• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’صبح کے وقت اخبار بینی اور عشاء کے بعد کتب بینی آج بھی میرے معمول کا حصہ ہے‘‘

Updated: February 15, 2026, 9:36 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

بھیونڈی، غوری پاڑہ کے ۹۰؍سالہ مسعود احمد مہدی حسن کا تعلق اعظم گڑھ سے ہے، آپ بذات خود زیادہ رسمی تعلیم حاصل نہیں کرسکے لیکن اپنے بیٹوں ڈاکٹرابوالحسنات( پروفیسر:اے ایم یو) اور ڈاکٹر ابوالبرکات (ڈائریکٹر: مانو) کو اعلیٰ تعلیم دلانے میں کامیاب رہے۔

Masood Ahmed Mehdi Hassan. Photo: INN
مسعود احمد مہدی حسن۔ تصویر: آئی این این

بھیونڈی، غوری پاڑہ کے ۹۰؍سالہ مسعود احمد مہدی حسن کی پیدائش ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو اُترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ ، کوٹیلہ گائوںمیں ہوئی تھی۔ گائوںکے مولوی عبدالرحیم صاحب سے عربی کی تعلیم حاصل کی۔ عصری تعلیم کیلئے گائوںسے ایک کوس کی دوری پر واقع رانی کی سرائے اسکول میں داخلہ لیا۔وہاں سے ۵؍ویں تک پڑھائی کرکے اعظم گڑھ کے شبلی کالج میں آگے کی پڑھائی کی لیکندسویں جماعت کاامتحان نہیں دے سکے۔ چند سال بعد والد کی ایماء پر بر ما روانہ ہوئے،جہاں ان کے چچا برف کی بوتل(ٹھنڈے) کا کاروبار کرتے تھے۔ ۵۔۴؍سال تک برما اور کم وبیش اتنا ہی عرصہ لال گنج اعظم گڑھ میں بھائی کے جنرل اسٹور پر کام کرنےکےبعد ۲۷؍نومبر ۱۹۶۷ء میں پہلی مرتبہ ممبئی کا رخ کیا۔مدنپورہ میں ان کےایک بڑے بھائی واشنگ کی دکان چلاتے تھے۔ایک دو سال بعد بھائی نے بھیونڈی کے غوری پاڑہ میں لوم کا کام شروع کیا۔اس وقت سے مسعود احمد بھیونڈی میں مقیم ہیں۔ عمر کے اس مرحلے پر بھی پوری طرح سے فعال ہیں اور پاور لوم کی نگرانی کرتےہیں۔ روزانہ علی الصباح ساڑھے ۴؍بجے بستر چھوڑدیتےہیں۔ تہجد اور فجر کی نماز کےبعد ۲؍پارہ تلاوت کرتے ہیں۔ظہر ،عصر اور مغرب کےدوران بھی ۲؍پارہ پڑھ لیتے ہیں۔ ایک گھنٹہ اخباربینی اور عشاء کی نماز کےبعد ایک گھنٹہ مختلف عنوانات پر مبنی کتابوںکا مطالعہ ان کےمعمول میں شامل ہے۔ ۹۰؍سال کی عمر میں بھی مکمل طورپر صحت مند اور چاق و چوبندہیں۔ پابندی سے چہل قدمی بھی ان کے معمول کا حصہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: وزیر تعلیم کی اسکول آنے کیلئے شرط تھی کہ استقبال کیلئے بچے دھوپ میں نہ کھڑے ہوں

برمامیں مسعود احمد’ اراوڈی‘ ندی کے قریب رہتےتھے۔ اس دور میں برما میں ریلوے کا نظام برائے نام تھا۔ لوگ عام طورپر پانی کے جہاز اوراسٹیمر سے سفر کرتےتھے۔ اراوڈی ندی کے قریب کافی مجمع ہوتا،لو گ سیر وتفریح کیلئے جمع ہوتے۔مسعود احمد نے وہیں پر اس دور کے برما کے صدرکو عام لوگوںکے ساتھ بیٹھ کر جوا کھیلتے دیکھا تھا۔ اسی دوران وہاں منعقد ہونےوالی عالمی کانفرنس میں پنڈت جواہرلال نہرو اور افغانستان کے سربراہ سردار دائود وغیرہ نے بھی شرکت کی تھی۔اتفاق سے انہیں ایام میں ،جس طرح ہندوستان میں ہولی منائی جاتی ہے، برمامیں بھی اسی طرز کا ایک تہوار منایا جارہا تھا۔وہاں لوگ رنگ کے بجائے ایک دوسرے پر ٹھنڈا پانی پھینکتےتھے۔ یہ تہوار مقامی پولیس تھانوںمیں منایاجاتاتھا۔ مسعود احمد جس علاقے میںرہائش پزیر تھے، وہ برما کے وزیر اعظم کا حلقہ تھا۔ اسی دوران پنڈت نہرو، سردار دائود اور دیگر ممالک کے سربراہ نےبھی اس تہوار میں شرکت کی تھی۔ جواہرلال نہرو ،پانی ٹھنڈا ہونےسے کانپ رہےتھے۔ یہ منظر مسعود احمد نے اپنی آنکھو ںسے دیکھاتھا۔

مسعود احمد کی پیدائش سے قبل ان کےگائوں میں بچوںکی ولادت اور لوگوں کی اموات کی اطلاع بلدیہ کے بجائے مقامی پولیس تھانےمیں درج کرائی جاتی تھی۔اس کا ایک نظم تھا، پولیس تھانےکے افسران کے گھوڑوں کو گھاس پھوس کھلانےوالا گوڑیت (وہ شخص جو گھوڑوںکو گھاس کھلاتاتھا) ہفتے میں ایک دن تھانے جاکر گائوںمیں پیداہونےوالے بچوںاور ہونےوالی اموات کی تفصیلات درج کراتاتھا۔ مسعود احمد کی پیدائش کی تاریخ بھی پولیس تھانےمیں درج کرائی گئی تھی۔گوڑیت کی بھی ایک علاحدہ شناخت تھی، وہ لال پگڑی اور ہاتھ میں لاٹھی لےکر گائوںکااحوال معلوم کرکے تھانے جاکر انہیں درج کراتاتھا۔

یہ بھی پڑھئے: میری والدہ اور ہم بھائی بہنوں نے پھوپھا کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر گاؤں کی زمین ان کے حوالے کر دی

مسعود احمد نے ملک میں ہونےوالے پہلے الیکشن کو قریب سے دیکھاہے۔ اعظم گڑھ کے مئوسے کانگریس کی ٹکٹ پر الگوراج شاستری قسمت آزمارہےتھے۔ ان کی الیکشن مہم میں حصہ لینےکیلئے پنڈت نہرو آئے تھے۔ مئو کے ایک وسیع میدان میں ان کا جلسہ تھا۔ لوگ دور دراز علاقوں سے ٹرینوں اور گاڑیوںمیں بھر کر آئے تھے۔ پورا میدان بھرا ہوا تھا۔ نہرونے بڑی جذباتی تقریر کی تھی۔ اس دور میں ہرکسی کو رائے دہی کاحق حاصل نہیں تھا ، گائوں کے چنندہ لوگوںنے ووٹ ڈالاتھا۔ 

مسعود احمد کے گائوںمیں ۷۰؍فیصد مسلم اور ۳۰؍فیصد برادران وطن آباد تھے جن میں پسماندہ ذات کی اکثریت تھی۔ برئی نامی ایک خانوادہ بھی آباد تھا۔ اسی خانوادہ سے تعلق رکھنے والے’ بدھو چاچا‘ ہندو مسلم سب میں بہت مقبول تھے۔ وہ ہرکسی کے دکھ دردمیں کھڑے رہتے۔ لوگ ان کی بڑی عزت کرتےتھے۔ لوگ ہر کام میں انہیں شامل کرتے تھے۔ ان کے ۲؍بیٹے تھے۔ اچانک طبیعت خراب ہونے سےایک دن ان کی موت ہوگئی۔ ان کے بیٹے انہیں نذر آتش کرنےکی تیاری کر رہے تھے تبھی وہاں کے مسلمانوںنے دونوں بیٹوں سے کہا کہہم بدھوچاچاکو آگ میں جلنے نہیں دیں گے ،آگ میں جلنے سے ان کے جسم کو تکلیف پہنچے گی ،جوہم سے دیکھا نہیں جائے گا۔ ہمسایوںکے جذبات اور بے لوث محبت کے آگے ، دونوں بیٹوں نے اپنے والدکو سپردخاک کرنےکی اجازت دی۔ اس طرح بدھو چاچاکو جلانےکےبجائے دفن کیا گیا۔آج بھی گائوں کے لوگ پیار ومحبت سے ایک دوسرے سے مل کر رہتےہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جن کے کا مستقل ٹھکانہ نہیں تھا، وہ میری دکان کے پتے پر اپنے خطوط منگواتے تھے

مسعود احمد کے طالب علمی کے دور میں گائوںکے عبدالرحیم مولوی صاحب کالوگ بہت احترام کرتےتھے۔ مولوی صاحب جس گلی محلے سے گزرتے، لوگ احتراماً دائیں بائیں ہوکر ان سے بچ کر نکلنے کی کوشش کرتےتھے۔ گائوںمیں ایک وکیل ولی جان تھے ،ان کے ۳؍ فرزندوں میں سے بڑے بیٹے جلیل احمد نے بھی وکالت کی پڑھائی کر کےمنصف ہونے کا اعزازحاصل کیاتھا۔ وہ بنارس میں منصف کے عہدہ پر فائز تھے۔ انہوںنے بھی مولوی صاحب سے تعلیم حاصل کی تھی۔ایک مرتبہ کسی کام سے مولوی صاحب بنارس گئے تھے۔ اسٹیشن پر اُتر کر وہ اپنی منزل کی جانب جارہےتھےکہ اچانک جلیل احمد سےملنے کاخیال آیا۔ یکے والے سے جلیل احمد کے دفتر چلنےکیلئے کہا۔ دفتر کے قریب پہنچنےپر دیکھاکہ جلیل احمد اپنی کرسی پر بیٹھے تھے جبکہ ان کاچپراسی پاس ہی کھڑا تھا، جلیل احمد کی نگاہ جیسے ہی مولوی صاحب پر پڑی ، وہ اپنی کرسی سے اُٹھے، فوراً یکے سے مولوی صاحب کا سامان خود اُتارا ، ان کاگرمجوشی سے خیرمقدم کیا۔ چپراسی کے قریب میں ہونےکےباوجود مولوی صاحب کا سامان اسے اُتارنےکیلئے نہیں کہابلکہ خود اُتارا، ملاقات کے بعد چپراسی سے یکہ منگواکر ان کا سامان یکہ میں چڑھایااور بڑے احترام سے انہیں رخصت کیا۔ اس دور کے طلبہ اپنے استاد کااحترام اس طرح کیاکرتےتھے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’فسادات میں کرفیو پاس دکھاکر مریض کیلئے اہم انجکشن کی تلاش میں کئی اسپتال گئی‘‘

مسعوداحمد ۲۰۰۵ءمیں اپنی اہلیہ اور گھر کے دیگر افراد کے ساتھ حج کرنے گئے تھے۔ ارکان کی ادائیگی کے دوران شیطان کو کنکری مارنے کےوقت وہ جیسے ہی مقررہ مقام کے قریب پہنچے،انہیں چکر آگئی۔ عزیزوں نے انہیں فوراً لٹا دیاتاکہ تھوڑا آرام مل جائے۔ چکر آنے سے وہ کنکری مارنےکاعمل اپنے ہاتھو ں سے پورانہیں کرسکے۔اپنے ایک عزیز کو وکیل بناکر یہ ارکان پورا کیا۔ طبیعت کچھ بہتر ہوئی تو اپنے خیمہ کی جانب لوٹے۔ اسی دوران اطلاع ملی کہ وہ جہاں لیٹتے تھے، وہاں بھگدڑ مچ گئی جس میں ۴۰۰؍عازمین شہید ہوگئے۔ یہ اطلاع ملتے ہی انہوںنے سب سےپہلے ہندوستان میں اپنے گھروالوںکوخیریت سے ہونےکی خبر پہنچائی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK