Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹموتھی شالامے کے متنازع بیان کے بعد اوپیرا ہاؤس کو فائدہ، ٹکٹ فروخت میں اضافہ

Updated: April 16, 2026, 9:54 PM IST | London

ہالی ووڈ اداکار ٹموتھی شالامے کے بیلے اور اوپیرا سے متعلق متنازع بیان کے بعد شدید تنقید سامنے آئی، تاہم رائل بیلے اینڈ اوپیرا کے سربراہ نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع سے ٹکٹ فروخت اور دلچسپی میں اضافہ ہوا۔

Hollywood actor Timothée Chalamet. Photo: INN
ہالی ووڈ اداکار ٹموتھی شالامے۔ تصویر: آئی این این

بیلے اور اوپیرا جیسے روایتی فنون پر اپنے متنازع تبصروں کے باعث شدید تنقید کا سامنا کرنے والے ہالی ووڈ اداکار ٹموتھی شالامے کو اب غیر متوقع طور پر حمایت بھی مل گئی ہے۔ برطانیہ کے ممتاز ادارے رائل بیلے اینڈ اوپیرا کے سربراہ ایلکس بیئرڈ نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا کہ اداکار کے بیان نے نہ صرف توجہ حاصل کی بلکہ ادارے کیلئے فائدہ مند بھی ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے جان بوجھ کر ان کے خلاف کوئی جارحانہ ردعمل نہیں دیا، بلکہ ہم نے صرف یہ دکھایا کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔‘‘

بیئرڈ کے مطابق، تنازع کے بعد ادارے کو عوام کی جانب سے ’’شاندار ردعمل‘‘ ملا اور خاص طور پر نوجوانوں کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’ہمارے ناظرین کی عمروں کی حد ۲۰؍ سے ۳۰؍ سال کے درمیان ہے، اور انسٹاگرام اور ٹکٹ فروخت دونوں میں فوری اضافہ دیکھا گیا۔‘‘ یاد رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ٹموتھی شالامے نے اپنی فلم کی تشہیر کے دوران ایک گفتگو میں کہا کہ ’’میں بیلے اینڈ اوپیرا میں کام نہیں کرنا چاہتا… ایسی چیزیں جہاں کہا جائے کہ اسے زندہ رکھو، حالانکہ اب کسی کو اس کی پروا نہیں ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کنگنا رناوت نے ۸؍ گھنٹے شفٹ تنازع پر دپیکا پڈوکون کی حمایت کی

اگرچہ انہوں نے فوراً نرمی اختیار کی کہ ’’بیلے اینڈ اوپیرا کے لوگوں کیلئے مکمل احترام ہے،‘‘ لیکن اس کے باوجود ان کے الفاظ نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔ اداکار نے بعد میں اس تنازع پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاید اس بیان کے بعد ’’میرے ناظرین کی تعداد (معمولی طور پر) کم ہو جائے گی۔‘‘

یہ ریمارکس ایک عوامی گفتگو کے دوران سامنے آئے، جس میں وہ میتھیو میکونجے کے ساتھ موجود تھے اور فلمی صنعت کے مستقبل پر بات کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر اس بیان کے بعد کئی فنکاروں اور مبصرین نے ٹموتھی شالامے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ کچھ حلقوں نے اسے روایتی فنون کی توہین قرار دیا۔ یہاں تک کہ ایوارڈ تقریبات کے دوران بھی ان پر طنزیہ تبصرے کئے گئے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’گیم آف تھرونز‘‘ فلم کا اعلان، ’’ایگونز کونکویسٹ‘‘ عارضی عنوان

تاہم، اس پورے واقعے کا ایک مختلف پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ تنازع نے بیلے اور اوپیرا جیسے فنون کو نئی توجہ دلائی، خاص طور پر نوجوان نسل میں۔ ماہرین کے مطابق، اس طرح کے تنازعات اکثر ثقافتی مباحث کو دوبارہ زندہ کرتے ہیں اور ان فنون کو نئی زندگی دے سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK