شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) جائیداد کا تنہا مالک بھی شرعی حدود کا پابند ہے۔ (۲) وراثت کا ایک سوال۔ (۳) بلا اجازت ویڈیوز اپ لوڈ کرنا۔ (۴) سالِ گزشتہ کے روزے۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 5:10 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) جائیداد کا تنہا مالک بھی شرعی حدود کا پابند ہے۔ (۲) وراثت کا ایک سوال۔ (۳) بلا اجازت ویڈیوز اپ لوڈ کرنا۔ (۴) سالِ گزشتہ کے روزے۔
ایک آدمی اپنی جائداد اور املاک کاتنہامالک ہے، وہ اگر یہ کرے کہ کسی کو زیادہ اور کسی کوکم دے کر زندگی ہی میں ھبہ کردے یاکسی کو محروم کرکے باقی ورثاء یاان میں سے کسی ایک کوسب دے دے توکیا یہ صحیح ہے؟ چونکہ وہ تنہا مالک ہے تو کیا اسے یہ مالکانہ اختیار حاصل ہے یانہیں؟مرتضیٰ شیخ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: مالک ہونے کی حیثیت سے اسے ہرنوع کے مالکانہ تصرف کاحق حاصل ہے مگر شرعی لحاظ سے اس کی کچھ حدود بھی ہیں۔ قانونی اختیار کے مطابق تووہ ناجائز امور میں بھی صرف کرنے کاقانونی اختیار رکھتاہے اس کے باوجود اس پریہ پابندی ہے کہ نہ توناجائز امور میں اپنامال خرچ کرے نہ اسراف کرے۔ قرآن مجید میں ایسے مالکوں کو، جو قانونی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اسراف کے مرتکب ہوں ، شیطان کابھائی کہا گیا ہے۔ یہی نوعیت مسئلہ ھٰذا میں بھی ہے۔ انہیں قانونی اختیار توہے کہ جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں یا ورثاء کے حصوں میں حسب منشا کمی زیادتی کر دیں لیکن شریعت نے ایساکرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ بالفاظ دیگر قانونی اختیار کے باوجود ایسےتصرف کا ان کو شرعی اختیار نہیں دیاگیا بلکہ وارث کو محروم کرنے کی بڑی سخت وعید آئی ہے چاہے بالکلیہ محروم کرے چاہے جو حصہ شرعاً ملنا چاہئے اس میں کمی کردے۔ ارشاد ہے کہ جس نے وارث کواس کے حق سے محروم کیا اللہ پاک اسے جنت میں اس کے حصے سے محروم فرمادیں گے۔ عالمگیری میں ہے کہ اگر کسی ایک لڑکے کوپورامال ھبہ کردیاتو وہ مالک ہو جائیگا لیکن یہ ( باپ )گنہگارہوگا۔ حدیث میں آتا ہے کہ بدترین شخص وہ ہے جو دوسرے کی دنیا بنانے کیلئے اپنی آخرت کوتباہ کرے لہٰذا بھلے ہی وہ مالک ہے لیکن اس کو شرعاً ایسے کسی تصرف کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: اذان میں غلطی کرنا، ایک اذان سے دو جمعہ، متعینہ رقم پہ گاڑی دینا، موزوں پہ مسح
وراثت کا ایک سوال
ایک مسئلہ ہے۔ چار بھائی اور دو بہنیں ہیں تو ان کے درمیان وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی ؟پھر اس میں سے ایک بھائی کا انتقال ہو گیا تو اس کی بیوہ اور پانچ بچے ہیں تو بیوہ اور پانچ بچے کو اس کے شوہر کے انتقال کے بعد حصہ ملے گا یا نہیں اور ملے گا تو کتنا ملے گا، بیوی کو کتنا ملے گااور بچوں کو کتنا ملے گا ؟
منظور عالم، ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: وارثوں میں صرف چار لڑکے دو لڑکیاں یا چار بھائی دو بہنیں ہوں تو ترکہ کی تقسیم دس سہام سے ہوگی، ۲۔۲؍ سہام ہر لڑکے (یا بھائی )کو اور ایک ایک ہر لڑکی(یا بہن)کو دیںگے۔یہاں بعد میں تقسیم سے پہلے ایک بھائی کی وفات بھی ہوچکی ہے جس کے وارثوں میں بیوی کے علاوہ پانچ لڑکے بھی ہیں لہٰذا علم فرائض کی اصطلاح میں یہ مناسخہ کی صورت ہے۔ جس لڑکے کا انتقال ہوا ہے ترکہ میں اس کو جوحصہ ملےگا اس کا آٹھواں بیوہ کو دینے کے بعد باقی بچوں میں تقسیم کردیا جائےگا۔ اس طرح اس کے حصے کے چالیس سہام بناکر پانچ بیوہ کو اور فی کس سات سہام ہر بچے کو ملیں گے ۔مناسخے کا عمل مکمل ہونے کے بعد چالیس سہام مرنے والے بھائی کے ورثاء کو چالیس چالیس باقی تین زندہ بھائیوں کو اور بیس بیس سہام مورث اعلیٰ کی ہر لڑکی کو دیئے جائیں گے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: علماء نے والدین کو اولاد کے حق میں بد دعا کرنے سے منع کیا ہے
بلا اجازت ویڈیوز اپ لوڈ کرنا
میں یوٹیوب پر شارٹ ویڈیوز بناتا ہوں۔ شارٹ ویڈیوز بنانے کے لئے مجھے تصاویر اور ویڈیوز کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا میں دوسروں کے چینلز سے ان کی اجازت کے بغیر ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہوں اور ان میں ایڈٹ کر کے پھر انہیں اپ لوڈ کر سکتا ہوں؟عبد اللہ ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: سب سے پہلے قابل توجہ امر یہ ہے کہ چینل کی کیا حیثیت ہے اورکیا چینل پر اَپ لوڈ کئے جانے والے ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والے کی ملکیت ہوتے ہیں؟ اصولی طور پر کوئی شخص اپنا وقت، صلاحیت اور سرمایہ وغیرہ لگا کر کوئی چیز وجود میں لائے تو وہ شے اس کی ملکیت سمجھی جاتی ہے چاہے کوئی تحریر (نظم ونثرہو یا کسی نوعیت کی کوئی ایجاد)۔ عرف عام میں اسے حق تصنیف اور کاپی رائٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہمارے اکابر میں سے متعدد حضرات نے حق تصنیف کو حق ملکیت نہیں سمجھا اس لئے ان کے یہاں چند شرائط کے ساتھ ان کی تصانیف سے اخذ واستفادے کی عام اجازت ہے جبکہ کتاب یا ایجاد وغیرہ پر آنے والے مصارف اور محنت کو دیکھتے ہوئے کئی حضرات حق تصنیف کی ملکیت کا نظریہ رکھتے ہیں۔ چینل کے متعلق غالباً یہی طے ہے کہ وہ ملکیت ہے۔ اگر واقعی صورت حال یہی ہو تو دوسرے کے چینل سے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے اجازت کی ضرورت ہوگی نیز ایڈٹ کرکے اپ لوڈ کرنے کے لئے بھی اجازت درکار ہوگی ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: نمازی کے آگے سے گزرنا، قسطوں پر حج و عمرہ ادا کرنا، تہجد کی نماز
سالِ گزشتہ کے روزے
پچھلے رمضان میں بیماری کی وجہ سے میرے کچھ روزے چھوٹ گئے تھے ۔ رمضان کے بعد ارادہ توہوتارہا کہ قضاروزے رکھ لوں مگر سستی کی وجہ سے رکھ نہ سکا۔ اب رمضان قریب ہے توکیاقضاروزے باقی رہتے ہوئے رمضان کے روزے رکھے جاسکتے ہیں؟محمد اشفاق، اکولہ
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق:بیماری کی وجہ سے روزے چھوٹ جائیں تو حکم یہ ہے کہ رمضان کے بعد ان کی قضا رکھ لی جائے ۔ قرآنِ کریم میں ہے فعدۃ من ایام اخر لیکن قضا کیلئے کوئی خاص وقت مقرر نہیں کیاگیا ۔ شریعت کی منشایہ ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو قضا روزے رکھ کر سبکدوش ہوجاناچاہئے مگر ایسا کہیں نہیں ہے کہ اگلے رمضان تک قضاروزے نہ رکھنے کی صورت میں رمضان کے روزوں پر کسی قسم کااثر پڑے گا اس لئے جتنے روزوں کی قضا بہ سہولت ممکن ہو ابھی رکھ لیں باقی رمضان کے بعد پورے کرلیں ۔واللہ اعلم وعلمہ اتمn