے حساس اور کم زیر بحث مسائل کو اجاگر کرنے والے شو کا حصہ ہونے پر فخر ہے۔
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 7:26 PM IST | Mumbai
ٹی وی شوانوپما میں راہی کپاڈیا کا کردار نبھانے والی ادریجا رائے نے شو میں جاری میل ڈومیسٹک وائلنس (مردوں پر گھریلو تشدد) کے ٹریک پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسے حساس اور کم زیر بحث مسائل کو اجاگر کرنے والے شو کا حصہ ہونے پر فخر ہے۔
ٹی وی شوانوپما میں راہی کپاڈیا کا کردار نبھانے والی ادریجا رائے نے شو میں جاری میل ڈومیسٹک وائلنس (مردوں پر گھریلو تشدد) کے ٹریک پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسے حساس اور کم زیر بحث مسائل کو اجاگر کرنے والے شو کا حصہ ہونے پر فخر ہے۔
ادریجا نے بتایا کہ ’’ٹیلی ویژن پر بات چیت شروع کرنے کی بہت طاقت ہے۔ انو پما جیسے مقبول شو حقیقی سماجی مسائل دکھا کر لوگوں میں آگاہی پھیلاتے ہیں۔ گھریلو تشدد کے بارے میں زیادہ تر خواتین کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں جو ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ مرد بھی جسمانی اور ذہنی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ اکثر وہ خاموش رہتے ہیں کیونکہ انہیں شرم آتی ہے یا معاشرے میں جج ہونے کے خوف سے بات نہیں کرتے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے:ٹی وی کی ’گوپی بہو‘دیوولینا بھٹّاچارجی نے شوہر کے ساتھ افطار کیا
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس پہلو کو بھی تسلیم کرنا بہت ضروری ہے۔ ادریجا کو انوپما کے میکرز کی سب سے اچھی بات یہی لگتی ہے کہ وہ سماجی موضوعات کو صرف ڈرامہ کے لیے نہیں لاتے بلکہ ہر ٹریک کے ذریعے ایک مثبت اور بامعنی پیغام دیتے ہیں۔ ادریجا نے بتایا کہ ’’میکرز اپنی کہانیاں بہت احتیاط سے منتخب کرتے ہیں۔ ہر ٹریک کا حقیقی زندگی سے تعلق ہوتا ہے کچھ ایسا جو لوگ اپنے گھروں یا رشتوں میں روز محسوس کرتے ہیں۔ انو پماجیسے شو ان لوگوں کو حوصلہ دیتے ہیں جو ایسے حالات میں تنہا اور خاموش پریشان ہوتے ہیں۔ جب ناظرین اسکرین پر ایسی کہانیاں دیکھتے ہیں، تو انہیں لگتا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ اس سے انہیں بولنے یا مدد مانگنے کی ہمت ملتی ہے۔ یہی کہانی سنانے کی اصل طاقت ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:کارلوس الکاراز کا قطر اوپن کے خطاب پر قبضہ
اداکارہ مانتی ہیں کہ اداکاروں اور تخلیق کاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کا سمجھداری سے استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر ہم کسی کی زندگی میں چھوٹا سا بھی فرق لا سکیں یا انہیں یہ محسوس کرا سکیں کہ ان کی بات سنی جا رہی ہے، تو ہمارا کام معنی خیز ہو جاتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ ہمارا شو روزمرہ کے ان مسائل کو دکھاتا رہتا ہے جو واقعی موجود ہیں، لیکن جن پر کھل کر بات کم ہوتی ہے۔‘‘