شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) نماز کی جگہ اور امام و مؤذن کی رہائش گاہ۔ (۲) اذان اور نماز کا ایک مسئلہ۔ (۳) بینک میں جمع رقم سے حج۔
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 4:28 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) نماز کی جگہ اور امام و مؤذن کی رہائش گاہ۔ (۲) اذان اور نماز کا ایک مسئلہ۔ (۳) بینک میں جمع رقم سے حج۔
نماز کی جگہ اور امام و مؤذن کی رہائش گاہ
امام صاحب اوپر کی منزل میں کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں اور اوپر کی منزل بھر جائے، تو نیچے کی منزل میں مقتدی اگر امام کے ساتھ پڑھنا چاہے تو کیا یہ درست ہے؟ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جگہ کم ہونے کی وجہ سے امام کے لئے اگر مسجد کی چھت پر حجرہ بنا دیا جائے، بچوں کے رہنے سہنے کے لئے تو اس بارے میں کیا حکم ہے؟ عبداللہ، ممبئی
باسمہ تعالیٰ ۔ ھوالموفق: مسجد کے تمام طبقات مسجد ہی کے حکم میں ہوتے ہیں ۔بہتر طریقہ یہ ہے کہ امام نیچے کی منزل پر کھڑاہو اور اس کے ساتھ مقتدی بھی وہیں رہ کر اقتدا کریں، پھر اگر نیچے کی جگہ بھر جائے تو باقی حضرات بالائی منزل پر کھڑے ہو جائیں۔ اس صورت میں اگر اوپر تک آواز اس طرح پہنچ رہی ہو کہ کسی قسم کا اشتباہ باقی نہ رہے تو اوپر والوں کی اقتدا بھی درست ہوگی لیکن نیچے جگہ رہتے ہوئے اوپر کھڑا ہونا کراہت سے خالی نہیں۔ اس کے برخلاف اگر امام بالائی منزل پر کھڑا ہو تو اگر چہ یہ مناسب طریقہ نہیں ہے لیکن مقتدی بھی اس کے ساتھ اسی منزل پر ہوں تو نماز سب کی ہوجائیگی۔ اوپر جگہ باقی نہ رہنے کی صورت میں کچھ مقتدی مجبورا نیچے کھڑے ہو جاییں تو اشتباہ نہ ہونےکی شرط کے ساتھ نماز ان مقتدیوں کی بھی درست ہوگی ۔
امام ومؤذن کی رہائش کے لئے اصولاً مسجد ِ شرعی کی حدود سے ہٹ کر انتظام کیا جانا چاہئے لیکن اگر تعمیر مسجد سے پہلے یہ طے کرلیا جائے کہ ایک حصے میں امام ومؤذن کی رہائش گاہ بھی ہوگی تو چونکہ یہ رہائش مصالح میں شامل ہے اس لئے گنجائش ہے لیکن ایک کونے میں الگ اسے بنایا جائے ۔مسجد کی تعمیر کے بعد میں ایسا تصرف درست نہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: غیبت پر معافی مانگنا، زمین کا سودا منسوخ کرنا، رخصتی اور مہر کا مسئلہ
اذان اور نماز کا ایک مسئلہ
عرض یہ ہے کہ(۱)بغیر سر ڈھکے(ٹوپی کے بغیر) اذان کا پڑھنا اور تکبیر کا پڑھنا کیادرست ہے جبکہ سر کو ڈھکے ہوئےاور حضرات بھی موجود ہوں؟ (۲) اذان کے الفاظ کو ایک کاغذکے پرزےپر لکھ کرمائیک کے اوپر چپکادیاگیاہے۔ زیادہ تر وہ حضرات اذان پڑھتے ہیں جن کو کلمات ِ اذان یاد نہیں ہیں، توکیاان کا دیکھ کراذان پڑھنا درست ہے؟ برائے مہر بانی رہنمائی فرمائیں۔ حفیظ الرحمٰن، سانگلی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: ننگے سر اذان و نماز منقول نہیں۔ اللہ کے رسولؐ عمامہ باندھتے تھے۔ علماء نے لکھا ہے کہ سر پر پوری ورنہ کم ازکم ٹوپی سے سر ڈھکا رہے یہ بہتر ہے۔ جو حضرات اذان دینے پر مامور تھے ان سے بھی ننگے سر اذان دینا ثابت نہیں۔ یہ مسئلہ آداب و اہتمام سے تعلق رکھتا ہے جس کی رعایت بھی مطلوب ہے تاہم اگر کبھی کسی وجہ سے ننگے سر اذان دی تو اذان ہوجائیگی مگر یہ بہتر نہیں خاص کر جب کوئی معقول عذر نہ ہو۔مؤذن کی جو صفات مذکور ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ کلماتِ اذان سے واقف اور ان کی ادائیگی پر قادر ہو۔ اس لئے کاغذ پر لکھ کر انہیں دہرانا نامناسب امر ہے۔ جہاں ایسے لوگ موجود ہوں جنہیں کلمات مستحضر نہ ہوں اور جنہیں اذان یاد نہیں ان کے بجائے جنہیں اذان یاد ہے ان کو اذان دینی چاہئے البتہ اگر کسی جگہ کوئی ایسا شخص نہ ہو جسے کلماتِ اذان یاد ہیں تو مجبوری ہے۔ اس صورت میں کچھ لوگوں کو یا جسے اذان دینی ہے اسے کوشش کرکے یاد کرلینا چاہئے واللہ اعلم وعلمہ اتم
بینک میں جمع رقم سے حج
مفتی صاحب سوال یہ تھا کہ ایک شخص کی تمام رقم بینک میں جمع ہے ان روپیوں سے حج کرنا کیسا ہے؟یا پھر جو بہترین طریقہ ہے اس کی رہنمائی فرمائیں ۔ محمدصادق ، بھیونڈی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: حج میں خرچ ہونے والا حلال ہونا چاہئے ،حرام مال حج میں صرف کرنا منع ہے۔ مال حرام کا شرعاً مصرف یہ ہے کہ اسے فقراء و مساکین پر صدقہ کرکے حرام کے وبال سے محفوظ رہنے کی کوشش کی جائے۔ نہ ذاتی استعمال صحیح ہے نہ ہی اسے دینی ضروریات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر حج کرنے والے نے حرام مال سے حج یا عمرہ کیا تو فرض اگرچہ ذمے سے ساقط ہوجائے گا لیکن اجر وثواب سے محروم رہےگا۔ اس ضروری تمہید کے بعد توجہ طلب امر یہ ہے کہ سوال میں بینک کی جس رقم کا ذکر ہے اس سے کیا مراد ہے۔ ایک رقم تو وہ ہے جو خود بینک میں جمع کرائی ہے، دوسرا اس پر ملنے والا سود ہے۔ جمع کردہ رقم بلاشبہ حلال ہے اور بطور سود ملنے والی رقم شرعاً حرام ہے لہٰذا اگر حاجی بینک سے اپنی جمع کردہ رقم نکال کر اس کے ذریعہ حج کرے تو کوئی قباحت نہیں لیکن سود میں ملنے والی رقم جو حرام ہے اگر اسے حج میں استعمال کیا تو یہ مال حرام کا استعمال ہوگا اور بندہ فرضیت کے ساقط ہونے کے باوجود اجر وثواب سے محروم رہےگا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم