• Sat, 10 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

علم ِسیرت تہذیب وتمدن، قوم وملت اور پیغامِ الٰہی کے آغاز و ارتقاء کا احاطہ کرتا ہے

Updated: January 09, 2026, 5:27 PM IST | Md Ibrahim Khan | Mumbai

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک لا متناہی اور متلاطم سمندر ہے۔ زیرنظر مضمون میں سیرت النبیؐ کی جمع، تدوین اور اس کے مختلف مراحل، جہتیں اور مناہج کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔

Even today, efforts are made to understand the implications of the Seerat-un-Nabi (peace be upon him), and books on the great virtues of the Seerat are published in many languages ​​of the world. Photo: INN
آج بھی سیرت النبیؐ کے مضمرات کو سمجھنے کی کوشش ہوتی ہے اور دُنیا کی کئی زبانوں میں سیرت کی عظیم الشان خوبیوں پر کتابیں شائع ہوتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’(اے نبیؐ) ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت قبول کرو۔ پھر اگر وہ  آپ کی یہ دعوت قبول نہ کریں، تو یقیناً یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے جو اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں۔‘‘  (آل عمران:۳۲)
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک لا متناہی اور متلاطم سمندر ہے۔ علم سیرت محض ایک شخصیت کی سوانح عمری ہی نہیں بلکہ یہ ایک تہذیب، ایک تمدن، ایک قوم، ایک ملت اور ایک الٰہی پیغام کے آغاز اور ارتقاء کی انتہائی اہم، انتہائی دلچسپ اور انتہائی مفید داستان ہے۔ اس مضمون میں  ہم سیرت النبیؐ کی جمع، تدوین اور اس کے مختلف مراحل، جہتیں اور مناہج کا مطالعہ کریں گے اور ساتھ ہی ساتھ یہ جاننے کی کوشش کرینگے کہ ایک مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو باعمل، باشرع، اور بامقصد بنانے میں سیرت النبیؐ کا مطالعہ کیا کردارادا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ان اخلاقی اقدار کی حفاظت کیجئے جو انسان اور شیطان کے بیچ امتیاز کرتی ہیں

سیرت کی تعریف:

سیرت کا لغوی معنی طریقۂ کار یا چلنے کی رفتار اور انداز ہے۔ عربی زبان میں سیرت کے معنی کسی کا طرزِ زندگی (Life Style) یا زندگی گزارنے کا اسلوب کے بھی ہیں مگر جلد ہی سیرت کا لفظ ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز حیات کے لئے مخصوص ہوگیا، اور آج دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں سیرت کا لفظ سرورعالم ؐ کی مبارک زندگی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اسلامی علوم و فنون کی اصطلاح میں سیرت کا لفظ سب سے پہلے رسولؐ اللہ کے اس طرز عمل کیلئے استعمال کیا گیا جو آپؐ نے غیرمسلموں سے معاملہ کرنے اور جنگوں یا صلح اور معاہدات کے معاملات میں اپنایا۔ قدیم مفسرین، فقہا، محدثین اور سیرت نگاروں نے سیرت کے لفظ کو اسی مفہوم میں استعمال کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فجر اور عصر کے بعد والے اوقاتِ مکروہہ میں طلوع اور غروب سے پہلے دوگانہ ٔ طواف کی بھی ممانعت ہے

علم سیرت کا پس منظر اور مواخذ:

رسولؐ اللہ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بڑے پیمانے پر مسلمانوں کو بہت سی دوسری اقوام سے واسطہ پڑا۔ بڑے بڑے علاقے فتح ہوئے۔ بڑی اقوام اسلام میں داخل ہوئیں۔ مختلف اقوام کے ساتھ جنگ اور صلح کے معاہدات کرنے پڑے۔ ان تمام معاملات میں مسلمانوں کو قدم قدم پر اس کی ضرورت پیش آئی کہ رسولؐکا اسوۂ حسنہ، تفصیلی قوانین اور احکام و ہدایات ان کے سامنے ہوں۔ ہمارے نبیؐ نے مختلف اقوام اور قبائل سے معاہدے کئے، غیر مسلموں، مشرکین، یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی معاہدے ہوئے۔ نو مسلموں کو مراعات بھی دی گئیں۔ چارٹر اور منشور جاری کیے گئے۔ ان سب چیزوں کی بنیاد پر فقہائےاسلام نےایک نئےقانون، نظام اورعلم کی تشکیل و بنیاد رکھی اور اس کےلئےسیرت اور ’سِیَرْ‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی۔ جیسے جیسے رسول اکرمؐ کی حیات مبارکہ کے بارے میں معلومات جمع ہوتی گئیں ان کی تدوین کا کام بھی شروع ہو گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان معلومات کے دو حصے یا پہلو نمایاں ہوتے گئے۔ ایک حصہ وہ تھا جس میں تاریخی پہلو زیادہ نمایاں تھا۔ اس حصے میں نبی کریم ؐ کی  حیاتِ مبارکہ کے مختلف واقعات کو ترتیب سے جمع کیا گیا تھا۔ یہ حصہ ’مغازی‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ دوسرا پہلو یا حصہ وہ تھا جس میں قانون کا پہلو نمایاں تھا۔ جس میں فقہی رہنمائی اور ہدایات زیادہ نمایاں تھیں۔ وہ سیرت یا ’سِیَرْ،  کے نام سے نمایاں ہوگیا۔ آج علم سیرت ایک وسیع اور جامع علم ہے جس کے بہت سے حصے اور شعبے ہیں۔ ان میں سے ایک حصہ ’مغازی‘ اور دوسرا ’سِیَرْ، کہلاتا ہے۔ ’مغازی‘ کا انداز تاریخی اور’سِیَرْ‘ کا انداز قانونی ہے۔ ’مغازی‘ میں حیات مبارکہ کے دیگر پہلوؤں کی تفصیلات بھی شامل ہوتی گئیں۔ اس کا نام کہیں علم سیرت و مغازی اور کہیں علم مغازی و سیر رکھا گیا۔ بالآخر اس کا نام علم سیرت قرار پایا اور ’مغازی‘ اس کا ایک شعبہ بن گیا۔
سیرتِ پاکؐ  کا اولین اور بنیادی ماخذ قرآن مجید ہے۔ قرآن پاک شاید پہلی اور یقیناً آخری مذہبی کتاب ہے جس کواس کے نزول کے ساتھ تحریر کیا گیا، تو کہا جا سکتا ہے کہ جب قرآن پاک جمع ہورہا تھا اور اس کو مدون کیا جارہا تھا تو اس کے ساتھ ساتھ سیرت بھی مدون ہورہی تھی۔ یہ تدوین سیرت کا آغاز تھا یعنی قرآن پاک کی تدوین اور جمع ایک طرح سے سیرت کی جمع اور تدوین کے مترادف تھی۔
سیرت کا دوسرا ماخذ احادیث صحیحہ ہیں۔ حدیث کی تدوین کی تاریخ بھی ایک اعتبار سے سیرت کی تدوین کی تاریخ ہے۔ حدیث کی ہر کتاب میں سیرت پاک سے متعلق مستند اور ضروری مواد موجود ہے۔ علمِ حدیث مسلمانوں میں روز اول سے ایک انتہائی محترم اور مقدس اور مقبول علم رہا ہے۔ ہر دور کی سعید روحوں اور بہترین دماغوں نے اس علم یعنی علم حدیث کی خدمت کی ہے۔ ان دو بنیادی مواخذ کے علاوہ کتب سیرت و مغازی، کتب تاریخ، کتب ادب اور ادبیات بھی مواخذ سیرت شمار کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: اذان میں غلطی کرنا، ایک اذان سے دو جمعہ، متعینہ رقم پہ گاڑی دینا، موزوں پہ مسح

علومِ سیرت:

