Inquilab Logo Happiest Places to Work

شمالی کوریا کے کھلاڑی ۱۲؍ سال بعد پہلی بار جنوبی کوریا میں مقابلہ کریں گے

Updated: May 04, 2026, 7:14 PM IST | Seoul

ناےگوہیانگ ویمنز ایف سی ۲۰؍ مئی کو ایشین فٹبال کنفیڈریشن ویمنز چیمپئن لیگ کے سیمی فائنل میں سوون ایف سی ویمنز کا سامنا کرے گی۔

Football.Photo:INN
فٹبال۔ تصویر:آئی این این

ناےگوہیانگ ویمنز ایف سی ۲۰؍ مئی کو ایشین فٹبال کنفیڈریشن ویمنز چیمپئن لیگ کے سیمی فائنل میں سوون ایف سی ویمنز کا سامنا کرے گی۔ شمالی کوریا۱۲؍ سال بعد پہلی بار اپنے کھلاڑیوں کو جنوبی کوریا میں مقابلہ کرنے کے لیے بھیجے گا، ایک اہلکار نے پیر کے روز انادولو کو بتایا۔شمالی کوریا کی خواتین فٹبال کلب اس ماہ کے آخر میں جنوبی کوریا میں ہونے والے ایک علاقائی ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گا، جو دونوں ممالک کے درمیان ایک نایاب اسپورٹس تبادلہ ہے۔
جنوبی کوریا کی فٹبال کی گورننگ باڈی کوریا فٹبال ایسوسی ایشن (کے ایف اے) نے بتایا کہ ناےگوہیانگ ویمنز ایف سی انچیون انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے بیجنگ سے سفر کرتے ہوئے ۱۷؍ مئی کو سوون پہنچے گا، جو سیئول سے تقریباً ۳۰؍ کلومیٹر (۱۹؍ میل) جنوب میں واقع ہے، تاکہ ۲۰؍ مئی کو سوون اسٹیڈیم میں ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) ویمنز چیمپئن لیگ کے سیمی فائنل میں سوون ایف سی ویمنز کا مقابلہ کرے۔ اس ٹیم میں ۲۷؍ کھلاڑی اور ۱۲؍ کلب اسٹاف شامل ہیں۔ چیمپئن شپ کا فائنل ۲۳؍ مئی کو اسی سوون مقام پر کھیلا جائے گا۔ناےگوہیانگ نے۱۲؍  نومبر کو میانمار میں گروپ اسٹیج میچ میں سوون ایف سی ویمنز کو ۰۔۳؍گول سے شکست دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:پروپیگنڈافلم بنانے میں کیا غلط ہے؟ جاوید اختر نے’’دُھرندھر‘‘ کا دفاع کیا


۲۰۰۵ء اور ۲۰۱۳ءمیں شمالی کوریا کی خواتین قومی ٹیم نے مشرقی ایشیائی فٹبال فیڈریشن(ای اے ایف ایف) ای وَن  ویمنز فٹبال چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے جنوبی کوریا کا دورہ کیا تھا۔سیئول میں وزارتِ اتحاد کے ایک اہلکار کے مطابق، شمالی کوریا نے آخری بار ۲۰۱۴ء میں اپنی خواتین فٹبال ٹیم جنوبی کوریا بھیجی تھی۔ اس وقت ٹیم نے ۲۰۱۴ء کے ایشین گیمز میں حصہ لیا تھا، جو انچیون میں منعقد ہوئے تھے، جو سیئول کے قریب ایک شہر ہے۔ یہ ۱۲؍سال میں پہلی بار ہوگا کہ شمالی کوریا کی کوئی ٹیم جنوبی کوریا کا دورہ کرے گی، اہلکار نے انادولو کو ایک ٹیکسٹ پیغام میں تصدیق کی۔ شمالی کوریا کی ٹیم نے اس ایونٹ میں جاپان کو شکست دے کر طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔ جنوبی کوریا نے بھی ۲۰۱۹ء  اور۲۰۲۵ء میں ایف اے ایف ایف مقابلے کی میزبانی کی تھی، لیکن شمالی کوریا نے دونوں ایونٹس سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:القادسیہ کے ہاتھوں النصر کو شکست:خطاب کی امیدوں کو شدید جھٹکا


یاد رہے کہ دونوں پڑوسی ممالک۵۳۔۱۹۵۰ء کی جنگ کے بعد سے تکنیکی طور پر تاحال حالتِ جنگ میں ہیں، کیونکہ جنگ کا خاتمہ کسی امن معاہدے کے بجائے صرف ایک عارضی جنگ بندی پر ہوا تھا۔ ایسے حالات میں کھیلوں یا ثقافتی وفود کا تبادلہ نہایت کم دیکھنے میں آتا ہے۔ شمالی کوریا کی کسی بھی ٹیم کا جنوبی کوریا کا یہ پہلا دورہ ہے جو ۲۰۱۸ء کے بعد ہو رہا ہے۔ خواتین فٹ بال کی سطح پر، شمالی کوریا کی قومی ٹیم آخری بار ۲۰۱۴ء میں انچیون ایشین گیمز کے لیے جنوبی کوریا آئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK