یہ مشاہدہ عام ہے کہ اکثر افراد جو دین کا خاطرخواہ علم رکھتے ہیں، وہ باعمل نہیں ہوتے ، ان کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے ۔ قرآن مجید نے علم اور عمل کے اس تضاد پر سخت انداز میں متنبہ کیا ہے ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نہ صرف یہ کہ دین کو بہت اچھی طرح جانیں اور سمجھیں بلکہ اس کے ساتھ دین کو جینے کی بھی فکر کریں۔
اگر ہم مثالی، پُرسکون اور پُرلطف زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسلامی احکامات کی جانکاری کے ساتھ ان پر عمل کی بھی مخلصانہ کوشش کرنی ہوگی۔ تصویر: آئی این این
کسی چیز کا علم حاصل کرنا ایک الگ بات ہے اور اس علم کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لینا ایک بالکل الگ بات۔ کتابوں میں کسی حقیقت کو پڑھ لینا، اس کے دلائل یاد کر لینا اور اس پر گفتگو کرنے کے قابل ہو جانا علم ہے، لیکن جب وہی علم انسان کے کردار، معاملات، اخلاق اور روزمرہ زندگی میں نظر آنے لگے تو وہ علم عمل کی شکل اختیار کرتا ہے۔ علم کے ساتھ عمل جمع ہو جائے تو انسان عالمِ باعمل بنتا ہے اور جب علم تو موجود ہو مگر زندگی اس کی گواہی نہ دے تو انسان ’’عالم بے عمل‘‘ کہلاتا ہے۔ دراصل علم کی اصل خوب صورتی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ انسان کے اندر تبدیلی پیدا کرے۔ ایسا علم جو زبان کو تو بہت کچھ بولنے کا ہنر دے، مگر دل اور کردار کو نہ بدلے، وہ بوجھ بھی بن سکتا ہے۔ دین کے معاملے میں تو یہ حقیقت اور بھی اہم ہے؛ کیونکہ اسلام محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ قرآن پڑھنا، احادیث جاننا، حلال و حرام کی تفصیلات سے واقف ہونا اور دینی مسائل بیان کر لینا اپنی جگہ اہم ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہم جو جانتے ہیں، اسے اپنی زندگی میں کتنا اتارتے ہیں ؟
یہ بھی پڑھئے: انسان کیسے سیکھتا ہے؟
ہم میں سے تقریباً ہر شخص جانتا ہے کہ جھوٹ بری چیز ہے، غیبت گناہ ہے، وعدہ پورا کرنا چاہئے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ضروری ہے، پڑوسی کا خیال رکھنا چاہئے، کسی کا حق نہیں مارنا چاہئے اور زبان سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہئے۔ لیکن جب کسی معمولی مفاد کا معاملہ سامنے آتا ہے تو وہی شخص جس نے ابھی کچھ دیر پہلے جھوٹ کی قباحت پر بڑی خوب صورت گفتگو کی تھی، اپنی سہولت کے لئے ایک جھوٹ بول دیتا ہے۔ غیبت کے حرام ہونے کا علم رکھنے والا کسی مجلس میں بیٹھ کر دوسرے کی عزت کو موضوعِ گفتگو بنا لیتا ہےاور حقوق العباد کی اہمیت بیان کرنے والا کبھی کسی کمزور کا حق دبانے میں عار محسوس نہیں کرتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علم اور عمل کے درمیان موجود خلیج نمایاں ہو جاتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں معلوم نہیں ؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے علم کو اپنی خواہشات پر حاکم نہیں بناتے۔ ہم دین کو پڑھتے ہیں، سنتے ہیں، بیان کرتے ہیں، دوسروں کو سمجھاتے ہیں، مگر جب باری اپنی ذات پر عمل کرنے کی آتی ہے تو نفس ہزار تاویلیں پیش کر دیتا ہے۔
قرآن مجید نے علم اور عمل کے اسی تضاد پر نہایت سخت انداز میں متنبہ کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو۔ ‘‘ (الصف:۲۔ ۳)یہ آیت صرف زبان کی اصلاح نہیں کرتی بلکہ انسان کے قول و عمل کے درمیان مطابقت کا مطالبہ کرتی ہے۔ قرآن ایک دوسرے مقام پر بہت ہی خوبصورتی سے علم و عمل کے تضاد کو بیان کرتا ہے:’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟‘‘ (البقرۃ:۴۴) رسول اکرم ؐ نے بھی اس تضاد کے انجام سے خبردار فرمایا ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ایسے شخص کا ذکر ہے جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا اس لئےقیامت کے دن اس کے اس تضاد پر اسے سخت سزا کا سامنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: حالات کا تقاضا ہے کہ فکرِ رضا کا اعادہ کیا جائے، اسے رسمی نہ بنایا جائے
اس کی ایک مثال جائیداد میں بہن کے حق کی ہے۔ اسلام نے عورت، خصوصاً بیٹی اور بہن کے میراثی حقوق کو واضح اور باقاعدہ شرعی اصولوں کے تحت متعین کیا ہے۔ شاید ہی کوئی مسلمان ایسا ہو جو یہ نہ جانتا ہو کہ بہن کو اس کے شرعی حصے سے محروم کرنا درست نہیں۔ قرآن نے میراث کے احکام تفصیل سے بیان کیے، لیکن عملی زندگی میں ہمارے معاشرے کا ایک تلخ منظر یہ ہے کہ بہت سی بہنیں اپنے بھائیوں سے اپنا شرعی حق مانگنے میں بھی جھجھکتی ہیں اور بعض بھائی بہن کا حق دینے کو احسان سمجھتے ہیں۔ کہیں جذباتی دباؤ استعمال ہوتا ہے، کہیں رسم و رواج کا سہارا لیا جاتا ہے اور کہیں خاموشی سے حق روک لیا جاتا ہے۔ حالانکہ مسئلہ علم کا نہیں، عمل کا ہے۔ اسی طرح والدین کے حقوق، اولاد کے حقوق، میاں بیوی کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق، رشتہ داروں کے حقوق، مزدور اور ملازم کے حقوق، لین دین میں دیانت اور امانت، ان میں سے اکثر احکام سے مسلمان واقف ہیں ؛ لیکن کتنے لوگ ان حقوق کو واقعی ادا کرتے ہیں ؟ یہی سوال حضرتِ انسان کیلئے لمحۂ فکریہ ہے کہ اگر ہم حق سے واقفیت کے باوجود حق ادا نہیں کرتے تو ہمارے علم نے ہماری زندگی کو کتنا بدلا اور ہم نے اسلام کو کتنا جیا!
مسلمانوں کی زندگی میں بے چینی اور بے سکونی کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم اسلامی احکامات کا علم تو رکھتے ہیں، مگر انہیں جیتے نہیں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ پر توکل کرنا چاہئے، مگر ہر وقت مستقبل کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں ؛ جانتے ہیں کہ صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے، مگر معمولی پریشانی میں بے قابو ہو جاتے ہیں ؛ جانتے ہیں کہ حسد دل کو جلاتا ہے، مگر دوسروں کی خوش حالی ہمیں اندر سے بے چین کرتی ہے؛ جانتے ہیں کہ دنیا عارضی ہے، مگر اس کی دوڑ میں اپنی پوری زندگی کھپا دیتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ معافی فضیلت ہے، مگر دل میں برسوں کی رنجشیں پالے رکھتے ہیں۔ گویا ہماری زبان دین کے اصول جانتی ہے، مگر ہماری زندگی ان اصولوں کے ساتھ چلنا نہیں سیکھ پاتی۔ حالانکہ دین کا اصل مقصد ہی انسان کے ظاہر و باطن میں ایسی ہم آہنگی پیدا کرنا ہے کہ اس کا دل ذات باری تعالیٰ سے جڑ جائے اور اس کے اعمال اس تعلق کی گواہی دیں۔
یہ بھی پڑھئے: یقین زندہ ہو تو وہ دروازے کھل جاتے ہیں جن کا گمان بھی نہیں ہوتا
خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم واقعی ایک مثالی، پُرسکون اور پُرلطف زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسلامی احکامات کی جانکاری کے ساتھ ان پر عمل کی بھی مخلصانہ کوشش کرنی ہوگی۔ ہم دین کو جانیں، یہ بہت اچھی بات ہے لیکن اس سے بھی خوبصورت بات یہ ہے کہ ہم دین کو جینا شروع کر دیں !
علم با عمل کی توفیق کے لئے ۶؍باتیں زندگی کا حصہ بنالیں
علم کے ساتھ عمل کی توفیق حاصل کرنے کے لئے ہمیں چند بنیادی باتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
(۱) جو علم حاصل کریں، اس کو فوری طور پر عمل
میں لانے کا عزم کریں۔
(۲) اپنے علم کو دوسروں پر تنقید کا ذریعہ بنانے
سے پہلے اپنی اصلاح کا آئینہ بنائیں۔
(۳)ہر روز اپنا محاسبہ کریں کہ آج میں نے
اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟
(۴) اللہ سے دعا کریں کہ وہ علم کو نافع اور عمل
کو خالص بنائے، کیونکہ محض ارادہ کافی نہیں، اللہ کی توفیق بھی ضروری ہے۔
(۵) چھوٹے اعمال سے آغاز کریں ؛ ایک دم
پوری زندگی بدلنے کے بجائے روزانہ ایک اخلاق، ایک عادت اور ایک حق کی ادائیگی پر توجہ دیں۔
(۶) ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کریں جن کا
کردار ان کے علم کی گواہی دیتا ہو۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ جب کبھی اپنے علم اور عمل میں فاصلہ محسوس ہو تو شرمندگی کے ساتھ رکنے کے بجائے واپسی کا راستہ اختیار کریں کیونکہ انسان کا کمال بے خطا ہونا نہیں بلکہ خطا کے بعد اصلاح کی طرف لوٹ آنا ہے۔