نیٹ فلکس کی نئی فلم ’’ٹوسٹر‘‘ کے ہدایتکار وویک داس چودھری نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اب چھوٹے بجٹ کی فلموں پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔
EPAPER
Updated: April 23, 2026, 5:03 PM IST | Mumbai
نیٹ فلکس کی نئی فلم ’’ٹوسٹر‘‘ کے ہدایتکار وویک داس چودھری نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اب چھوٹے بجٹ کی فلموں پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔
بالی ووڈ میں ایک نئی آواز کے طور پر ابھرنے والے ہدایتکار وویک داس چودھری نے اپنی پہلی فلم ’’ٹوسٹر‘‘ کے ذریعے انڈسٹری میں قدم رکھا ہے، اور ابتدائی ردعمل اس کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو رہا ہے۔ فلم حال ہی میں نیٹ فلکس پر ریلیز ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ناظرین اور ناقدین دونوں کی توجہ حاصل کر لی۔ وویک داس چودھری نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ فلم کو ’’ مثبت‘‘ ردعمل مل رہا ہے، اور انہیں امید ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرے گا، اس کی مقبولیت مزید بڑھے گی۔ ان کے مطابق، ایک نئے فلمساز کے لیے یہ پذیرائی نہایت حوصلہ افزا ہے۔ فلم میں راجکمار راؤ اور ثانیہ ملہوترہ کی جوڑی کو خاص طور پر سراہا جا رہا ہے۔ راجکمار راؤ کی پرفارمنس کو فلم کا مضبوط ترین پہلو قرار دیا گیا ہے، جہاں وہ ایک سادہ مگر دلچسپ کردار میں کامیڈی کو فطری انداز میں پیش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کیا کارتک آرین اور سری لیلا کی رومانوی فلم کی شوٹنگ مکمل ہو گئی؟
پترلیکھا نے اس فلم کو اپنے نئے پروڈکشن ہاؤس کے اے ایم پی اے فلمز کے تحت پروڈیوس کیا ہے، جس میں راجکمار راؤ بھی شریک مالک ہیں۔ وویک کے مطابق، فلم کی تیاری میں پترلیکھا کا کردار نہایت اہم رہا اور انہوں نے پروجیکٹ کو عملی شکل دینے میں کلیدی ذمہ داری نبھائی۔ فلمساز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’’ٹوسٹر‘‘ ایک ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، جہاں اداکار اور پروڈیوسر دونوں نے واضح تقسیم کے ساتھ کام کیا، جس سے سیٹ پر ماحول مثبت اور تخلیقی رہا۔ ناقدین کے جائزوں کے مطابق، فلم کا پہلا حصہ مزاح، دلچسپ فقرے اور ہلکے پھلکے افراتفری سے بھرپور ہے، جو ناظرین کو محظوظ کرتا ہے۔ تاہم، دوسرے حصے کو نسبتاً کمزور قرار دیا گیا ہے، جہاں کہانی کی رفتار کچھ سست پڑ جاتی ہے۔ اس کے باوجود، مجموعی طور پر فلم کو ایک ’’کرِسپ انٹرٹینر‘‘ کہا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا کالکی ۲؍کا نام بدل جائے گا؟ انٹرول ایپیسوڈ کے لیے شاندار سیٹ تیارا
وویک داس چودھری نے اس موقع پر اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ماضی میں ۲۰۰۰ء سے ۲۰۱۰ء کے درمیان چھوٹے بجٹ کی شہری کہانیوں پر مبنی فلمیں عام تھیں، لیکن وقت کے ساتھ یہ رجحان کم ہو گیا۔ ان کے مطابق ’’ٹوسٹر‘‘ اس خلا کو پُر کرنے کی ایک کوشش ہے، اور وہ امید کرتے ہیں کہ اس کے بعد ایسی مزید فلمیں سامنے آئیں گی جو چھوٹے شہروں اور حقیقی زندگی کی کہانیاں پیش کریں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے اثر کے ساتھ، اس نوعیت کی فلمیں دوبارہ مقبول ہو سکتی ہیں، جہاں مضبوط اسکرپٹ اور اداکاری بڑے بجٹ سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