• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چارلس اینڈ کیتھ: سنگاپور کے جوتوں کےچھوٹے کاروبار سے عالمی برانڈ تک کا سفر

Updated: September 29, 2026, 1:59 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

اس برانڈ نے بدلتے فیشن کے رجحانات کو سمجھتے ہوئے جدید ڈیزائن کو روزمرہ استعمال کے قابل مصنوعات کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

The impressive Charles & Keith store at Palladium Mall in Lower Parel can be seen in the image. Photo: INN
زیر نظر تصویر میں لوئر پریل کے پلاڈیم مال میں چارلس اینڈ کیتھ کا شاندار اسٹور دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

فیشن کی دنیا میں کئی ایسے برانڈ ہیں جن کی بنیاد کسی بڑے صنعتی گھرانےیادولت مند خاندان نے نہیں رکھی، بلکہ ایک چھوٹی سی دکان سے ان کا سفر شروع ہوا۔چارلس اینڈ کیتھ بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے۔سنگاپور سے شروع ہونے والا یہ فیشن برانڈ آج جوتوں، ہینڈبیگز، چشموں اور دیگر فیشن ایکسسریز کے لیے دنیا بھر میں پہچانا جاتاہے۔اس برانڈ کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے بدلتے فیشن کے رجحانات کوسمجھتے ہوئے جدید ڈیزائن کو روزمرہ استعمال کے قابل مصنوعات کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ 

آغاز کیسے ہوا

چارلس اینڈ کیتھ کی بنیاد۱۹۹۶ءمیںسنگاپور کے۲؍ بھائیوں چارلس وونگ اور کیتھ وونگ نے رکھی تھی۔ دونوں بھائیوں کا تعلق جوتوںکے کاروبار سے پہلے ہی قائم ہوچکا تھا۔ وہ اپنے والدین کی سنگاپور کے علاقے انگ مو کیو میں واقع جوتوں کی چھوٹی سی دکان میں کم عمری سے ہاتھ بٹاتے تھے۔ وہاں کام کرتے ہوئے انہیں نہ صرف جوتوں کے کاروبار کی باریکیاں سمجھنے کا موقع ملا بلکہ یہ بھی اندازہ ہوا کہ گاہک کس طرح کے ڈیزائن اور مصنوعات پسند کرتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:کوچ: چمڑے کے بیگز کا امریکی برانڈ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے

برانڈ کا فروغ

برانڈ کی ابتدائی کامیابی کے بعد اس نے سنگاپور سے باہر قدم بڑھایا۔۱۹۹۸ءمیںانڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں اس کا پہلا بین الاقوامی اسٹور قائم ہوا۔ اس کے بعد ایشیا کے دوسرے بازاروں میں توسیع کا سلسلہ شروع ہوا۔۲۰۰۴ءمیں چارلس اینڈ کیتھ نے اپنی آن لائن خریداری کی ویب سائٹ بھی شروع کردی، جس سے صارفین کے لیے برانڈ کی مصنوعات تک رسائی مزید آسان ہوگئی۔ 

برانڈ کی ترقی میں۲۰۱۱ءبھی ایک اہم سال تھا، جب ایل کیپیٹل ایشیا نےچارلس اینڈ کیتھ گروپ میںکچھ شیئرحاصل کیے۔ اس سرمایہ کاری کے بعد برانڈ نے چین سمیت دیگر اہم بازاروں میں اپنی موجودگی کو بڑھایا۔ برانڈ کے مطابق آج چارلس اینڈ کیتھ کی موجودگی ۳۰؍سےزیادہ ممالک میں ہے اور اس کے تقریباً ۷۰۰؍ اسٹورز کاعالمی نیٹ ورک قائم ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے بھی اس کی مصنوعات فروخت کی جاتی ہیں۔ 

سماجی اور ماحولیاتی ذمہ داری بھی

برانڈ صرف فیشن کے ڈیزائن پر ہی توجہ نہیں دیتا بلکہ سماجی اور ماحولیاتی ذمہ داری کو بھی اپنی پالیسی کا حصہ قرار دیتا ہے۔ چارلس اینڈ کیتھ کے مطابق وہ سپلائی چین میں ماحولیاتی اور سماجی اثرات کا جائزہ لینے، ذمہ دارانہ طریقۂ کار اختیار کرنے اور مصنوعات میں استعمال ہونے والے مواد کے بارے میں زیادہ محتاط رویہ اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس نے مختلف بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بھی سماجی اور ماحولیاتی منصوبوں میں تعاون کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:چارلس ٹر ِٹ: برطانوی معیار اور کلاسیکی انداز پر مبنی فیشن برانڈ

برانڈ کی مصنوعات

چارلس اینڈ کیتھ کی کامیابی میں ہینڈ بیگز کا بھی نمایاں کردار ہے۔ مختلف سائز اور ساخت کے ٹوٹ بیگز، شولڈر بیگز، کراس باڈی بیگز، منی بیگز اور دیگر ڈیزائن اس کی کلیکشن کا حصہ رہے ہیں۔ بعض ڈیزائن سادہ اور نفیس انداز رکھتےہیں جبکہ کچھ میں نمایاں ساخت، دھاتی تفصیلات یا مختلف رنگوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جوتوںمیں سینڈلز، ہیلس، مائلز، فلیٹس، پلیٹ فارم اسٹائل اور دیگر جدید ڈیزائن شامل کیے جاتے ہیں۔

ممبئی و اطراف میں موجودگی

ہندوستان میں بھی چارلس اینڈ کیتھ نے اپنے لیے ایک نمایاں جگہ بنائی ہے۔ برانڈ کا ہندوستانی کاروبار اپیرل گروپ گلوبل فیشن برانڈز پرائیویٹ لمیٹڈکے ذریعے چلایا جاتا ہے اور اس کا ہندوستانی کسٹمر سروس رابطہ ممبئی کے اندھیری ایسٹ میں درج ہے۔ برانڈ کا سرکاری ہندوستانی اسٹور لوکیٹر مختلف شہروں میں موجود اسٹورز کی معلومات فراہم کرتا ہے۔ ممبئی میں اس برانڈ کی موجودگی خاص طور پر اہم ہے۔ ممبئی میں اس کے اسٹورلوئر پریل کے فنکس پلاڈیم مال،ملاڈ کے اِن آربٹ مال اور کرلا کے فنکس مارکیٹ سٹی میںچارلس اینڈ کیتھ کا اسٹور موجود ہیں، جہاں جوتوں، ہینڈ بیگز اور دیگر فیشن ایکسسریز کے کلیکشن دیکھے جاسکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK