Inquilab Logo Happiest Places to Work

این آئی اے عدالت نے۳۳؍سال پرانے بغاوت مقدمے میں ۷۸؍ سالہ محمد نعیم کو بری کردیا

Updated: August 02, 2026, 3:03 PM IST | Lucknow

اتر پردیش میں ۳۳؍ سال پرانے بغاوت کے مقدمے میں خصوصی این آئی اے عدالت نے۷۸؍ سالہ محمد نعیم کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف قابلِ اعتماد شواہد پیش کرنے اور الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

NIA special court. Photo: INN
این آئی اے کی خصوصی عدالت۔ تصویر: آئی این این

لکھنؤ کی ایک خصوصی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) عدالت نے۳۳؍ سال پرانے بغاوت کے مقدمے میں ۷۸؍سالہ محمد نعیم کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ استغاثہ اپنے الزامات کو معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا اور ملزم کو مبینہ جرم سے جوڑنے والا اہم ثبوت بھی پیش نہیں کر سکا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج اور خصوصی جج (این آئی اے) اوماکانت جندل نے۳۱؍ جولائی کو فیصلہ سناتے ہوئے اتر پردیش کے ضلع گورکھپور کے علاقے اسماعیل پور کے رہائشی محمد نعیم کو تعزیراتِ ہند کی دفعات۱۲۴؍ اے (بغاوت)، ۲۹۵؍ اے (مذہبی جذبات مجروح کرنا) اور۱۵۳؍ بی (قومی یکجہتی کے خلاف الزامات و بیانات) کے تحت قائم مقدمے سے بری کر دیا۔ یہ مقدمہ۱۹۹۳ء میں گورکھپور کے کوتوالی تھانے میں درج کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: کولگام میں غیر مقامی مزدوروں کے قتل کی پُرزور مذمت

۱۹۹۳ءکے یومِ جمہوریہ کے واقعے سے متعلق مقدمہ
استغاثہ کے مطابق۲۶؍ جنوریو۱۹۹۳ءکو اُس وقت کے کوتوالی انسپکٹر پون کمار سنگھ اور دیگر پولیس اہلکار گشت پر تھے، جب انہوں نے مبینہ طور پر اسماعیل پور میں کچھ افراد کو سیاہ جھنڈے لہراتے اور ’’پاکستان زندہ باد‘‘ اور ’’ریپبلک ڈے مردہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے دیکھا۔ ایف آئی آر میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ ملزمان نے بابری مسجد کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت میں ’’ایک اور پاکستان‘‘ بنانے کی بات کی اور ایسی تقاریر کیں جن سے فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ ملا۔ پولیس کے مطابق ملزمان گرفتاری سے پہلے ہی فرار ہو گئے تھے، جبکہ جائے وقوعہ سے چار سیاہ جھنڈے برآمد کئے گئے۔ بعد ازاں محمد نعیم، محمد یوسف، عطا اللہ اور دیگر افراد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: نوجوان طلبہ کے بعد نوعمر طلبہ کا احتجاج

عدالت نے استغاثہ کے مقدمے میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی
عدالت نے اپنے فیصلے میں استغاثہ کے مقدمے میں متعدد قانونی اور شواہد سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کی۔ عدالت نے کہا کہ جائے وقوعہ سے مبینہ طور پر برآمد ہونے والے سیاہ جھنڈے کبھی عدالت میں پیش نہیں کئے گئے اور نہ ہی ان کی برآمدگی ثابت کرنے کیلئے کوئی باقاعدہ ضبطی میمو (Seizure Memo) پیش کیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ استغاثہ کے اہم گواہ کانسٹیبل درویجے سنگھ نے جرح کے دوران اعتراف کیا کہ پولیس کے موقع پر پہنچنے تک مبینہ طور پر نعرے لگانے والے افراد فرار ہو چکے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ’تمہیں ماردیں گے،تمہارا ریپ کریں گے‘:خواتین مظاہرین کو دھمکیاں، ایف آئی آر، آن لائن ہراسانی کا سامنا

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ شکایت کنندہ انسپکٹر پون کمار سنگھ کا صرف ابتدائی بیان (Examination-in-Chief) ریکارڈ کیا گیا، لیکن متعدد مواقع دیئے جانے کے باوجود انہیں جرح کیلئے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ دوسرے تفتیشی افسر نے بھی عدالت کو بتایا کہ انہوں نے نہ تو جائے وقوعہ کا دورہ کیا، نہ کسی نئے گواہ کا بیان قلم بند کیا، بلکہ صرف پہلے تفتیشی افسر کے جمع کردہ مواد کی بنیاد پر چارج شیٹ داخل کر دی۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب استغاثہ کے گواہوں کے مطابق تمام مبینہ ملزمان پولیس کی آمد سے پہلے فرار ہو چکے تھے تو پولیس نے محمد نعیم اور دیگر افراد کی شناخت کس بنیاد پر کی؟ عدالت نے یہ بھی کہا کہ محمد نعیم کو واقعے سے جوڑنے کیلئے کوئی آزاد گواہ پیش نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: حکومت مخالفین کو خاموش کرنے کیلئے ہرقانون اور حربہ استعمال کررہی ہے: سابق جج

دفاع کا مؤقف
محمد نعیم کے وکیل راہول سونکر کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش کئی برس تک جاری رہی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے تفتیشی افسر نے ۲۰۰۳ء میں ناکافی شواہد کی بنیاد پر حتمی رپورٹ (فائنل رپورٹ) جمع کرائی تھی، تاہم اس کے مسترد ہونے کے بعد دوسرے تفتیشی افسر نے ۲۰۰۵ء میں کوئی نیا ثبوت حاصل کئے بغیر چارج شیٹ داخل کر دی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران شریک ملزمان محمد یوسف اور عطا اللہ کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد محمد نعیم واحد زندہ ملزم رہ گئے تھے جنہیں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھئے: مَیں گمراہ نوجوانوں کو معاف کرتا ہوں: نریندر مودی کا طلبہ مظاہرین سے متعلق پیغام

’’آج مجھے انصاف مل گیا‘‘
فیصلہ سنائے جانے کے بعد محمد نعیم جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے ٹائمز آف انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’اب مجھے امید ہے کہ لوگ مجھے ملک دشمن کہنا بند کر دیں گے۔ ۳۳؍ برس تک میں سب کو یہی کہتا رہا کہ میں بے قصور ہوں اور مجھے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔ آج مجھے انصاف مل گیا ہے۔ ‘‘عدالت نے محمد نعیم کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے ان کے ضمانتی مچلکے منسوخ کر دیئے، تاہم، ضابطۂ فوجداری کی دفعہ۴۳۷؍ اےکے تحت قانونی ضمانتی بانڈ کو آئندہ چھ ماہ تک برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK