اداکارہ نے کہا کہ اگر کسی فلم میں کردار کی پیشکش یا کسی منظر سے اختلاف ہو تو فنکار کو فلم چھوڑنے کا حق حاصل ہے، ’’کیسری چیپٹر ۲‘‘ کی تشہیر میں نظرانداز کیے جانے کا بھی کیا انکشاف۔
EPAPER
Updated: November 05, 2026, 10:03 PM IST | Mumbai
اداکارہ نے کہا کہ اگر کسی فلم میں کردار کی پیشکش یا کسی منظر سے اختلاف ہو تو فنکار کو فلم چھوڑنے کا حق حاصل ہے، ’’کیسری چیپٹر ۲‘‘ کی تشہیر میں نظرانداز کیے جانے کا بھی کیا انکشاف۔
بالی ووڈ اور جنوبی ہند کی فلمی صنعت میں اداکاراؤں کے کرداروں کی پیشکش، خواتین کی عکاسی اور فلموں میں ان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر جاری بحث کے درمیان اداکارہ ریجینا کیسینڈرا نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اداکارہ جھانوی کپور کے فلم ’’پیدی‘‘ سے متعلق بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ہند کی فلم انڈسٹری کے بارے میں اس طرح گفتگو کرنے سے شمالی اور جنوبی فلمی صنعت کے درمیان پہلے سے موجود خلیج مزید وسیع ہوسکتی ہے۔ ریجینا نے واضح کیا کہ وہ خواتین کے اپنے تجربات بیان کرنے کی حمایت کرتی ہیں، لیکن ان کے خیال میں انفرادی واقعات کو کسی پورے خطے کی فلمی صنعت سے جوڑنا درست نہیں۔ انہوں نے اس بحث کے دوران فلم ’’کیسری چیپٹر ۲‘‘ میں اپنے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعہ کا بھی ذکر کیا اور الزام لگایا کہ فلم میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود انہیں تشہیری مہم میں مناسب جگہ نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:گوگل نے بھی ۵؍ممالک کے ملازمین کو رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کی پیشکش کی
ریجینا کیسینڈرا نے انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جھانوی کپور کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی اداکار یا اداکارہ کو کسی منظر، کردار یا فلم میں اپنی پیشکش سے پریشانی ہو تو اسے اپنی بات رکھنے اور ضرورت پڑنے پر فلم چھوڑنے کا حق استعمال کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق فنکاروں کو یہ محسوس نہیں کرنا چاہیے کہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ریجینا نے کہا کہ وہ ایک خاتون ہونے کے ناطے دوسری خواتین کے تجربات کی حمایت کرتی ہیں، لیکن جھانوی کپور اور رادھیکا آپٹے جیسی اداکارائیں اپنے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ اگر انہیں کسی بات پر اعتراض تھا تو وہ فلم سازوں کے سامنے اپنی تشویش رکھ سکتی تھیں یا اس پروجیکٹ سے الگ ہوسکتی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو مرد اور عورت کے درمیان تنازع کے طور پر نہیں دیکھتیں، بلکہ ان کے نزدیک یہ فنکاروں کے اختیار، فیصلوں اور پیشہ ورانہ ذمہ داری سے متعلق مسئلہ ہے۔
ریجینا کا سب سے سخت ردعمل اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے جھانوی کپور کے جنوبی ہند کی فلموں سے متعلق تبصروں پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب شمالی ہند کی کوئی اداکارہ جنوبی ہند کی فلم انڈسٹری کے بارے میں اس انداز میں بات کرتی ہے تو اس سے ایک علاقائی تقسیم کو تقویت ملنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ ریجینا نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں کہ کسی ایک اداکارہ کے تجربے کو پوری جنوبی ہند کی فلم انڈسٹری کی نمائندگی سمجھ لیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی گفتگو سے شمالی اور جنوبی فلمی صنعت کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
ان کے مطابق اس طرح کے مسائل پر بات کرنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں اور خواتین کو اپنے تجربات بیان کرنے کا پورا حق ہے، لیکن اس گفتگو کو علاقائی اختلافات کی شکل نہیں دینی چاہیے۔ ریجینا نے یہ بھی کہا کہ وہ خود جنوبی ہند کی اداکارہ ہیں اور ہندی فلموں میں بھی کام کرتی ہیں، اس لیے وہ اس معاملے کو دونوں صنعتوں کے نقطۂ نظر سے سمجھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کیا رونالڈوآخری الوداعی میچ کھیلنے کے لیے دوبارہ میدان میں اتریں گے؟
اس بحث کے دوران ریجینا نے اپنی فلم ’’کیسری چیپٹر ۲‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پروڈکشن ہاؤس دھرما پروڈکشنز اور فلم ساز کرن جوہر سے متعلق اپنی شکایت بھی سامنے رکھی۔ ریجینا کے مطابق انہوں نے اکشے کمار کی اہلیہ کا اہم کردار ادا کیا تھا، لیکن فلم کی تشہیری مہم میں انہیں مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ فلم کے ایک گانے میں وہ ابتدا سے آخر تک نظر آتی ہیں، لیکن جب اس گانے کو سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا تو نہ تو انہیں ٹیگ کیا گیا اور نہ ہی اس بارے میں انہیں کوئی اطلاع دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج تک انہیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ فلم کی تشہیر کے دوران ان کے نام اور کردار کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔
ریجینا نے سوال اٹھایا کہ اگر جھانوی کپور اپنے کردار کی پیشکش کو اعتراض کا موضوع بنا سکتی ہیں تو پھر ان کے ساتھ ہونے والے مبینہ سلوک پر بھی بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا انہیں جنوبی ہند سے تعلق رکھنے کی وجہ سے نظرانداز کیا گیا؟ تاہم اس معاملے میں دھرما پروڈکشنز کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے آنے کی اطلاع نہیں ہے۔ واضح رہے کہ جھانوی کپور نے فلم ’پیڈی‘ میں اپنے کردار کی پیشکش اور اس سے متعلق تنازع پر حال ہی میں کرن جوہر کے مقبول شو ’’کافی ود کرن‘‘ کے سیزن ۹؍ میں بات کی تھی۔ اس موقع پر ان کے ساتھ اداکار ورون دھون بھی موجود تھے۔
جھانوی نے اعتراف کیا تھا کہ فلم میں ان کے کردار کی عکاسی میں حد سے زیادہ جسمانی نمائش اور اعتراض کے قابل پہلو موجود تھے۔ ان کے مطابق انہیں اس معاملے میں زیادہ محتاط رہنا چاہیے تھا اور جہاں ضرورت تھی وہاں انہیں زیادہ مضبوطی سے اپنا اعتراض درج کرانا چاہیے تھا۔اداکارہ نے یہ بھی کہا تھا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران انہیں ہر منظر کی مکمل تفصیلات اور اس کی عکس بندی کے انداز کے بارے میں ہمیشہ پہلے سے معلومات نہیں ہوتی تھیں۔ ان کے مطابق جنوبی ہند کی فلموں میں تفصیلی اور مکمل اسکرپٹ ہر بار فراہم نہیں کیا جاتا اور بعض اوقات اداکاروں کو کیمرے کے زاویوں اور منظر کی حتمی پیشکش کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ جھانوی نے اپنے تجربے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس بات کا احساس رہے گا کہ وہ اس معاملے میں مزید احتیاط برت سکتی تھیں اور فلم میں اپنے کردار کی پیشکش کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں آواز اٹھا سکتی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے:سیف علی خان نے’ جین زی‘ کے نئے اداکاروں میں سارہ اور ابراہیم کانام نہیں لیا
اس تنازع میں اداکارہ رادھیکا آپٹے کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں تیلگو فلم میں کام کرنے کے اپنے تجربے کا ذکر کیا تھا، جس میں ان کے کردار کی شادی ان کے ماموں سے دکھائی گئی تھی اور انہیں اپنے سے کافی زیادہ عمر کے اداکار کے ساتھ کام کرنا پڑا تھا۔رادھیکا نے اس تجربے کو مشکل قرار دیتے ہوئے فلم کے کردار اور اس میں موجود پدرشاہی سوچ پر تنقید کی تھی۔ اگرچہ انہوں نے فلم کا نام نہیں بتایا، لیکن ناظرین نے ان کے بیان کو اداکار ننداموری بالاکرشنا کی ۲۰۱۴ء کی فلم ’لیجنڈ‘ سے جوڑا۔ اس بیان کے بعد جنوبی ہند کی فلموں میں خواتین کے کرداروں اور ان کی پیشکش سے متعلق بحث مزید تیز ہوگئی۔
ریجینا کیسینڈرا کے بیان کے بعد یہ معاملہ محض جھانوی کپور کے ایک فلمی کردار تک محدود نہیں رہا بلکہ فلمی صنعت میں خواتین کی نمائندگی، اداکاراؤں کے اختیار، اسکرپٹ کی فراہمی، شوٹنگ کے طریقۂ کار اور فلموں کی تشہیر میں فنکاروں کو ملنے والی اہمیت جیسے موضوعات بھی بحث کا حصہ بن گئے ہیں۔ ریجینا نے جہاں خواتین کو اپنے تجربات بیان کرنے کی حمایت کی، وہیں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے معاملات کو شمالی اور جنوبی ہند کی فلمی صنعتوں کے درمیان تنازع کی شکل نہیں دینی چاہیے۔ ان کے مطابق فلمی دنیا میں خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بات ہونی چاہیے، لیکن اس کے لیے کسی ایک پوری فلمی صنعت کو نشانہ بنانا مناسب نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ ریجینا کیسینڈرا جلد ہی نین تارا کی فلم ’’موکوتھی امّن ۲‘‘ میں نظر آنے والی ہیں، جس کی ہدایت کاری سندر سی نے کی ہے۔ اس فلم کی ریلیز ۶؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو متوقع ہے۔