Updated: May 10, 2026, 9:08 PM IST
| Mumbai
ٹی وی اور فلم انڈسٹری میں اپنی الگ پہچان بنا چکی اداکارہ سُنبل توقیر نے بہت کم عمر میں اداکاری کی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے اداکار آیوشمان کھرانہ کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ شیئر کیا۔
سُنبل توقیر تصویر: آئی این این
ٹی وی اور فلم انڈسٹری میں اپنی الگ پہچان بنا چکی اداکارہ سُنبل توقیر نے بہت کم عمر میں اداکاری کی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے اداکار آیوشمان کھرانہ کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ شیئر کیا۔ سُنبل نے بتایا کہ فلم ’آرٹیکل ۱۵‘ کی شوٹنگ کے دوران جب وہ کافی گھبرائی ہوئی تھیں تو اداکار نے انہیں پُرسکون اور مطمئن محسوس کروایا تھا۔
جب ُسُنبل توقیر سے پوچھا کہ کم عمر میں آیوشمان کھرانہ جیسے بڑے اداکار کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا تو جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’’اس وقت میں کافی نروس تھی اور سوچ رہی تھی کہ اتنے شاندار اداکار کے سامنے اداکاری کرنا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن شوٹنگ شروع ہونے کے بعد ماحول بالکل مختلف نکلا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی کئی بڑی شخصیات نے وزیر اعلیٰ وجے کو مبارکباد دی
سُنبل توقیر نے کہاکہ ’’آیوشمان کھرانہ صرف ایک اچھے اداکار ہی نہیں بلکہ ایک اچھے انسان بھی ہیں۔ سیٹ پر ان کا رویہ کافی دوستانہ تھا۔ انہوں نے کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میں ایک بڑے اسٹار کے ساتھ کام کر رہی ہوں۔‘‘
سُنبل نے کہا ’’آیوشمان نے مجھے ہر منظر میں آسانی اور اعتماد دیا اور میرا حوصلہ بڑھایا، جس سے میں آہستہ آہستہ کھل کر اداکاری کر پائی۔ فلم میں میرے زیادہ تر سین آیوشمان کھرانہ کے ساتھ تھے، اس لیے مجھے ان کے ساتھ کافی وقت گزارنے اور اداکاری کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : بلی ایلش کے کنسرٹ پر مبنی فلم کی ریلیز ہندوستان میں تاخیر کا شکار
سُنبل نے مزید کہا ’’ان کے ساتھ کام کرنا میرے لیے کسی سبق سے کم نہیں تھا۔ میں نے اداکاری کے دوران چھوٹی چھوٹی باتیں سیکھیں، کیمرے کے سامنے جذبات کو کیسے ظاہر کرنا ہے یہ سمجھا، اور یہ تجربہ میرے کیریئر کے لیے بہت اہم ثابت ہوا۔‘‘
فلم ’آرٹیکل ۱۵‘ کی ہدایت کاری اور پروڈکشن انو بھو سنہا نے کی تھی۔ فلم کی کہانی آئی پی ایس افسر ایان رنجن کے گرد گھومتی ہے، جس کا کردار آیوشمان کھرانہ نے ادا کیا۔ وہ ایک چھوٹے گاؤں میں تین لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کرتا ہے۔ تفتیش کے دوران اسے سماج میں موجود ذات پات کی تفریق اور برسوں سے جاری ظلم کی حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فلم نے سماجی مسائل کو انتہائی سنجیدہ اور حساس انداز میں پیش کیا۔