Updated: September 18, 2026, 11:06 AM IST
| New Delhi
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جامع مسجد کے طویل عرصے تک امام و خطیب رہے مولانا قاری محمد سلیمان قاسمی جمعرات کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انہوں نے ساکیت کے میکس اسپتال میں آخری سانس لی۔ ان کی نمازِ جنازہ کے بعد جامعہ کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ ان کے انتقال پر جامعہ برادری اور دہلی کے مسلم حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
مولانا قاری محمد سلیمان قاسمی۔ تصویر: آئی این این
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جامع مسجد میں طویل عرصے تک امام و خطیب کے طور پر خدمات انجام دینے والے مولانا قاری محمد سلیمان قاسمی جمعرات کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انہوں نے ساکیت کے میکس اسپتال میں آخری سانس لی۔ ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کے بعد انہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کے انتقال کی خبر سے یونیورسٹی برادری اور دہلی کے مسلم حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے جامعہ کی مسجد میں کئی دہائیوں تک ان کی خدمات کو یاد کیا۔
یہ بھی پڑھئے: وزیراعظم مودی کو سالگرہ پر پوری دنیا سے مبارکباد کے پیغامات
مولانا قاسمی کو احتراماً حضرتِ اقدس کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ ان کا جامعہ ملیہ اسلامیہ سے طویل تعلق رہا۔ کیمپس کی مسجد کے امام مقرر ہونے سے قبل وہ یونیورسٹی میں اسلامیات پڑھاتے تھے اور ۱۹۷۷ء میں تدریس سے سبکدوش ہوئے۔ ان کا تعلق اصل میں میوات کے نوح علاقے سے تھا اور زندگی کے آخری برسوں میں وہ مسجد کے قریب ایک سادہ رہائش گاہ میں مقیم رہے۔ دسمبر ۲۰۱۹ء میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران بھی وہ جامعہ کیمپس میں موجود تھے، جب پولیس نے یونیورسٹی میں داخل ہو کر کارروائی کی تھی۔ اس واقعے کے دوران زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’۱۴۰؍کروڑہندوستانیوں کا مفاد مقدم ہے ‘‘
ان کے انتقال کے بعد تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ لوگوں نے مرحوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت کی دعائیں کیں اور جامعہ برادری کے لیے ان کی طویل خدمات پر اظہارِ تشکر کیا۔ مولانا قاری محمد سلیمان قاسمی کا انتقال جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مسجد اور کیمپس کی زندگی سے کئی دہائیوں تک وابستہ ایک ممتاز و معروف مذہبی شخصیت کے خاتمے کی علامت ہے۔