فلم انڈسٹری میں بہت سے اداکار آئے جنہوں نے اپنی اداکاری سے شہرت حاصل کی، لیکن چند ہی ایسے فنکارہیں جو اپنی فلموں سے زیادہ اپنے کردار، انسان دوستی اور سماجی خدمات کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 11:19 AM IST | Mumbai
فلم انڈسٹری میں بہت سے اداکار آئے جنہوں نے اپنی اداکاری سے شہرت حاصل کی، لیکن چند ہی ایسے فنکارہیں جو اپنی فلموں سے زیادہ اپنے کردار، انسان دوستی اور سماجی خدمات کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتے ہیں۔
فلم انڈسٹری میں بہت سے اداکار آئے جنہوں نے اپنی اداکاری سے شہرت حاصل کی، لیکن چند ہی ایسے فنکارہیں جو اپنی فلموں سے زیادہ اپنے کردار، انسان دوستی اور سماجی خدمات کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتے ہیں۔ سونو سود انہی شخصیات میں شامل ہیں۔ اگرچہ انہوں نے فلموں میں زیادہ تر ولن یا منفی کردار ادا کیے، لیکن حقیقی زندگی میں وہ لاکھوں لوگوں کے لیے ہیرو ثابت ہوئے۔ کورونا وبا کے دوران بے سہارا مزدوروں، طلبہ اور ضرورت مند افراد کی جس انداز میں مدد کی، اس نے انہیں صرف ایک فلمی ستارہ نہیں بلکہ عوام کا ہیرو بنا دیا۔
یہ بھی پڑھئے: رشبھ شیٹی کو آئی ایف ایف ایم میں ’لیڈرشپ اِن سنیما ایوارڈ‘ سے نوازا جائے گا
سونو سود ۳۰؍جولائی ۱۹۷۳ءکوپنجاب کے شہر موگا میں پیدا ہوئے۔ان کے والد شکتی ساگر سود کپڑے کے تاجر تھے، جبکہ والدہ سروج سود ایک کالج میں انگریزی کی پروفیسر تھیں۔گھر کا ماحول تعلیم یافتہ تھا، اس لیے والدین چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا اچھی تعلیم حاصل کرے۔ سونو نے ابتدائی تعلیم موگا سے مکمل کی اور بعد ازاں ناگپور کے یشونت راؤ چوہان کالج آف انجینئرنگ سے الیکٹرانکس انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ اگرچہ وہ انجینئر بن سکتے تھے، لیکن ان کے دل میں اداکاری کا خواب پل رہا تھا، جسے پورا کرنے کے لیے وہ ممبئی چلے آئے۔سونو سود نے اپنے فلمی سفر کا آغاز ۱۹۹۹ء میں تمل فلم ’کلازھگر‘سےکیا۔ اس کے بعد انہوں نے تیلگو، تمل، کنڑ، ہندی اور پنجابی فلموں میں کام کیا۔ جنوبی ہند کی فلمی صنعت میں ان کی پہچان ایک مضبوط اداکار کے طور پر بنی، جس کے بعد انہوں نے بالی ووڈ کا رخ کیا۔ہندی فلموں میں ابتدائی برسوں میں انہیں زیادہ تر منفی کردار ملے۔’یوا‘، ’عاشق بنایا آپ نے‘،’جودھا اکبر‘ اور ’سنگھ از کنگ‘جیسی فلموںمیں ان کی اداکاری کو سراہا گیا، لیکن اصل شہرت انہیں ۲۰۰۹ء میںسلمان خان کی بلاک بسٹر فلم ’دبنگ‘سے ملی، جس میں انہوں نے خطرناک ولن چھیدی سنگھ کا کردار ادا کیا۔ ان کی زبردست اداکاری نے انہیں بہترین معاون اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ بھی دلایا اور وہ راتوں رات بالی ووڈ کے کامیاب ولن بن گئے۔
اس کے بعد سونو سود نے’شکتی‘، ’رمیا وستاویا‘،’آر... راج کمار‘، ’ہیپی نیو ایئر‘، ’سمراٹ پرتھوی راج‘،’فتح‘اور متعدد دیگر فلموں میں یادگار کردار نبھائے۔ انہوں نے بالی ووڈ کے علاوہ تیلگو سپر اسٹارز چرنجیوی، مہیش بابو، این ٹی راما راؤ جونیئر، الو ارجن اور دیگر بڑے اداکاروں کے ساتھ بھی کام کیا، جس کی بدولت وہ ہندوستان کی مختلف زبانوں کی فلمی صنعتوں میں یکساں مقبول ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: آسام سیلاب: سلمان خان نے امدادی مہم شروع کر دی
اگرچہ سونو سود فلموں میں ولن بنتے رہے، لیکن ۲۰۲۰ءمیں کورونا وبا نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران جب لاکھوں مزدور روزگار سے محروم ہو کر سیکڑوں اور ہزاروں کلومیٹر دور اپنےآبائی علاقوں کی طرف پیدل روانہ ہوئے تو سونو سود ان کے لیے امید کی کرن بن کر سامنے آئے۔ انہوں نے ہزاروں مزدوروں کیلئے بسوں، ٹرینوں اور خصوصی پروازوں کا انتظام کیا تاکہ وہ بحفاظت اپنے گھروں تک پہنچ سکیں۔حکومت ہند اور مختلف سماجی اداروں نے بھی ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ کورونا کے دوران انسانی خدمت کے لیے انہیں کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ان کی فلاحی سرگرمیوں کو سراہا گیا اور انہیں انسان دوستی کی علامت قرار دیا گیا۔