آپؐ کی حیات طیبہ سے جہاں ہمیں عبادات کے سلسلے میں نہایت واضح رہنمائی ملتی ہے، وہیں معاملا ت کے سلسلے میں بھی آپؐ نے ایسے اصول بیان فرمائے ہیں کہ جو ساری انسانیت کے لئے نجات دہندہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پڑھئے چند اصول:
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 4:48 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
آپؐ کی حیات طیبہ سے جہاں ہمیں عبادات کے سلسلے میں نہایت واضح رہنمائی ملتی ہے، وہیں معاملا ت کے سلسلے میں بھی آپؐ نے ایسے اصول بیان فرمائے ہیں کہ جو ساری انسانیت کے لئے نجات دہندہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پڑھئے چند اصول:
رسول کریمﷺ میں ایک انسان میں جتنی خوبیاں ہوسکتی ہیں، اللہ عزوجل نے وہ ساری جمع کردی تھیں۔ آپؐ سارے فضائل کا مجموعہ تھے۔ لیکن ان ساری خوبیوں میں سے اللہ عزوجل نے آپؐ کی تعریف کے لئے ایک بات منتخب فرمائی: ’’اے محمدؐ بے شک آپ اخلاق کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔ ‘‘ اس بات میں ایک لطیف اشارہ موجود ہے کہ آپؐ کے متبعین کو اگر اونچا مقام حاصل کرنا ہے تو آپؐ کے اعلیٰ اخلاق رہنمائی کے لئے موجود ہیں۔ اب ان عادات کو اپنائیے، ان اخلاق کواپنا اوڑھنا بچھونا بنالیجئے، پھر دیکھئے کیسے اللہ عزوجل ان عادات والے پر خیر ہی خیر برساتاہے۔
اللہ عزوجل نے حضرت محمدؐ کے اسوہ کی اتباع کو اس قدر پسند فرمایا کہ اس عمل کو راست اپنی محبت کے لئے شرط قرار دیا۔ قرآن مجید میں رب العالمین ارشاد فرماتا ہے: ’’(اے پیغمبر! لوگوں سے )کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ ‘‘اور اللہ کے رسولؐ کی اتباع کو اسلام نے نہ کسی زمان سے جوڑا ہے، نہ مکان سے۔
یہ بھی پڑھئے:معافی کا فلسفہ کیا ہے؟ اللہ نے اس میں کتنی برکت رکھی ہے!
۱۴۰۰؍ سال زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ دنیا میں بیشمار تبدیلیاں واقع ہوچکی ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ہوش ربا ترقیوں نے انسانی زندگی پر نہایت گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ انسان کی سماجی، معاشی، معاشرتی، اخلاقی، سیاسی زندگی میں عظیم انقلاب واقع ہوگئے ہیں۔ ان سب کے باوجود رسول کریمؐ کے اخلاق اور آپؐ کا طریقۂ حیات آج بھی اپنی پوری پریکٹیکل خوبصورتی کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے۔ آپؐ کا ایک بھی عمل ایسا نہیں ہے جس کو outdated قراردیا جا سکتا ہو۔ بلکہ انسان اگر حقیقت کی عینک سے دیکھے تو محسو س کرے گا کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اسوۂ محمدؐ کی ضرورت اس دنیا میں بڑھتی ہی جارہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مقام اور وقت بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ بات گزشتہ ۱۴ ؍صدیوں میں ثابت ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کی تعلیمات اور آپؐ کا طریقۂ زندگی، آپؐ کے اخلاق، آپؐ کی عادات (جو قرآن مجید کی ایک عملی تصویر تھی) ہر زمان ومکان کے لحاظ سے بالکل موزوں اور قابل عمل ثابت ہوئے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ آج جس جدید دور کی بات کی جاتی ہے، اس میں چند مسائل کو ایک نمونے کے طور پر ہم دیکھیں کہ ان کو اگر سیرۃ النبیؐ کی روشنی میں حل کیا جائے تو انسانیت کس قدر آسانی سے ان سے نجات پاسکتی ہے اور انسانیت کس قدر راحت کی سانس لے سکتی ہے۔
تجارت کے اصول
حال ہی میں اخبارات میں آئیں کہ دوائیوں سے لے کر غذا تک کس طرح کی ملاوٹ چل رہی ہے، اور اس کا بڑا زور وشور سے تذکرہ سرخیوں میں ہورہا ہے۔ لیکن اللہ کے رسول کریمؐ آج سے طویل عرصہ قبل اس راہ کو بند کرچکے ہیں۔ آپؐ نے ایک دکاندار کو گیلا اناج اندر کی طرف رکھ کر، اورسوکھا اناج باہر کی طرف رکھ کر تجارت کرتے ہوئے دیکھا تو اس کو صحیح کرنے کی تلقین کی اور فرمایا: ’’جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔ ‘‘ اسی طرح آپؐ نے فرمایا:’’تولو اور جھکتا ہوا تولو۔ ‘‘ آج ساری دنیا سمجھتی ہے کہ تجارت کی کامیابی کا انحصار consumer کے حقوق کا خیال رکھنے اور اس کو مطمئن کرنے میں ہے اور ترازو میں جھکتا ہوا پلڑا اسی بات کی جانب ایک قدم ہے، آج بھی تجارت میں یہ اصول کامیابی کی بنیاد ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہر نئی ترقی کے ساتھ اخلاقی رہنمائی اشد ضروری ہے
بلاتحقیق سوشل میڈیا کا استعمال
آج کے دور کا ایک بہت بڑا مسئلہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی میسج فارورڈ کرنے کا ہے۔ ایسا کرتےہوئے لوگ حقائق کو کم مدنظررکھتے ہیں، اور اس بات کا زیادہ خیال رکھتے ہیں کہ وہ میسج کسی طرح ان کو پسند آجائے۔ اللہ کے رسول کریمؐ نے فرمایا: ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کرتا پھرے۔ ‘‘ آپؐ کی دی ہوئی اس تعلیم کو سوشل میڈیا پر اگر ہم اطلاق کرکے دیکھیں تو محسوس ہوگا کہ واقعی میں کتنے ہی لوگ سنی سنائی باتیں دوسروں تک پہنچا کر اپنا وقار کھودیتے ہیں۔
متعدی بیماری کے احکام
اسی طرح آپؐ نے طاعون والی جگہ پر داخل نہ ہونے اور اگر وہاں پہلے سے موجود ہوں تو باہر نہ نکلنے کا حکم دیا ہے۔ ہم نے کورونا جیسی مہلک بیماری کو چند برس قبل دیکھا ہے اور اس سے آپؐ کے اس حکم کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ جب ۲۰۱۹ء میں چین میں اس وبا کا آغاز ہوا تھا، اگر وہاں کے لوگوں کو نہ تو باہر آنے دیا جاتا، نہ باہر والوں کو اندر جانے دیا جاتا، تو انسانیت اس عظیم بحران سے کافی حد تک بچ سکتی تھی۔
مزدوروں کے حقوق
آج کے مزدوروں کے حق کے بارے میں دنیا جہان کی باتیں کہی جاتی ہیں، لیکن مزدور کے حقوق کی نام نہاد باتوں سے قبل اس کی مزدوری کا حق ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں آپؐ نے فرمایا: ’’مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے:حج بدل کا ذکر تو کتابوں میں ہے مگر عمرہ بدل دَور حاضر کی اصطلاح ہے
اطباء کے لئے احکم
دنیا کو اپنا علاج کسی طبیب سے ہی کروانے کاخیال بہت بعد میں آیا، اور میڈیکل اسکول اورکالج بنے، اور طب کے نہایت ہی سخت اصول بنائے گئے اس کے باوجود آج بھی غیر تربیت یافتہ اطباء کی بھرمار ہے۔ لیکن آپؐ نے ۱۴۰۰؍ برس قبل ہی اس عظیم سماجی برائی کو مسدود کردیا کیونکہ اس سے انسانی جان پر نہایت پر خطر بادل منڈلانے لگتے ہیں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:’’ جس نے طبابت کی، جبکہ اس سے پہلے اس کی طبی مہارت معروف نہ تھی، وہ ذمہ دار ہوگا۔ ‘‘
نجی زندگی کا احترام
اسی طرح آج ساری دنیا اپنی ذاتی زندگی میں عمل دخل کا راگ الاپ رہی ہے، اور اس میں کسی قسم کی دراندازی کو برداشت نہیں کرتی ہے۔ آپؐ کو لوگوں کی ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہنے کی تعلیم دی اور فرمایا: ’’ایک دوسرے کے امور کی جاسوسی مت کرو۔ ‘‘اس سے خود بخود ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جس میں فرد کی ذاتی زندگی میں کسی اور کو عمل دخل حاصل نہیں ہوگا۔
یہ چند مثالیں ہیں اس بات کو واضح کرنے کے لئے کہ جہاں ہمیں آپؐ کی حیات طیبہ سے عبادات کے سلسلے میں نہایت واضح رہنمائی ملتی ہے، وہیں معاملا ت کے سلسلے میں بھی آپؐ نے ایسے اصول بیان فرمائے ہیں کہ جو ساری انسانیت کے لئے نجات دہندہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