عالمی شہرت یافتہ مصنفہ ارو ندھتی رائے کی یادداشتوں کے مجموعے’مدر میری کمس ٹو می‘ کا ایک جائزہ، جس میں ایک بیٹی کی نفسیاتی کشمکش، ایک ماں کی غیرمعمولی شخصیت، رشتوں کی پیچیدگی اور سماج کی تہہ در تہہ حقیقتیں ایک ساتھ نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتی ہیں۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 6:24 PM IST | Ghulam Arif | Mumbai
عالمی شہرت یافتہ مصنفہ ارو ندھتی رائے کی یادداشتوں کے مجموعے’مدر میری کمس ٹو می‘ کا ایک جائزہ، جس میں ایک بیٹی کی نفسیاتی کشمکش، ایک ماں کی غیرمعمولی شخصیت، رشتوں کی پیچیدگی اور سماج کی تہہ در تہہ حقیقتیں ایک ساتھ نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتی ہیں۔
یوں تو ہر تصنیف بامعنی الفاظ کا ایک مجموعہ ہوتی ہے لیکن بعض کتابیں حقیقتاً انسانی روح کے زخموں، یادوں اور احساسات کی بازگشت بن جاتی ہیں۔ اروندھتی رائے کی خودنوشت ’مدر میری کمس ٹو می‘ بھی ایک ایسی ہی تخلیق ہے جس میں ایک بیٹی کی نفسیاتی کشمکش، ایک ماں کی غیرمعمولی شخصیت، رشتوں کی پیچیدگی اور سماج کی تہہ در تہہ حقیقتیں ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔ یہ کتاب محض ذاتی یادداشتوں کا بیان نہیں بلکہ ایک عورت کے شعور، بغاوت، تنہائی اور شناخت کی داستان ہے۔
یہ بھی پڑھئے : رامپور سے بھوانی پور تک، طاقت کا استعمال اور اعتماد کا بحران
اروندھتی صرف دو برس کی تھیں جب ان کی والدہ میری رائے، شوہر سے علاحدگی اختیار کرکے دونوں بچوں سمیت اپنے آبائی وطن چلی آئیں۔ میری، کیرالا کی سیرئین کرسچین، دائمی دمے کی مریضہ لیکن بلند عزائم رکھنے والی سخت گیر خاتون تھیں۔ انھوں نے ایک اسکول قائم کیا اور خواتین کے حقوق کیلئے سرگرم رہیں۔ اپنی ماں کی درشت مزاجی کے کچوکے برداشت کرتے اروندھتی ۱۶؍ سال کی ہوئیں۔ ہائی اسکول پاس کیا اور دہلی چلی آئیں جہاں اسکول آف آرکیٹیکچر اور پلاننگ میں داخلہ لیا۔ ۱۸؍ سال کی عمر ہوئی تو گھر سے رابطہ منقطع کیا۔ زندگی کا اگلا سفر اروندھتی نے گرتے سنبھلتے اپنے دم پر طے کیا۔ پہلے تو انھوں نے اپنا اصل نام’سوسانہ‘ ترک کیا۔ رفتہ رفتہ، قصداً اپنے کو تبدیل کرتے ہوئے کچھ اور بن گئیں۔ چھوٹی موٹی نوکریاں کیں۔ پھر فلموں میں ادا کاری کرنے اور اسکرپٹ لکھنے کا موقع ملا، کچھ شہرت بھی ملی۔ ایک فلم کیلئے بہترین اسکرین پلے کا قومی ایوارڈ ملا۔
۱۹۹۲ء کے آس پاس ان کا ایک غیر مطبوعہ مضمون اتفاقاً اس دور کے مقبول رسالے سنڈے کے مدیر کی نظروں سے گزرا۔ ’’یہ کس نے لکھا ہے؟‘‘ اور اروندھتی نے کسی بچے کی طرح انگلی اٹھائی؛’’میں نے۔ ‘‘ یہ ان کی اولین تحریر تھی جو کسی موقر جریدے میں شائع ہوئی۔ ۱۹۹۷ء میں ان کے ناول، دی گاڈ آف اسمال تھنگس یعنی (چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خدا) نے عالم ادب میں دھوم مچادی۔ انھیں بوکر انعام سے نوازا گیا۔ اب وہ ایک انتہائی مشہور ادیبہ تھیں۔ پھر وہ مسلسل لکھتی رہیں ملکی اور عالمی ظلم و ستم کے خلاف ڈیڑھ درجن غیر افسانوی کتابیں لکھتے وقت ان کا قلم تلوار کی طرح کام کرتا رہا۔ ۲۰۱۷ء میں دوسرا ناول، دی منسٹری آف اٹموسٹ ہیپی نیس (منتہائے شادمانی کی وزرات) بھی بیحد مقبول ہوا۔
یہ بھی پڑھئے : بی جے پی کے اعتماد کا مقابلہ کس طرح کیاجائے؟