اس ضمن میں اس بات کو اپنے ذہن میں تازہ رکھنا چاہئے کہ تمام بانیانِ مذاہب میں آپؐ کی ذاتِ مبارکہ وہ واحد شخصیت ہے جو تاریخ میں غیرمتنازع مقام رکھتی ہے۔ آپؐ کی پوری زندگی دنیائے انسانیت کے سامنے ہے۔ ہمارے دین کی بنیاد قرآن مجید کے بعد احادیث نبویؐ پر ہے۔ اسی لئے محدثین نے اپنی تمام تر توانائیاں یہ جاننے پر خرچ کیں کہ نبی ؐ کے ارشادات، افعال و اعمال اور تقاریر کس بنیاد پر ہیں؟ کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز ہے۔ کون سی چیز سنت کا حصہ ہے اور کون سی چیز سنت کا حصہ نہیں ہے؟ اس کے برعکس سیرت نگاروں کا زور اس پر ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی طرزِ عمل، شخصیت اور مختلف مواقع پر رویہ کیا تھا؟ اس لئے ان دونوں علوم کے مضامین میں فرق پایا جاتا ہے۔ بہت سے موضوعات ہیں جو حدیث کا حصہ ہیں اور سیرت کا بھی۔ کچھ موضوعات ایسے ہیں جو صرف حدیث کا حصہ ہیں اور کچھ ایسے کہ وہ صرف سیرت کا حصہ ہیں۔ مگرحدیث کی ہر بڑی کتاب میںسیرت کے بارے میں بیش قیمت معلومات اور مخصوص ابواب ہوتے ہیں۔ عالی قدر سیرت نگاروں نے اپنے کام کی ابتداء حلیۂ مبارک کی لفظی تصویرکشی سے کی، ساتھ ہی ساتھ ذاتی عادات و اطوار، ملنا جلنا، اٹھنا بیٹھنا وغیرہ کو ’شمائل سیرت‘ کے عنوان کے تحت مدون کیا۔
شمائل کے بعد دوسرا میدان حضورؐ کی تقاریر ہیں جو ہمارے نبیؐ نے مختلف مواقع پر ارشاد فرمائیں۔ سیرت نگاروں نے انہیں ’خطبات سیرت‘ کے عنوان تلے جمع کیا ہے۔ ہمارے نبیؐ افصح العرب ہیں۔ آپؐ کی تقاریر میں فصاحت و بلاغت کا جو معیار تھا آج تک عربی زبان کا کوئی خطیب اس تک پہنچنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ حضورؐ نے مختلف مواقع اور مناسبت سے بہت سی دستاویزات تیار کروائیں، خطوط تحریر کروائے، ان تمام کو سیرت نگاروں نے ’وثائق سیرت‘ کے عنوان تلے جمع کیا ہے۔ سیرت پر جہاں تحقیقی اور عالمانہ کام ہوئے ہیں وہاں عوامی انداز میں بھی بہت کام ہوا ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی نے اس کے لئے ’لوک سیرت‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ اس کا اہم نمونہ میلاد نامے اور موالید ہیں۔ سیرت کا ایک اہم موضوع ’تعلیمات سیرت‘ بھی ہے۔ اس سے مراد سیرت کی وہ معلومات یا شعبے ہیں جن کا تعلق علم کی نشرواشاعت اور تعلیم سے ہے۔ سیرت کا ایک اہم عنوان ’روحانیات سیرت‘ ہے۔ اس میں بنیادی طور پر تزکیۂ نفس کے سلسلے میں حضورؐ کی دی ہوئی ہدایات جمع کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی عنوانات کی ایک طویل فہرست ہے جن کے تحت حضورؐ کی حیاتِ مبارکہ کو مدون کیا گیا ہے۔ ان میں’ادبیات سیرت‘، ’اجتماعیات سیرت‘، ’نفسیات سیرت‘،  ’جغرافیۂ سیرت‘ اور ’مصادر سیرت‘ اہم ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: شکر گزاری سے نعمتوں کو دوام اور تسلسل عطا ہوتا ہے

مناہج و اسالیب سیرت:

علمائے کرام نے تدوین سیرت کیلئے مختلف طریقۂ کاراور عنوانات اپنائے ہیں۔ سیرت کے دستیاب ذخیرے پر نظر ڈالنے سے سیرت نگاری کے جو بڑے مناہج (Methodology)  سامنے آتے ہیں وہ یہ ہیں:
(۱) محدثانہ اسلوب: یہ سیرت نگاری کا قدیم ترین اسلوب ہے۔ اس اسلوب پران شخصیات نے کام کیا ہے جو دراصل حدیث کے متخصص (Specialist ) تھے اور ان کی عمر کا بیش تر حصہ علم حدیث کے قواعد اور اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے علم حدیث کی تدریس میں گزرا۔
(۲) مؤرخانہ اسلوب: اس اسلوب میں جب سیرت نگار کسی واقعے کو بیان کرتا ہے تو اس سے متعلق تمام معلومات کو یکجا اور مرتب کرکے بیان کرتا ہے۔ مثلاً ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ میں مکہ مکرمہ سے روانگی سے لے کر مدینہ منورہ پہنچ کر حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کے مکان میں ٹھیرنے کی پوری تفصیل کا بیان موجود ہے۔ 
(اس مضمون کا دوسرا حصہ آئندہ ہفتے ملاحظہ فرمائیں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK