• Mon, 09 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وزیر تعلیم کی اسکول آنے کیلئے شرط تھی کہ استقبال کیلئے بچے دھوپ میں نہ کھڑے ہوں

Updated: February 08, 2026, 10:45 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

بھیونڈی کے معروف معلم، محقق، شاعر اور ادیب مومن عبدالملک سلیمان ۳۴؍سال تک تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد ملازمت سے سبکدوش ہوئے مگر اس کے بعد بھی تدریسی سلسلہ جاری رہا، آج ۷۵؍ سال کی عمر میں بھی علمی اورادبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

Momin Abdul Malik, a famous scholar and literary figure of Bhiwandi۔ Photo: INN
بھیونڈی کی مشہور علمی اور ادبی شخصیت مومن عبدالملک۔ تصویر: آئی این این

بھیونڈی کے مومن عبدالملک سلیمان،کی پیدائش ۱۰؍جون ۱۹۵۱ء کو بھوئی واڑہ میں ہوئی ۔ بچپن کاکچھ حصہ قیصر باغ میں اوربقیہ زندگی درگاہ روڈپر گزررہی ہے۔بھوسارمحلہ کے ہندوستانی اُردو اسکول سے چہارم اور رئیس ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا۔ بی ایس سی جوگیشوری کے اسماعیل یوسف کالج سےمکمل کیا۔ یشونت رائوچوان اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ اور میسور سے فاصلاتی نظام تعلیم کے تحت ایم اے کیا۔ علاوہ ازیں جنوبی ممبئی کے ورلی میں ساسمیرا کالج سے ٹیکسٹائل پروسیسنگ کاکورس بھی کیا۔ دوران گفتگو آپ نے بتایا کہ آپ نے اُردومیں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔

۱۹۷۶ءمیںبھیونڈی ویورس ایجوکیشن سوسائٹی ،موجودہ صمدیہ ہائی اسکول سے بحیثیت معلم عملی زندگی کا آغاز کیا۔وائس پرنسپل کے عہدہ پررہتےہوئے ۲۰۰۹ءمیں سبکدوش ہوئے۔ اس طرح۳۴؍سال تک تدریسی خدمات پیش کیں۔ ریٹائر ہونےکےبعد بھی ۲۰۱۹ء تک رئیس اور الحمد ہائی اسکول میں انگریزی مضمون پڑھانےکی ذمہ داری نبھائی۔ اس دوران کورونا کی وباء کی وجہ سے تدریسی خدمات سے علاحدگی اختیارکرلی۔۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۹ء تک مولاناآزاد نیشنل اُردویونیورسٹی اسٹڈی سینٹر بھیونڈی کے کوآرڈی نیٹر رہے۔فی الحال علمی اور ادبی سرگرمیوں  کے ساتھ ہی لکھنے پڑھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ کو بھیونڈی کے لوگ ’ملک سر‘ کے نام سےبلاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: میری والدہ اور ہم بھائی بہنوں نے پھوپھا کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر گاؤں کی زمین ان کے حوالے کر دی

جس دورمیں مومن عبدالملک بھیونڈی کےبی این این کالج میں زیر تعلیم تھے، اپنے دوستوںکے ساتھ تعلیمی اخراجات پورا کرنےکیلئے قیصر باغ پر گرمی اور دیوالی کی چھٹیوںمیں لسی فروخت کیا کرتےتھے۔ اس سے ہونےوالی آمدنی سے بیاضیں،کتابیں اور دیگر تعلیمی لوازمات خریدتےتھے۔ لسی فروخت کرنےمیں ان کے کالج کے ساتھی بلال مومن، شفیع مقری اورحسن محمد پیش پیش رہتے۔ لسی فروخت کرکے یہ سبھی ساتھی اپنی تعلیمی ضروریات پوری کرلیتےتھے۔بعض مرتبہ کالج کے پروفیسر بھی ان کی لسی پینے آتےتھے۔پروفیسر وں کی حوصلہ افزائی سے انہیں تقویت ملتی تھی۔ محلہ کے ایک شاعر عبداللطیف عرف لطفی آفاقی اکثر ان کی دکان پر آکر بیٹھتے تھے ۔ ایک روز ان سے کہاگیاکہ وہ ان کی لسی سےمتعلق کوئی شعر سنائیں ،جس پر لطفی صاحب نے کہا،اس کیلئے لسی مفت میں پلانی ہوگی۔ مفت میں لسی پلانے کی آمادگی پر، انہوںنے فوراً ایک شعر کہاجو اَب بھی ملک سر کو یاد ہے۔ ’’شوق سے پیجئے بادِ بہاری لسی، تشنگی دل کی بجھاتی ہے ہماری لسی‘‘۔ عبدالملک اور ان کے ساتھیوں نے اس شعر کو ایک کاغذ پرجلی حرفوںمیں لکھ کر دکان پر لگادیاتھا۔

یہ بھی پڑھئے: جن کے کا مستقل ٹھکانہ نہیں تھا، وہ میری دکان کے پتے پر اپنے خطوط منگواتے تھے

مومن عبدالملک تقریباً ۳۰؍ سال قبل گھومنے کیلئے کشمیر گئے تھے۔ ان دنوں صرف سون مرگ کی پہاڑیوں پر برف جمتی تھی۔برف سے گھری پہاڑی سے لطف اندوزہونےکیلئے وہ پہاڑکےایک حصے پر کھڑے  تھے، اسی دوران ایک شخص برفیلی پہاڑی کی اونچائی سے پھسل کر گرتا ہوا دکھائی دیا۔ ملک سر اپنی جگہ سے ہٹ جاتے تویقینی طورپر وہ پہاڑی سےمتصل کھائی میں جا گرتا، لیکن وہ اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑے رہے،وہ شخص گرتاہوا، ان کے پیروں سے آکر ٹکرایا۔ انہوںنے دونوں بازوں سے اسے پکڑلیا، اس طرح اس کی جان بچ پائی۔ اس شخص نے مومن عبدالملک کا پیر چھُوکر اظہار تشکر کرتےہوئےکہاتھاکہ اگر آپ نے مجھے نہ پکڑا ہوتاتو آج میری زندگی کاآخری دن ہوتا۔

مومن عبدالملک اسکول کے دور میں ایک مرتبہ اپنے دوستوںکے ساتھ ونجارپٹی ( ندی ناکہ ) پرواقع ندی میں نہانےگئے تھے۔ بارش کا موسم تھا۔ ندی اپنے شباب پر تھی ۔ ندی میں چھلانگ لگاتے ہی وہ پانی میں ڈوبنےلگے تھے۔ اندر ہی اندر کافی دور نکل گئے،اس دوران انہیں سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ وہ کیا کریں۔انہیں احساس ہورہاتھاکہ اب ان کا بچنا مشکل ہے۔ اچانک انہوںنے پانی سے باہر آنے کی ایک بھرپورکوشش کی جس میں کامیابی مل گئی ۔ اس طرح انہیں دوسری زندگی ملی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’فسادات میں کرفیو پاس دکھاکر مریض کیلئے اہم انجکشن کی تلاش میں کئی اسپتال گئی‘‘

یہ پچاس سال پرانہ واقعہ ہے۔ مومن عبدالملک اپنے دوستوںکے ہمراہ قیصر باغ کی ایک کرانہ کی دکان کے سامنے کھڑے تھے۔ ۷۔۶؍سال کا ایک لڑکا، دکان سے سامان خرید رہاتھا۔اسی دوران ایک تیز رفتار ٹرک دکان کی جانب آتی دکھائی دی، دکان کےسامنے نالے پر پڑی ایک بڑی لادی پر ٹرک کا ٹائر پڑنے سےجیسے ہی لادی کھڑی ہوئی ،وہ لڑکا نالےمیں گرااور لادی دوبارہ اپنی جگہ پرآ گری ،اس لادی کےاوپر ٹرک کاٹائر چڑھ گیا۔ اس طرح بچہ نالےمیں گرنے سے بال بال بچ گیا۔ بعدازیں ٹرک کو نالے سےہٹاکر مومن عبدالملک اور ان کے ساتھیوں نے بچے کو صحیح سلامت نالے سے نکالا۔ اس واقعہ کےبارےمیں سوچ کر آج بھی ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتےہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’قحط سالی میں زیادہ لوگوں کی دعوت کرنےپرپولیس شادی کا کھانا اُٹھا لےجاتی تھی‘‘

مومن عبدالملک اور ان کے گروپ نے ۹۰ء کی دہائی میں تین بتی پر ایک سیاسی پروگرام کیاتھا،اس دور میں اسمبلی الیکشن ہونےوالا تھا۔ ان لوگوںنے سبھی نامور سیاسی جماعتوں کے اُمیدواروںکو مدعوکیاتھا۔ ان سے کہاگیاتھاکہ آپ لوگ مخالف جماعتوں کےاُمیدواروںپر تنقید کرنےکےبجائے یہ بتائیں گے کہ آپ نے بھیونڈی کیلئے اب تک کیا کیا ہے اور اگر پھر کامیاب ہوئےتو کیاکریں گے؟ اس کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوگی۔ سبھی اُمیدواروںکو ۱۰۔۱۰؍منٹ کا وقت دیاگیاتھا۔اس موقع پر بھیونڈی کے معروف سیالی لیڈر پرشو رام ٹاورے کے علاوہ کوئی اُمیدوار ۵؍منٹ سے زیادہ نہیں بول سکاتھا۔ پرشو رام ٹاورے نے ۱۰؍منٹ تقریر کی تھی ۔بھیونڈی کی ترقی اورکامیابی کیلئے کئے گئے کاموں کےعلاوہ جیت کر آنےپر کیاکام کریں گے، اس کی تفصیلات بیان کیں، ۱۰؍منٹ مکمل ہونےکےباوجود ان کی بات پوری نہیں ہوسکی تھی۔ منتظمین سے انہوں نے کہا کہ میراوقت ختم ہوگیاہے ،اسلئے میں اپنی تقریر ختم کرتا ہوں، یہ کہہ کر مائیک چھوڑ دیاتھا۔ اس دوران کانگریس کے اُمیدوار نےپروگرام کے اختتام پر جلسہ گاہ پہنچ کرکہا میں بھی اپنی بات کہنا چاہتا ہوں لیکن منتظمین نے تاخیر سے آنے پر انہیں تقریر کرنےکی اجازت نہیں  دی،جس پر ہنگامہ ہوا۔ پولیس نے مداخلت کرکے کسی طرح معاملے کورفع دفع کیا تھا۔ بھیونڈی کی تاریخ میں سیاسی اُمیدواروںکو پرکھنے والاایسا پروگرام  نہ پہلے، نہ بعد میں، کبھی نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’میرے ایک سوال پر گلبدین حکمت یار نے کہا کہ اصل طاقت اللہ ہے، نہ کہ سپر پاورز‘‘

صمدیہ اُردوہائی اسکول میں جونیئر کالج کےقیام کی اجازت سے متعلق اس دور کے ایجوکیشن منسٹررام کرشن مورے کواسکول کادورہ کرنے کی درخواست کرنےکیلئے بھیونڈی کے اُس وقت کے رکن اسمبلی عبدالرشید طاہر مومن کے ہمراہ عبدالملک اوراسکول کے کچھ ذمہ داران ان  کےدفتر گئے تھے۔ رسمی گفتگو کےبعد انہوں نےکہا کہ فرمائیں کیا کہنا چاہتے ہیں ،جس پر ان سے اسکول کادورہ کرنےکی درخواست کی گئی۔ انہوںنے کہا عموماً میں اس طرح کا دورہ نہیںکرتا لیکن اب آپ لوگ اصرار کررہےہیں تومیں آئوں گامگر میری ایک شرط ہے، میرے استقبال کیلئے آپ ، طلبہ کو سڑک کے کنارے نہیں کھڑا کریں گے ،انہیں دھوپ میں نہیں بٹھائیں گے۔ان کی شرط مان لی گئی۔ وہ اسکول آئے، انہوں نےدورہ کیا لیکن ان کی خواہش کے مطابق ان کے استقبال کیلئےایساکوئی نظم نہیں کیا گیا تھا۔اُس دور میں ایسے مخلص اور سادگی پسند وزراءتھے۔ ۲۰۰۳ء میں ۵۵؍ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK