Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشکل الفاظ کا درست اِملا لکھنا کتنے طلبہ جانتے ہیں؟

Updated: April 20, 2026, 1:52 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

ایک مختصر جائزہ میں ساتویں سے ۱۱؍ ویں جماعت تک کے طلبہ سے کچھ مشکل الفاظ کا درست اِملا لکھنے کو کہا گیا، کیا جواب ملا، ملاحظہ کیجئے۔

The responsibility of improving Urdu spelling in schools lies with teachers. Photo: INN
اسکولوں میں اردو املا کو بہتر بنانے کی ذمہ داری اساتذہ پر عائد ہوتی ہے۔ تصویر: آئی این این

اردو زبان اپنی لطافت، شستگی اور ادبی وقار کے اعتبار سے دنیا کی خوبصورت زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس زبان کی اصل روح اس کے صحیح تلفظ اور درست اِملا میں پوشیدہ ہے۔ مگر موجودہ دور میں یہ سوال شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ کیا اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کا املا واقعی درست ہے؟ کیا وہ مشکل الفاظ کو بغیر کسی غلطی کے لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ اس سلسلے میں ہم نے ممبئی اور اطراف کی چند اسکولوں کے طلباء و طالبات سے گفتگو کی اور ان سے کہا کہ وہ چند مشکل الفاظ لکھ کر دکھائیں۔ مثال کے طور پر ’’اولوالعزم،قسطنطنیہ،ساغر،محظوظ،عاقبت ،تعین، تعاون، استحقاق، استدلال، مستحق، معاشرت، استغفار  اور ایسے ہی چند دیگر الفاظ۔‘‘ ان طلبہ سے ہماری مختصر گفتگو اور جائزے نے کئی تشویشناک پہلوؤں کو بے نقاب کیا ۔ ہر چند کہ یہ بہت چھوٹا سا جائزہ تھا جس میں ہم نے چند ہی طلباءو طالبات سے گفتگو کی۔ یعنی سروے کے لئے’سیمپل سائز ‘ بہت چھوٹا تھا  لیکن جو نتائج آئے وہ  ہمیں تشویش میں مبتلا کرنے کے لئے کافی تھے کیوں کہ اس بہت تھوڑی سی گفتگو میں اور املے کے بالکل معمولی سے امتحان میں ہمیں اندازہ ہو گیا کہ اردو میڈیم کے لاکھوں طلبہ میں محض چند ہزار طلبہ ہی ایسے ہوں گےجو درست املا لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوںگے ۔ اس سے ہمیں اور زیادہ تشویش ہوئی کہ اگر انہیں چند سطریں لکھنے کو کہہ دیا جائے تو کیا ہو گا ؟

یہ بھی پڑھئے: وے صورتیں الٰہی… امتیاز علی تاج کی ۵۶؍ ویں برسی (۱۹؍ اپریل ۱۹۷۰ء) پر

  اس جائزہ میں جو الفاظ ہم نے پوچھے اور ان کے جو جواب ملے ان کا ذکر آگے آئے گا لیکن اس مسئلے کے حل کے لئے  سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ املا کسی بھی زبان کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر طالب علم الفاظ کو صحیح طریقے سے لکھنے کی مہارت نہیں رکھتا تو اس کی تحریر نہ صرف کمزور ہو جاتی ہے بلکہ قاری  کے لئے اس کی تحریر بوجھل ہو جاتی ہے۔ بدقسمتی سے آج کے اردو میڈیم طلبہ میں املا کی کمزوری ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔جائزے کے دوران جب طلبہ کو چند مشکل الفاظ لکھنے کو کہا گیا تو بڑی تعداد میں طلبہ ان الفاظ کو درست طریقے سے لکھنے میں ناکام رہے۔کسی نے ’’استحقاق‘‘کو ’’استیکاک‘‘لکھا، تو کسی نے  ’’استدلال‘‘کو’’استدلالل‘‘  جیسی غلط شکلوں میں پیش کیا۔ ممبئی کی ایک  اسکول کے دو طلبہ’’ اولوالعزم‘‘ کو درست نہیں لکھ سکے۔ غالباً وہ اس لفظ کو سمجھ ہی نہیں سکے۔  اسی طرح ممبئی کے ہی ایک اسکول کی نویں جماعت کی ۲؍ طالبات ساگر اور ساغر میں فرق نہیں کرسکیں۔ اسی اسکول کے ساتویں کے ایک بچے نے ’عاقبت ‘ کو ہماری متوقع تشویش کے مطابق ’’آکبت ‘‘ ہی لکھا ۔ بھیونڈی کے ایک اسکول کے ۸؍ ویںکے طالب علم نے تعاون  کے املے میں غلطی کی جبکہ اسی جماعت کا ایک دیگر طالب علم  معاشرت لکھنے میں غچہ کھاگیا ۔ حالانکہ اسی دوران بھیونڈی کے ہی ایک  جونیئر کالج کے ۱۱؍ ویں کے طالب علم نے ’’ حتی الامکان ‘‘، رئیس الظفر‘‘ اور ’’قسطنطنیہ ‘‘ کا املا بالکل درست لکھ دیا جبکہ اسی اسکول کی  نویں جماعت کی دو  طالبات نے بھی ان تینوں الفاظ کا درست املا لکھ کرہمیں تھوڑا سا راحت کا سانس لینے کا موقع دیا۔ یہاں ہمارا  مقصد طلبہ کی صلاحیت کی جانچ تو تھا ہی ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا تھا کہ ہماری نئی نسل جو اردو پڑھ رہی ہے اس میںوہ کتنی طاق ہوئی ہے اور ان کے اسکولوں میں ان پر کتنی محنت کی جاتی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ نہ صرف مشکل بلکہ نسبتاً عام الفاظ بھی طلبہ کے لئے چیلنج بن چکے ہیں۔ حالانکہ آج سے۲؍ یا ۳؍ دہائی قبل صورتحال ایسی نہیں تھی۔طلبہ بھی  املا جانتے تھے ، اساتذہ بھی اس جانب دھیان دیتے تھے اور والدین کو بھی اس بات کی فکر ہوتی تھی کہ ان کے بچے درست لکھ پڑھ رہے ہیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جس معاشرے میں اَدب زندہ اور متحرک ہوتا ہے، وہ معاشرہ فکری جمود کا شکار نہیں ہوتا

طلبہ کا املا کمزور ہونے کی متعدد  وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ مطالعے کی کمی ہے۔ جدید دور میں موبائل فون، سوشل میڈیا اور انگریزی زبان کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اردو کے مطالعے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جب طلبہ کتابیں نہیں پڑھیں گے تو ان کا الفاظ سے تعلق کمزور ہو جائے گا اور نتیجتاً وہ  درست املا سیکھنے اور پھر لکھنے  سے محروم رہیںگے۔دوسری اہم وجہ تعلیمی نظام میں تبدیلیاں ہیں۔ کئی اسکولوں میں املا کی مشق پر اب پہلے جیسی توجہ نہیں دی جاتی۔ پہلے اساتذہ باقاعدگی سے املا کے ٹیسٹ لیا کرتے تھے، غلطیوں کی نشاندہی کرتے تھے اور طلبہ کی اصلاح کرتے تھےمگر اب یہ روایت کمزور پڑ چکی ہے۔ اساتذہ نصاب مکمل کرنے کی دوڑ میں اس بنیادی پہلو کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔مزید یہ کہ گھریلو ماحول بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر گھر میں اردو زبان کا استعمال کم ہو، یا والدین خود املا پر توجہ نہ دیں، الفاظ کو درست تلفظ کے ساتھ ادا نہ کریں تو بچوں کے لئے صحیح زبان سیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ماضی میں درست تلفظ سکھانے کی شروعات گھر سے ہی ہوجاتی تھی ۔ والدین اور گھر کے بزرگ زبان کی باریکیوں سے بڑی حد تک واقف ہوتے تھے ۔ ایسےمیںبچوں کیلئے درست تلفظ ادا کرنا یا درست املا لکھنا مشکل نہیں ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: باٹلا

آج کل اکثر گھروں میں انگریزی یا مخلوط زبان (ہنگلش) کا  چلن عام ہو چکا ہے، جس سے اردو کی بنیاد مزید کمزور ہو رہی ہے۔ طلبہ سے گفتگو کے دوران ایک دلچسپ مگر افسوسناک بات یہ بھی  سامنے آئی کہ کئی طلبہ نے خود اعتراف کیا کہ وہ اردو کے مشکل الفاظ لکھنے سے گھبراتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امتحان میں بھی کوشش کرتے ہیں کہ آسان الفاظ استعمال کریں تاکہ غلطی کا احتمال نہ رہے۔ یہ رجحان تخلیقی صلاحیتوں کو بھی محدود کر دیتا ہے اور زبان کے حسن کوبھی متاثر کرتا ہے۔ ایسے میںاس صورتحال کا حل کیا ہے؟ سب سے پہلے تو اساتذہ کو چاہئے کہ املا کی مشق کو دوبارہ اہمیت دینا شروع کریں۔ روزانہ یا ہفتہ وار املا کے ٹیسٹ  لئے جائیں اور طلبہ کی غلطیوں کی اصلاح کی جائے۔ ساتھ ہی طلبہ کو اچھی اردو کتابیں پڑھنے کی ترغیب دی جائے جیسے کہ کہانیاں، مضامین اور اخباری کالم وغیرہ ۔والدین کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ انہیں چا ہئے کہ گھر میں اردو بولنے اور لکھنے کا ماحول پیدا کریں، بچوں میں اُردو اخبارات اور رسائل پڑھنے کی عادت ڈالیں، اور ان کی تحریروں پر نظر رکھیں۔ مزید برآں، جدید ٹیکنالوجی کو بھی مثبت انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اردو کے تعلیمی ایپس، آن لائن لغات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے طلبہ کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اردو میڈیم کے طلبہ میں املا کی کمزوری ایک سنجیدہ مسئلہ ضرور ہے، مگر ناقابلِ حل نہیں۔ اگر اساتذہ اور والدین سنجیدگی سے اس پر توجہ دیں تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK