ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ جو رویہ اختیار کرتاہے اسے اخلاق کہاجاتاہے۔ یہ رویہ پسندیدہ اور شریفانہ ہے تو اسے حسنِ اخلاق کہاجائے گا۔ اگر نا پسندیدہ اور غیر مہذب ہے تو اسے بداخلاقی کہاجائے گا۔
EPAPER
Updated: April 03, 2026, 4:13 PM IST | Maulana Sayyed Jalaluddin Umri | Mumbai
ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ جو رویہ اختیار کرتاہے اسے اخلاق کہاجاتاہے۔ یہ رویہ پسندیدہ اور شریفانہ ہے تو اسے حسنِ اخلاق کہاجائے گا۔ اگر نا پسندیدہ اور غیر مہذب ہے تو اسے بداخلاقی کہاجائے گا۔
ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ جو رویہ اختیار کرتاہے اسے اخلاق کہاجاتاہے۔ یہ رویہ پسندیدہ اور شریفانہ ہے تو اسے حسنِ اخلاق کہاجائے گا۔ اگر نا پسندیدہ اور غیر مہذب ہے تو اسے بداخلاقی کہاجائے گا۔
اخلاق کا پوری زندگی پر اثر پڑتاہے۔ اس کی اہمیت کے مختلف پہلوہیں۔قرآن وحدیث میں ان کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اعلیٰ اخلاق و کردار کی فضیلت بیان ہوئی ہے اور اہل ایمان کو ان پر عمل کی ترغیب دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ مومن انتہائی مہذب اور شائستہ ہوتاہے، دیانت دار اور امانت دار ہوتا ہے،کذب بیانی اور دروغ گوئی سے اس کی زبان آلودہ نہیں ہوتی۔ وہ کسی کے ساتھ مکر و فریب اور دغابازی نہیں کرتا،متوضع اور خاکسار ہوتاہے، نخوت اور گھمنڈ کا مظاہرہ نہیں کرتا، چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں سے احترام سے پیش آتاہے، مظلوموں کی داد رسی کرتاہے۔ بیوی، بچوں، قرابت داروں اور پڑوسیوں کے حقوق ادا کرتا ہے۔اس طرح کی اخلاقی خوبیاں ایک مومن کی پہچان ہیں۔ ان کے بغیر ایک مومن صادق کا تصورنہیں کیاجاسکتا۔
یہ بھی پڑھئے: عبادت مسجد تک محدود نہیں؛ یہ گھر، بازار اور مسافر کی تھکن تک دراز ہے
رسول اللہ ﷺ اعلی اخلاق کے پیکر
قرآن مجید نے جن اعلی اخلاقی اوصاف کا ذکر کیا ہے، رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس کا عملی نمونہ تھی۔ حضرت عائشہؓ سے ہشام بن عامر نے درخواست کی کہ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے جواب دیا:کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟میں نے عرض کیا کہ ہاں پڑھتاہوں۔ آپؓ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عین قرآن تھے۔
(مسلم کتاب صلوۃ المسافرین و قصرھا)
جن اعلیٰ اخلاق کا قرآن میں ذکر ہے وہی رسول اللہ ﷺ کے اخلاق تھے۔ آپؐ کی زندگی ان کا عملی نمونہ تھی یہی بات ایک اور حدیث میں اس طرح بیان ہوئی ہے۔ ’’ آپ کے اخلاق مکمل قرآن تھے۔‘‘ (مسند احمد)
حسن خلق کی فضیلت
حسن خلق کی فضیلت میں بکثرت احادیث مروی ہیں۔ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’بے شک مومن اپنے حسن اخلاق کے ذریعہ وہ مقام حاصل کرلیتاہے جو قائم اللیل اور صائم النہار کا ہے۔‘‘ (ابوداؤد، کتاب الادب)
’قائم اللیل‘ اس شخص کو کہاجاتاہے جو اپنی رات نماز تہجد میں گزارے،صائم النہار ،وہ جو دن میں مستقل روزے رکھے۔ یہاں نفل نماز اور روزوں کا ذکر ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حسنِ اخلاق بڑی سے بڑی نفل عبادات کے برابر ہے۔
حسن کلام
اللہ تعالی نے بنی اسرائیل سے جن اہم باتوں کا عہد لیاتھا ان میں ایک یہ تھی:
’’لوگوں سے اچھی طرح بات کہو۔‘‘(البقرہ:۸۳)
اس آیت سے حسن کلام کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ یہ مخاطب کو اپنے سے قریب کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اس میں نرمی، محبت، تہذیب و شائستگی جیسی خوبیاں شامل ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ راوی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ فلاں عورت کے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ کثرت سے نماز پڑھتی اور روزے رکھتی ہے۔ صدقہ و خیرات بھی کرتی ہے، لیکن (بدخلق ہے) اپنی زبان سے پڑوسیوں کو اذیت پہنچاتی رہتی ہے۔ آپ نے فرمایا وہ جہنم میں جائے گی۔ اس شخص نے کہا اے اللہ کے رسول اللہﷺ ایک دوسری عورت ہے۔ کہاجاتاہے کہ اس کے ہاں(نفل) نمازوں اور روزوں کا زیادہ اہتمام نہیں ہے۔ تھوڑا صدقہ پنیر جیسی چیز کا کردیتی ہے۔ لیکن (پڑوسیوں سے اس کا رویہ اچھاہے)اپنی زبان سے انہیں تکلیف نہیں دیتی۔ آپ نے فرمایا: وہ جنت میں جائے گی۔ (مشکوٰۃ ، کتاب الآداب)
حدیث میں زبان کوقابو میں رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ حضرت سہل بن سعدؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جوکوئی مجھے ضمانت دے اس چیز کی جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان(زبان) ہے اور اس چیز کی جو اس کے دو پیروں کے درمیان(شرم گاہ) ہے تومیں اسے جنت کی ضمانت دیتاہوں۔‘‘(رواہ ترمذی)
رسول اللہ ﷺ نے زبان او رعفت و عصمت کی حفاظت پر جنت کی ضمانت دی ہے ۔ اس سے بڑی ضمانت اور کس کی ہوسکتی ہے؟
حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے رسولؐ اللہ سے عرض کیا کہ آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز کا خوف ہے؟آپ نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر فرمایا اس سے۔ (بخاری، کتاب الرقاق)
یہ درحقیقت زبان کے استعمال میں انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت ہے۔ زبان کی حفاظت اسی وقت ہوگی جب کہ آدمی اذیت رسانی، لاف زنی، لایعنی، لغو اور بے دینی کی باتیں جیسی خرابیوں سے اسے محفوظ رکھے۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: اعتکاف اور شوال کے روزوں کی قضا کا حکم
غصہ سے اجتناب
قرآن مجید میں اہل ایمان کے بارے میں ایک جگہ فرمایا وہ زمین و آسمان جیسی وسعت والی جنت کے مستحق ہوں گے۔ ان کی جو خوبیاں بیان ہوئی ہیں ان میں یہ تین خوبیاں بھی ہیں۔
’’وہ غصہ کو پی جاتے ہیں، لوگوں کی زیادتی کو معاف کرتے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘(آل عمران:۱۳۴)
جب کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے یا اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو وہ بے قابو ہوجاتاہے اور غیظ و غضب کا مظاہرہ کرنے لگتاہے۔ لیکن اہل ایمان کی خوبی یہ ہے کہ کوئی اپنے قول و فعل سے ان کو اذیت پہنچاتاہے ، بدزبانی کرتاہے یا ان پر دست درازی کرتاہے تو فطری طور پر انہیں تکلیف تو ہوتی ہے اور غصہ بھی آتاہے لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کرتے، بلکہ غصہ کا تلخ گھونٹ پی جاتے ہیں،۔ یہی نہیں بلکہ اس سے آگے وہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔غصہ نہ ہونا اور تحمل و برداشت سے کام لینا بڑی خوبی ہے۔ اس سے بڑی خوبی یہ ہے کہ زیادتی کرنے والے کو معاف کردیاجائے۔ اس سے اونچا مقام یہ ہے کہ اس کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کیاجائے۔ اس کی مدد کی جائے جو فائدہ پہنچایاجاسکتاہے پہنچایا جائے۔
حدیث میں کہا گیاہے کہ انسان کی اصل جرأت و شجاعت مادی نہیں اخلاقی ہے۔ حضرت ابوھریرہؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’طاقتور (پہلوان) وہ نہیں ہے جو (مقابل کو) پچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے اوپر قابو رکھے۔‘‘ (بخاری، کتاب الادب)
غصہ پر قابو پانا اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب عمل ہے۔ اس سے وہ بے حد خوش ہوتاہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’بندے نے ایسا کوئی گھونٹ نہیں پیا جو اللہ کے نزدیک اس گھونٹ سے افضل اور برتر ہو جو اس نے اللہ کی رضا کی طلب میں غصہ کو فرو کرکے نوش کیا۔‘‘ (مسند احمد)
یہ بھی پڑھئے: کیا نئی نسل روحانیت سے آگاہ ہے؟
بعض جامع احادیث
بعض احادیث بڑی جامع ہیں۔ ان میں سے ہر حدیث میں ایک سے زیادہ اعلیٰ اخلاق اور ان کے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ اس طرح کی چند حدیثیں یہاں پیش کی جارہی ہیں۔
حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’جو کذب بیانی ترک کردے، اس لئے کہ جھوٹ بہرحال باطل عمل ہے، اس کے لئے جنت کے کنارے مکان بنایاجائے گا۔ جو حق پر ہونے کے باوجود نزاع اور جھگڑا چھوڑ دے اس کے لئے جنت کے وسط میں مکان بنایاجائے گا اور جس کے اخلاق اچھے ہوں اس کے لئے جنت کے بلند ترین مقام پر مکان بنایاجائے گا۔‘‘
;(ترمذی، ابواب البر والصلۃ)
حضرت عبادہ بن صامتؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’تم اپنی طرف سے مجھے چھ باتوں کی ضمانت دو۔ میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتاہوں۔ جب بولو تو سچ بولو، جب وعدہ کرو تو پورا کرو، جب تمہارے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو اسے ادا کردو۔ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرواور اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو۔‘‘
یہ وہ چند اخلاقی خوبیاں ہیں جن سے انسان جنت کا مستحق ہوتاہے۔