اروندھتی کی والدہ، میری رائے ایک غیرمعمولی عورت تھیں۔ انہوں نے کیرالا کے قدامت پسند عیسائی معاشرے میں عورتوں کے وراثتی حقوق کیلئے قانونی جنگ لڑی۔ بظاہر وہ ایک مضبوط اور بیباک خاتون تھیں۔ ان کی شخصیت کے کئی ایسے پہلو بھی تھے جو خوف، سختی اور جذباتی دوری سے عبارت تھے۔ یہی اس خودنوشت کا سب سے اہم اور دل گداز پہلو ہے کہ مصنفہ اپنی ماں سے محبت بھی کرتی ہے اور نفرت بھی۔ وہ ان کے رویوں سے زخم خوردہ بھی ہیں اور اپنی کامیابی میں ماں کی اس تربیت کی معترف بھی جس سے وہ متنفر رہی۔ اس تضاد نے پوری کتاب کو ایک گہری نفسیاتی کیفیت عطا کی ہے۔
اروندھتی اپنی والدہ کو’مسز رائے‘ لکھتی ہیں۔ مسز رائے علالت کی وجہ سے انتہائی غصیلی ہوگئی تھیں اور بچوں کو اکثر مارتی پیٹتی تھیں۔ کہتی ہیں کہ ’’انھوں نے ہمیشہ مجھ سے ایک ایسے فرد سا رویہ رکھا جسے کڑے ڈسپلن میں رکھنے اور ہروقت احکامات سناتے رہنے کی ضرورت ہو۔ ‘‘ مسز رائے کہتیں ؛’’کیا یہ میرے لئے اچھاہے کہ لوگ یہ سوچیں کہ میری بیٹی پرلے درجے کی بیوقوف ہے؟‘‘ ماں کی جانب ملنے والی تحقیراورجھڑکیاں، بیٹی اپنے دل کے نہاں خانوں میں دفن کرکے محفوظ کرلیتی۔ پھر اروندھتی بھاگ کھڑی ہوئیں ؛’’میں نے اپنی ماں سے علاحدگی اس لئے اختیار نہیں کی کہ میں اسے چاہتی نہ تھی بلکہ اس وجہ سے کہ میرا ان کے لئے پیار برقرار رہے!‘‘
مسز رائے کتنی سخت دل رہیں ہوں گی؛ خود اپنی والدہ کی آخری رسومات میں نہیں گئیں۔ برسوں کی قطع تعلقی کے بعد جب اروندھتی ملنے گئیں ؛’’انھوں نے مجھ سے یہ بالکل نہیں پوچھا کہ ان۷؍ برسوں میں جب میں بھگوڑی رہی تو اپنی زندگی کیسے گزاری، تعلیم کیسے مکمل کی ؟ میں نے بھی نہیں بتایا کہ میں کن حالات سے گزری تھی۔ ‘‘مسز رائے نے بیٹی کو سوچنا سکھایا، اسے آزاد ہونا سکھایا اور پھر اس کی آزادی پر آگ بگولہ ہوئیں۔ انھوں نےاروندھتی کو لکھنا سکھایا اور پھر ان کے رائٹر ہونے پر ناراض ہوئیں۔ قاری اپنےجذبات سنبھالنے لگتا ہے جب اروندھتی لکھتی ہیں ؛ ’’آخری عمر میں مسز رائے نے مجھےمیسج بھیجا کہ اس دنیا میں ایسا کوئی نہیں ہے جسے میں نےتجھ سے زیادہ چاہا ہو!‘‘ بیٹی کا جواب نپا تلا تھا، ’’آپ سب سے انوکھی، شاندار خاتون ہیں۔ میں آپ سے بڑی عقیدت ر کھتی ہوں۔ ‘‘
مصنفہ نے گھر چھوڑنے کے بعد بڑا عرصہ عسرت و تنگدستی میں گزارا۔ سائیکل پر دہلی کی سڑکیں ناپیں۔ گوا کے ہِپّی لڑکوں لڑکیوں کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں۔ درگاہ حضرت نظام الدین کے اطراف پڑے رہنے والے مفلسوں کے ساتھ دوستی کی۔ کہتی ہیں کہ میرے پاس پیسے نہ تھے۔ ان دنوں ٹی شرٹ اور ریڈی میڈ کپڑے خریدنا آسان نہ تھا۔ میں نے اپنی پتلونوں کو تکونے پیوند لگا کر بیل باٹم بنائے۔ اپنے بھائی کے چند شرٹ چرائے۔ اس کی بنیانیں بھی، جنھیں رنگ کروایا۔ وہ پرانے گھسے ٹی شرٹ جیسے لگتے تھے۔ آج کل کی لیبل شاپنگ کے مقابلے اس طرح کے ملبوسات پہننے کا لطف ہی اور تھا۔ لیکن اب جب کہ وہ خاصی دولت مند ہیں تو اپنی آمدنی کے ایک جز سے نئے قلمکاروں کی مدد کرتی ہیں۔
اروندھتی کا اپنے ذاتی طرز زندگی کا بیان ہمارے اردو قارئین کی حساسیت پر قدرے گراں گزرے گا۔ شاید کچھ گھن بھی محسوس ہو لیکن دوسری جانب انھوں نے مظلوموں، عام لوگوں کی حمایت میں اپنے آپ کو اور اپنے قلم کو تیار رکھا۔ اپنے مضمون’ بالاتر مشترکہ بھلائی‘ میں انھوں نے ندیوں پر بڑے باندھ اور ماحول پر ان کے تباہ کن اثرات کا جائزہ لیا۔ ہزاروں لوگوں کے بے گھر بے در ہونے سے پیدا ہونے والے انسانی اور معاشی المیے پر روشنی ڈالی۔ گجرات کے سردار سروور بند کے خلاف نرمدا بچاؤ تحریک میں شامل ہوئیں۔ پھولن دیوی کی خود اعتمادی سے متاثر ہوئیں۔ ان پر بننے والی فلم پر تیکھی تنقید کی۔ ایٹمی ہتھیاروں کی مخالفت میں لکھا۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کو خود وہاں وقت گزار کر دیکھا اور بے خوفی سے اس پر لکھا۔ موجودہ حکومت اور اس کے نظریات پر بےلاگ ولپیٹ تنقید کی۔ ماؤوادی گوریلاؤں نے انھیں دانتے واڑہ کے جنگلوں میں آنے کی دعوت دی۔ اروندھتی کچھ دنوں ان باغی انقلابیوں کے ساتھ رہیں۔ کانگریس کی حکومت نے ان لوگوں کے خلاف ایک طاقتور مہم چلا رکھی تھی۔ اروندھتی کے ساتھ ان کی دوست انجم بھی تھی۔ جب بھی کامریڈ لال سلام کہتے۔ انجم کہتی لال سلام علیکم۔ جنگلوں میں ایک مقام سے دوسرے مقام اشیائے ضرورت لے کر گھومتے۔ سرخ چینٹیوں کی چٹنی اورچاول کھاتے۔ انھوں نے آؤٹ لک میگزین میں تفصیل سے اس موضوع پر لکھا۔ اروندھتی پر درجنوں مقدمے دائر ہوئے۔ ایک کیس میں انھیں ایک دن جیل میں گزارنے کی سزا ملی کہ انھوں نے معافی مانگنے سے انکار کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے : آندھی میں گرے درخت پر بیٹھ کر جھولا جھولنے کی روایت اب باقی نہیں رہی
اروندھتی، ذہین افراد کو پیسوں کےجال میں پھنسا کر ان کی آواز گھونٹنے والی بین الاقوامی این جی او فنڈنگ مشینری کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ شہرت ایک طرح کا قید بھی بن سکتی ہے۔ بکر پرائز کی شاندار تقریب میں مجھے اپنے ایک قلمکار ہونے سے زیادہ ایک گھوڑا ہونے کا احساس ہوا جس پر جواریوں نے داؤ لگایا ہو۔ کون انعام جیتے گا کون نہیں۔ میں نہ پوری کرسچین تھی نہ ہندو اور نہ پوری کمیونسٹ۔ کہتی ہیں ؛’’ اگر میرے دماغ میں نیوکلیئر بم نصب کرنے کے خیال پر احتجاج کرنے کے معنی، ہندو مخالف اور وطن مخالف ہونا ہے تو میں برأ ت کا اظہار کرتی ہوں۔ میں اپنے آپ میں ایک آزاد چلتا پھرتا جمہوریہ ہونے کااعلان کرتی ہوں۔ میرا کوئی علاقہ نہیں کوئی پرچم نہیں۔ ‘‘
مصنفہ ماضی کو اس انداز سے بیان کرتی ہے جیسے کوئی خواب آہستہ آہستہ آنکھوں کے سامنے اتر رہا ہو۔ اپنی کمزوریوں، الجھنوں اور زخموں کو چھپاتی نہیں۔ اپنی شکستوں اور داخلی تضادات کو بھی قبول کرتی ہے۔ یہ جرأت ہر لکھنے والے میں نہیں ہوتی۔ اروندھتی اس قدر جذباتی کمنٹری میں بھی قاری کو بوجھل ہونے نہیں دیتیں۔ ان کے اندر کا لکھاری بڑے معنی خیز الفاظ تراشتا ہے۔ کیا انوکھی ترکیبیں استعمال کرتی ہیں ؛ انسلٹ بریگیڈ (توہین کرنے والوں کا ٹولہ)، ایکسکوئسٹ آرٹ آف فیلیئر( ناکام ہوتے رہنے کافنِ شاندار)، رڈیکیولسلی پریٹی( مضحکہ خیز حد تک دلکش) وغیرہ۔
اس ریویو کے بعد آپ یہ کتاب پڑھیں یا نہ پڑھیں، راقم الحروف قانونی انتباہ دینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ سرورق کی تصویرتمباکونوشی کی طلب پیدا کرے تو اپنے پر قابو پایئے۔ تمباکو نوشی مضرصحت ہے۔ اوراخلاقی انتباہ یہ کہ پڑھئے اور جو کچھ مخرب اخلاق محسوس ہو اس پرعمل سے اجتناب کیجئے۔