Updated: October 29, 2026, 4:19 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکارہ دیویہ دتہ کا کہنا ہے کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے فلموں اور ویب سیریز میں کہانی سنانے کے انداز کو بدلنے کے ساتھ خواتین کے کرداروں کو بھی ایک نئی پہچان دی ہے۔ ان کے مطابق، اب ایسی کہانیوں کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جن سے ناظرین خود کو جوڑ سکیں۔
دیویہ دتہ۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ اداکارہ دیویہ دتہ کا کہنا ہے کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے فلموں اور ویب سیریز میں کہانی سنانے کے انداز کو بدلنے کے ساتھ خواتین کے کرداروں کو بھی ایک نئی پہچان دی ہے۔ ان کے مطابق، اب ایسی کہانیوں کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جن سے ناظرین خود کو جوڑ سکیں۔ خاص طور پر خواتین کے کرداروں میں یہ تبدیلی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ پہلے جہاں اداکاراؤں کو ایک مخصوص عمر تک ہی مرکزی کردار ادا کرنے کے مواقع ملتے تھے، وہیں اب ۴۰؍ سال کی عمر کے بعد بھی انہیں مضبوط، حقیقت پسندانہ اور مختلف پہلوؤں کے حامل کردار مل رہے ہیں۔دیویہ دتہ نے ایک انٹرویومیں کہا کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے آغاز کے بعد کہانی اور کرداروں کی گہرائی پر زیادہ توجہ دی جانے لگی ہے۔ اب ایسی حقیقی کہانیاں پیش کی جا رہی ہیں جن میں عام زندگی کے تجربات، جذبات اور مسائل کی عکاسی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، او ٹی ٹی نے مختلف عمر کی خواتین کے لیے بہتر کرداروں کے دروازے کھولے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ناروے کے گلوکار ولیم گیمبورگ لاہور میں پاکستانی گانے گا کر سوشل میڈیا پر وائرل
اداکارہ نے کہا کہ اب۲۰، ۳۰؍یا ۴۰؍ سال سے زیادہ عمر کی خواتین کے لیے بھی ایسے کردار لکھے جا رہے ہیں جن میں اداکاری کے بھرپور مواقع موجود ہیں۔ ماضی میں یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ اس عمر کی خواتین کو کسی فلم یا کہانی میں مرکزی کردار مل سکتا ہے، لیکن اب ان کے کرداروں میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ گہرائی، حقیقت پسندی اور جذباتی پیچیدگی دکھائی دیتی ہے۔دیویہ دتہ کے مطابق، او ٹی ٹی نے کرداروں کے ذریعے انسانی رویوں اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی مشکل صورت حال میں ہر شخص کا ردعمل مختلف ہو سکتا ہے۔ غصہ کرنا یا کوئی غلطی کر بیٹھنا کسی انسان کو مکمل طور پر اچھا یا برا ثابت نہیں کرتا، کیونکہ ہر شخص کی شخصیت میں کئی پہلو موجود ہوتے ہیں۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے کرداروں کی اسی پیچیدگی کو کہانیوں میں جگہ دی ہے اور معیاری تحریر کو فروغ دیا ہے۔ اب فلموں اور ویب سیریز میں ایسے کردار بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو روایتی طور پر مکمل طور پر اچھے یا برے نہیں ہوتے، بلکہ ان کے فیصلوں، جذبات اور رویوں کے پیچھے مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ دویا دتہ نے کہا کہ ناظرین نے بھی کہانیوں میں آنے والی اس تبدیلی کو پسند کیا ہے۔ ان کے مطابق، او ٹی ٹی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ناظرین اپنی سہولت، پسند اور وقت کے مطابق تفریحی مواد دیکھ سکتے ہیں۔ وہ چاہیں تو اکیلے دیکھیں یا خاندان کے ساتھ بیٹھ کر فلموں اور ویب سیریز سے لطف اندوز ہوں۔
یہ بھی پڑھئے:رام چرن کی فلم’ ’دی انڈیا ہاؤس‘‘ سے سائی مانجریکر کا پہلا لُک جاری
انہوں نے کہا کہ جب ناظرین کو مواد دیکھنے کے معاملے میں اس قدر آزادی ملتی ہے تو تفریحی صنعت میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ اس آزادی نے نہ صرف کہانیوں کے انتخاب کو وسیع کیا ہے بلکہ تخلیق کاروں کو بھی نئے موضوعات اور مختلف طرز کے کردار پیش کرنے کا موقع دیا ہے۔ دویا دتہ کے مطابق، او ٹی ٹی پر معیاری کہانیاں اور مضبوط کردار دیکھنے کے بعد ناظرین کی توقعات سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی فلموں سے بھی بڑھ گئی ہیں۔ اب لوگ بڑے پردے پر بھی ایسے کردار دیکھنا چاہتے ہیں جن میں گہرائی، حقیقت پسندی اور جذباتی اثر موجود ہو۔انہوں نے اس تبدیلی کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ناظرین اب صرف تفریح ہی نہیں بلکہ ایسی کہانیاں بھی چاہتے ہیں جو انہیں متاثر کریں، سوچنے پر مجبور کریں اور حقیقی زندگی سے جڑی محسوس ہوں۔
دیویہ دتہ کی رائے میں، او ٹی ٹی کی مقبولیت نے فلم سازوں اور کہانی نویسوں کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ خواتین کے کرداروں کو زیادہ اہمیت ملنا، مختلف عمر کی اداکاراؤں کے لیے مواقع بڑھنا اور انسانی شخصیت کے پیچیدہ پہلوؤں کو کہانیوں میں شامل کرنا اس تبدیلی کے نمایاں اثرات ہیں۔ اس رجحان نے فلمی دنیا میں کہانی اور اداکاری کے معیار کے حوالے سے ناظرین کی توقعات کو بھی نئی شکل دی ہے۔