Updated: July 13, 2026, 7:05 PM IST
| Tehran
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران پہلی صف میں بیٹھے ایک پراسرار ماسک پہنے شخص نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی تھی۔ ابتدا میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ یہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای ہیں، تاہم ایک ایرانی میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ شخصیت دراصل ان کے سب سے بڑے پوتے محمد جواد خامنہ ای ہیں، جو مبینہ طور پر حالیہ حملوں میں زخمی ہوئے تھے۔ اگرچہ اس دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی، لیکن اس نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران پہلی صف میں بیٹھے ماسک پہنے ایک پراسرار شخص کی شناخت سے متعلق جاری قیاس آرائیوں کے درمیان ایک نئی میڈیا رپورٹ سامنے آئی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ شخصیت خامنہ ای کے سب سے بڑے پوتے محمد جواد خامنہ ای ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد منعقد ہونے والی نمازِ جنازہ میں سیاہ رنگ کا ماسک، سیاہ بیس بال کیپ اور سیاہ لباس پہنے ایک شخص کی موجودگی نے عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر لی تھی۔ اس کی شناخت کے بارے میں مختلف اندازے لگائے جا رہے تھے، جن میں سب سے زیادہ یہ قیاس آرائی سامنے آئی کہ شاید وہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای ہیں، جنہیں طویل عرصے سے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حملوں کے بعدایران سخت، آبنائے ہرمز پھر بند
تاہم، ایرانی خبر رساں ادارے ایران انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نقاب پوش شخص دراصل محمد جواد خامنہ ای ہیں، جو آیت اللہ علی خامنہ ای کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای کے بیٹے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق محمد جواد خامنہ ای مبینہ طور پر ۲۸؍ فروری کو ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے چہرے پر گہرے زخم اور جھلسنے کے نشانات آئے تھے، جس کے باعث انہوں نے آخری رسومات میں شرکت کے دوران اپنا چہرہ سیاہ ماسک سے ڈھانپ رکھا تھا۔ تاہم اس دعوے کی ایرانی حکومت یا خامنہ ای خاندان کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے، جس کے باعث اس معاملے پر اب بھی مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امداد میں تخفیف سے دس لاکھ ضرورتمند خواتین و لڑکیاں متاثر: یو این ویمن
دوسری جانب خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودہ حالت بھی بدستور موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ بھی انہی حملوں میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق حملے کے وقت مجتبیٰ خامنہ ای اسی رہائش گاہ میں موجود تھے جہاں آیت اللہ خامنہ ای پر فضائی حملہ کیا گیا، تاہم وہ الگ کمرے میں ہونے کی وجہ سے بچ گئے۔ بعد ازاں قبرص میں ایران کے سفیر علی رضا سالاریان نے بتایا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ہاتھ، بازو اور ٹانگ پر چوٹیں آئی تھیں اور وہ زیر علاج رہے۔ رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملوں کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر نظر نہیں آئے اور نہ ہی انہوں نے کوئی خطاب کیا۔ بعض آسٹریلوی میڈیا اداروں کے مطابق وہ مبینہ طور پر ہاتھ سے لکھے گئے پیغامات کے ذریعے ایرانی فوجی قیادت اور اعلیٰ مذہبی شخصیات سے رابطے میں رہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے۲؍طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب تعینات کئے
آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین ملک بھر میں چھ روز تک جاری رہے سوگ کے بعد انجام دی گئی۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی اور سیکوریٹی خدشات کے باعث بڑے عوامی جنازے کے انعقاد میں تاخیر ہوئی، جس کے نتیجے میں تدفین کئی ماہ بعد عمل میں آئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان کے قومی پرچم میں لپٹے تابوت کو ان کے آبائی شہر مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے تک لے جایا گیا، جبکہ حکومتی دعوے کے مطابق ملک بھر میں منعقد ہونے والی سوگواری کی تقریبات میں تقریباً ۴؍ کروڑ ۳۰؍ لاکھ افراد نے شرکت کی۔ ماسک پہنے شخص کی شناخت سے متعلق سامنے آنے والی تازہ رپورٹ نے اگرچہ نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم اس کی آزاد ذرائع یا سرکاری سطح پر تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی، جس کے باعث اس معاملے پر حتمی تصویر واضح ہونا باقی ہے۔