Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال میں بی جے پی سرکار کے سَو دن

Updated: August 26, 2026, 3:36 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

بی جے پی حکومت کے پہلے سو دنوں کی سب سے بڑی کامیابی بلکہ کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ترنمول کانگریس کو پوری طرح تباہ و برباد کردیا۔ترنمول کانگریس کے تین ٹکڑے ہوچکے ہیں۔جس پارٹی کو ممتا نے تن تنہا اپنے ہاتھوں سے بنا یا اور پروان چڑھایا وہ پارٹی ہی ممتا کے ہاتھوں سے جاتی رہی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

امیت شاہ کے اس دعوے پر تو شاید کوئی بھی یقین نہیں کرے گا کہ شوبھیندو ادھیکاری کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے مغربی بنگال میں اپنے پہلے سو دنوں میں تقریباًآدھے انتخابی وعدے پورے کردیئے۔ ہاں میں یہ مانتا ہوں کہ بی جے پی نے ان سو دنوں میں بہت سے ایسے کام کئے ہیں جن کا اس نے صوبے کے عوام سے وعدہ نہیں کیا تھا۔
بی جے پی نے ترنمول کانگریس کو ہراکر اقتدارمیں آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اقتدار حاصل کرلینے کے بعد ممتا بنرجی کا سیاسی وجود مٹانے کا وعدہ تو نہیں کیا تھا۔ تو پھرپچھلے سو دنوں سے شوبھیندو ادھیکاری پوری لگن سے اسی مشن کو پورا کرنے میں کیوں لگے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے غیر جمہوری بلکہ آمرانہ عزائم کا کھلے عام اعلان بھی کر رہے ہیں۔ شوبھیندو نے پیر کے دن ممتا بنرجی کو دھمکی دیتے ہوئے کہاکہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ممتا اب کبھی بھی گھر سے باہر قدم نہ رکھ سکیں۔’’آپ کو سڑکوں پر نکلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی سرگرمیاں سہ پہر میں فیس بک تک ہی محدود رکھیں۔‘‘  وزیر اعلیٰ نے غیر شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی خاتون پیش رو کو کہا کہ وہ بہت بوڑھی ہوچکی ہیں۔ ممتانے شوبھیندو کے بیان کو’’ خطرناک آمرانہ رویہ‘‘ کی ترجمانی قرار دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا وزیر اعلیٰ انہیں گھر میں نظر بند کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔  

یہ بھی پڑھئے: یہ طے کرنا ضروری ہے کہ ہمیں کیسا ملک چاہئے!

بی جے پی حکومت کے پہلے سو دنوں کی سب سے بڑی کامیابی بلکہ کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ترنمول کانگریس کو پوری طرح تباہ و برباد کردیا۔ترنمول کانگریس کے تین ٹکڑے ہوچکے ہیں۔جس پارٹی کو ممتا نے تن تنہا اپنے ہاتھوں سے بنا یا اور پروان چڑھایا وہ پارٹی ہی ممتا کے ہاتھوں سے جاتی رہی۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بی جے پی نے ممتا سے صرف پاور ہی نہیں پارٹی بھی چھین لی ہے۔کل تک ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو ہندوستان کی تیسری سب سے بڑی سیاسی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔آج دیدی کے پاس صرف آٹھ لوک سبھا ایم پیز اور پندرہ ایم ایل ایز بچے ہیں۔ پارٹی کے اس بچے کھچے ٹکڑے کو ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ کا لقب دے کر ممتا کے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہے۔ ممتا بنرجی جنوبی کلکتہ کے جس علاقے میں رہتی ہیں اس علاقے کا نام کالی گھاٹ ہے۔
 بی جے پی نے ترنمول کانگریس کی’’کرپٹ اورظالم ‘‘حکومت سے بنگال کے عوام کو نجات دلانے کا وعدہ کیاتھا۔لیکن نریندر مودی یا امیت شاہ نے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ بنگال میں اقتدار کی حصولیابی کے بعد بی جے پی ترنمول کانگریس کے منتخب اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی کواپنی سرپرستی میں لے لے گی۔بنگال میں ترنمول کانگریس  کے ۸۰؍ اراکین اسمبلی منتخب ہوئے تھے لیکن بی جے پی کی شاطرانہ چالوں کے سبب ۶۵؍ایم ایل ایز ممتا بنرجی سے دامن چھڑا کر شوبھیندو کی گود میں جابیٹھے۔ان باغی یا ’’غدار‘‘ ایم ایل ایز کی قیادت رتوبروتو بنرجی کررہے ہیں اسی لئے اسے ’’رتو بروتو ترنمول‘‘ کا نام دیا گیا۔ رتوبروتو کوپارٹی توڑنے کے جرم میں ممتا نے پارٹی سے نکال دیا اس کے باوجود انہیں اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن کا منصب مل گیا۔ممتا نے کچھ غلط نہیں کہا کہ ۶۵؍ باغی ایم ایل ایز کا یہ گروپ دراصل ’’ بی جے پی کی بی ٹیم‘‘ ہے۔ 
 ایک طرف اراکین اسمبلی نے گرگٹ کی طرح رنگ بدلا اور دوسری جانب الیکشن میں ترنمول کانگریس کے ہارتے ہی پارٹی کے ۲۰؍ لوک سبھا ایم پیز نے بھی سینہ ٹھونک کر یہ اعلان کردیا کہ ان کے نام بھی غداروں کی فہرست میں درج کرلئے جائیں۔ان ایم پیز کی قیادت کاکولی گھوش دستیدار اور سدیپ بنرجی جیسے لیڈر کررہے تھے جو ترنمول کانگریس کی تشکیل کے پہلے سے ممتا کے بے حد قریبی تھے۔ اراکین پارلیمان کی قلابازیاں دلچسپ بھی ہیں اور قابل رحم بھی۔ پارٹی سے الگ ہونے کا اعلان کرنے کے بعد انہوں نے نیشنلسٹ سیٹیزنس پارٹی آف انڈیا(NCPI) نام کی ایک ایسی پارٹی میں ضم ہوگئے جس کا نام کسی نے نہیں سنا تھا۔ ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا کے تین اراکین بھی استعفیٰ دے کر بی جے پی میں شامل ہوگئے اور چند دنوں کے اندر بی جے پی نے انہیں راجیہ سبھاکی نئی رکنیت طشت پر سجاکر پیش کردی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا‘‘

