• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماہِ رمضان قرآن سے تجدید تعلق کا بہترین موقع

Updated: February 27, 2026, 10:33 AM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

کیا یہ ایک تلخ حقیقت نہیں کہ یہی قرآن، جب غیر مسلموں نے کھلے دل اور جستجو بھری عقل کے ساتھ سنا اور سمجھا، تو ان کی فکری دنیا میں انقلاب برپا ہوگیا، ان کے زاویۂ نگاہ بدل گئے اور ان کی زندگیوں کا رخ حق کی طرف مڑ گیا؛ مگر ہم، جو اس کے وارث کہلاتے ہیں، اکثر اس کی تاثیر سے محروم رہ جاتے ہیں؟ مسئلہ قرآن کے پیغام میں نہیں، بلکہ ہمارے طرزِ تعلق میں ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

رمضان وہ بابرکت مہینہ ہے جسے خود اللہ رب العزت نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید کے نزول کے لئے منتخب فرمایا۔ یہی وہ ساعتیں تھیں جب آسمانِ ہدایت سے نور کی بارش ہوئی اور قرآنِ مجید انسانیت کے لئے چراغِ راہ بنا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور جس میں ہدایت کی روشن نشانیاں اور حق و باطل میں فرق کرنے والی تعلیمات موجود ہیں۔‘‘ (سورۃ البقرہ:۱۸۵)  اس پس منظر میں رمضان گویا قرآن سے تجدید ِ تعلق کا موسمِ بہار ہے؛ ایک ایسا روحانی زمانہ جب دلوں کی زمین نرم ہو جاتی ہے، آنکھیں اشکبار اور زبانیں تلاوت سے معطر ہو جاتی ہیں۔ اس مہینے میں بندہ محض قاری نہیں رہتا بلکہ کلامِ الٰہی کا مخاطب بن جاتا ہے، اپنے رب کی پکار کو محسوس کرتا ہے اور اپنے بکھرے ہوئے باطن کو آیاتِ قرآنی کی روشنی میں ازسرِ نو سنوارتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں رہتا بلکہ زندگی کا منشور بن کر دل کے دریچوں پر دستک دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جب دل پتھر ہونے لگے تو رَمضان دستک دیتا ہے

قرآن سے تجدید ِ تعلق کی آج سب سے زیادہ ضرورت اس لئے ہے کہ ہمارا رشتہ اس عظیم کتاب سے اب محض رسمی بن کر رہ گیا ہے۔ رمضان المبارک میں تو تلاوت کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، گھروں میں قرآن کھولا جاتا ہے اور مساجد نورِ قرآن سے جگمگا اٹھتی ہیں، لیکن سال کے دیگر گیارہ مہینوں میں نہ ہم باقاعدگی سے اسے پڑھنے کی زحمت کرتے ہیں، نہ اس کے معانی کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی دل لگا کر اس کی تلاوت سننے کا اہتمام کرتے ہیں؛ یوں گھروں اور مسجدوں میں قرآن کے نسخوں پر گرد جمتی رہتی ہے جبکہ ہماری عملی زندگی اس کی ہدایت سے محروم رہتی ہے۔
کیا یہ ایک تلخ حقیقت نہیں کہ یہی قرآن، جب غیر مسلموں نے کھلے دل اور جستجو بھری عقل کے ساتھ سنا اور سمجھا، تو ان کی فکری دنیا میں انقلاب برپا ہوگیا، ان کے زاویۂ نگاہ بدل گئے اور ان کی زندگیوں کا رخ حق کی طرف مڑ گیا؛ مگر ہم، جو اس کے وارث کہلاتے ہیں، اکثر اس کی تاثیر سے محروم رہ جاتے ہیں؟ مسئلہ قرآن کے پیغام میں نہیں، بلکہ ہمارے طرزِ تعلق میں ہے۔ ہم اسے برکت کے لئے رکھتے ہیں مگر ہدایت کے لئے نہیں کھولتے، ثواب کے لئے پڑھتے ہیں مگر انقلاب کے لئے نہیں سمجھتے۔ہمیں قرآنِ مجید کے تعلق سے اس بنیادی حقیقت بھی کو اپنے دل و دماغ میں راسخ کرلینا چاہئے کہ یہ محض ایک مذہبی کتاب نہیں جسے تبرکاً الماری میں محفوظ رکھا جائے یا خاص مواقع پر رسمی طور پر پڑھ لیا جائے، بلکہ یہ ایک زندہ اور ہمہ گیر کتابِ ہدایت ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے میں روشنی فراہم کرتی ہے۔ عقائد و عبادات سے لے کر اخلاق و معاملات تک، انفرادی کردار سے لے کر اجتماعی نظام تک، قرآن انسان کو فکر کی درستگی، عمل کی پاکیزگی اور مقصدِ حیات کی بلند عطا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بیدار رہیں،رحمت کا حصار کہیں لغویات میں ٹوٹ نہ جائے!

یاد رکھیں! اگر ہم نےقرآن سے تجدید ِ تعلق کر لیا تو ہم اس مقام تک پہنچ جائیں گے جہاں سے اسے ہم محض انفرادی نجات کا ذریعہ نہیں سمجھیں گے بلکہ اجتماعی اصلاح اور معاشرتی تعمیر کا جامع منشور تصور کریں گے۔ تب ہمیں احساس ہوگا کہ قرآن صرف فرد کے باطن کی تطہیر اور روح کی بالیدگی تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک ایسا ضابطۂ حیات ہے جو معاشرے میں عدل، دیانت، رحم اور ذمہ داری کا شعور بیدار کرتا ہے۔ جب ایک فرد قرآن کے پیغام کو سمجھ کر اپنی زندگی میں سچائی، امانت، وعدہ کی پاسداری اور حقوق العباد کی ادائیگی کو اختیار کرتا ہے تو اس کی روشنی لازماً پورے معاشرے تک پھیلتی ہے۔ یوں قرآن دلوں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ سماج کی تشکیل اور تہذیب کی تعمیر کا سرچشمہ بن جاتا ہے، بشرطیکہ ہم اس سے زندہ اور عملی تعلق قائم کریں۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۹): یہ بندۂ خدا کی عنایت ہے، مت پوچھو بندۂ خدا کون ہے

قرآن سے تجدید ِ تعلق کے فوائد میں سے ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ ہم اس کے بعد حالات کے بہاؤ میں بہنے کے بجائے اصولوں اور اقدار کی بنیاد پر زندگی گزارنے والے بن جاتے ہیں۔ جب ہم قرآن سے تعلق مضبوط کرتے ہیں تو ہماری سوچ میں وسعت اور ہمارے فیصلوں میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔ ہم وقتی مفادات اور جذباتی ردِّ عمل کے بجائے حق، عدل اور ذمہ داری کو ترجیح دینے لگتے ہیں، اور ہمیں یہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ اصل کامیابی محض مادی ترقی کا نام نہیں بلکہ خدا کے حضور جواب دہی کے احساس کا نام ہے۔ آئیے ہم اس رمضان میں عملی طور پر قرآن سے تجدیدِ تعلق کریں اور یہ عزم کریں کہ اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں گے کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’بے شک یہ قرآن اس راستے کی رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل:۹)  جب ہم اس طرح قرآن کی طرف رجوع کریں گے تو ہمارے افکار میں پختگی، ہمارے اعمال میں استقامت اور ہمارے معاشرے میں عدل و توازن پیدا ہوگا اور یوں قرآن واقعی ہماری زندگی کا زندہ و جاوید رہنما بن جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK