آرٹوقلو (ترکی) کے مفتی دفتر میں باقاعدہ تقریب کے دوران شہادت پڑھی؛ اسلام قبول کرنے کے بعد نیا نام عبداللہ رکھا گیا اور قرآن مجید کا نسخہ پیش کیا گیا۔
EPAPER
Updated: September 16, 2026, 10:06 PM IST | Mardin
آرٹوقلو (ترکی) کے مفتی دفتر میں باقاعدہ تقریب کے دوران شہادت پڑھی؛ اسلام قبول کرنے کے بعد نیا نام عبداللہ رکھا گیا اور قرآن مجید کا نسخہ پیش کیا گیا۔
جنوبی کوریا سے ترکی کے تاریخی شہر ماردین آنے والے ایک سیاح نے اسلام قبول کرلیا۔ Shaevn نام سے شناخت کیے گئے سیاح نے ماردین کے آرٹوقلو ضلع کے مفتی دفتر میں منعقدہ باقاعدہ تقریب کے دوران شہادتین پڑھ کر اسلام قبول کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنا نام عبداللہ رکھا۔ اسلام قبول کرنے کی تقریب میں آرٹوقلو کے ضلعی مفتی سلیمان باران نے شرکت کی اور جنوبی کوریائی سیاح کی رہنمائی کی۔ تقریب کے دوران سیاح نے اسلامی عقیدے کے بنیادی اقرار یعنی شہادت پڑھی، جس کے بعد انہیں مسلمان قرار دیا گیا۔ مفتی دفتر کے بیان کے مطابق انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد عبداللہ نام اختیار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کا غزہ جنگ پر دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ کیخلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ
تقریب کے اختتام پر سلیمان باران نے نئے مسلمان ہونے والے عبداللہ کو قرآن مجید کا ایک نسخہ بھی پیش کیا۔ یہ تحفہ ان کے اسلام قبول کرنے کی یاد میں دیا گیا۔ سرکاری بیان میں بتایا گیا کہ تقریب آرٹوقلو ضلع کے مفتی دفتر میں منعقد ہوئی، تاہم سیاح کے اسلام قبول کرنے کی ذاتی وجوہات یا اس فیصلے کے پس منظر کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ ماردین ترکی کے جنوب مشرقی حصے میں شام کی سرحد کے قریب واقع ایک تاریخی شہر ہے۔ یہ خطہ صدیوں سے مختلف تہذیبوں، مذاہب اور ثقافتوں کے باہمی میل جول کا مرکز رہا ہے۔ شہر کی قدیم پتھریلی عمارتیں، تاریخی مقامات اور مذہبی ورثہ اسے ترکی اور بیرونِ ملک سے آنے والے سیاحوں کے لیے اہم مقام بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: میکلمور فلسطین حمایت پر امریکی ٹور سے باہر، ایڈ شیرن کو شدید تنقید کا سامنا
اسلام قبول کرنے کی یہ تقریب آرٹوقلو میں ہوئی، جو ماردین کے تاریخی قدیم شہر کا مرکزی حصہ ہے۔ یہ علاقہ اپنی قرونِ وسطیٰ کی پتھریلی تعمیرات، قدیم مساجد اور تاریخی عمارتوں کے لیے جانا جاتا ہے اور اسے یونیسکو کی عالمی ورثے کی عارضی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ ماردین کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کے باعث یہاں مختلف ملکوں سے آنے والے سیاح قدیم مساجد، مذہبی عمارتوں اور دیگر تاریخی مقامات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ جنوبی کوریائی سیاح کا اسلام قبول کرنا بھی اسی شہر کے دورے کے دوران پیش آنے والے واقعات میں شامل ہوگیا، جہاں مقامی مفتی دفتر میں ان کے لیے باقاعدہ مذہبی تقریب منعقد کی گئی۔