۴؍ مئی کو الیکشن کے نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی بی جے پی نے شکست خوردہ ترنمول کانگریس کے لیڈروں کو منظم طریقے سے ٹارگٹ کرنا شروع کردیا۔ان لوگوں کے گھروں سے باہر نکلتے ہی دس بیس مقامی بی جے پی ورکرز ’’ چور چور‘‘ کہ کر ان کا تعاقب کرتے اور ان پر انڈے برساتے۔ ممتا اور ابھیشیک تک کو اسی طرح ذلیل و خوار کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ دونوں گھر سے نکلنے اور بیان دینے سے پرہیز کرنے لگے ہیں۔ ۲۰۰۶ء میں اسمبلی الیکشن میں ترنمول کانگریس کی شرمناک شکست ہوئی تھی اور اسے۲۹۴؍ نشستوں میں صرف ۳۰؍ سیٹیں ملی تھیں لیکن اس شرمناک شکست سے بھی وہ دل  شکستہ نہیں ہوئیں اور دوماہ کے اندر سینگورمیں کسانوں سے جبراً زمین ایکوائر کرنے کے فیصلے کے خلاف اتنی زبردست تحریک چھیڑی کہ بدھادیب بھٹاچاریہ کی حکومت کی بنیادیں ہل گئیں۔اگلے سال نندی گرام کے نہتے کسانوں پر پولیس فائرنگ کے بعد ممتا کی ترنمول کانگریس نے وہاں بھی کامیاب آندولن کی قیادت کی۔ یہ اس لئے ممکن ہوپایا کیونکہ بایاں محاذ نے جمہوری اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کا نام و نشان مٹانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ الیکشن میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ بی جے پی نے الیکشن میں ترنمول کو شکست دینے کیلئے جتنے جتن کئے تھے اس سے زیادہ جتن الیکشن جیتنے کے بعد وہ ممتا کو دائمی سیاسی بن باس پر بھیجنے کیلئے کررہی ہے۔
 امیتابھ بچن نے عملی سیاست میں حصہ لینے اور رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد سیاست کو ایک گندہ نالہ  (cesspool)کہا تھا۔ اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ سیاست کو اخلاقیات سے مبرا نہیں ہونا چاہئے لیکن بنگال میں پچھلے ساڑھے تین ماہ میں اخلاقیات کی دھجیاں اڑا کرجس طرح ترنمول کے حصے بخرے کئے گئے وہ شرمناک ہے۔اس سے بھی زیادہ شرمناک ترنمول کے سینئر لیڈروں کی بے ضمیری ہے۔ ۲۰۲۴ء  کے لوک سبھا الیکشن میں ترنمول کے جن امیدواروں کوبنگال کے سیکولر ووٹروں نے بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست سے ملک کو محفوظ رکھنے کیلئے منتخب کیا تھا آج وہ اسی پارٹی کی ہدایت کے بغیر ایک قدم نہیں اٹھا رہے ہیں۔ اپنے ووٹروں کیساتھ اس طرح کی نظریاتی دغابازی کرنے والے  ذرا اپنے انتخابی حلقے کا دورہ کرکے تو دیکھیں تاکہ انہیں زمینی حقائق کا اندازہ ہو سکے۔ میرا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے ووٹروں سے نظریں نہیں ملا سکیں گے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK