۶۵؍ سالہ بھیم راؤ کامبلے نے ۳؍ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کر کے اسے قتل کر دیا تھا، استغاثہ کا پھانسی کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 11:46 AM IST | Pune
۶۵؍ سالہ بھیم راؤ کامبلے نے ۳؍ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کر کے اسے قتل کر دیا تھا، استغاثہ کا پھانسی کا مطالبہ۔
پونے کے نصرہ پور میں تین سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل کے کیس نے پوری ریاست کو دہلا دیا تھا۔اس کی آخری سماعت جمعرات کو پونے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ہوئی جس میںعدالت نے ۶۵؍ سالہ ملزم بھیم راؤ کامبلے کو مجرم قرار دیا ہے۔ اس کیس میں سزا سے متعلق حتمی فیصلہ ۲۹؍ جون کو سنایا جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ یکم مئی کو ایک تین سالہ معصوم بچی جو اپنی نانی کے گاؤں چھٹیاں گزارنے آئی تھی، ملزم نے اسکے ساتھ وحشیانہ جنسی زیادتی کرنےکے بعد اسے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جرح کے دوران استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ ملزم کے خلاف موقع سے ملے شواہد، گواہوں کے بیانات اور دیگر تفتیشی نتائج کی بنیاد پر جرم شک سے بالاتر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: باڑمیر: مساجد کی حمایت میں برادران وطن سڑکوں پر
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے، وہ معاشرے کیلئے خطرہ ہے اور اس کی اصلاح کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس سے پہلے کے دو سنگین مقدمات میں وہ قانونی کارروائی کے باعث بری ہوگیا تھا لیکن اس بار اسے سخت ترین سزا یعنی سزائے موت دی جائے۔دوسری جانب جج نے سماعت کے دوران ملزم کے رویے پر بھی تبصرہ کیا۔ ملزم کو اپنا کیس پیش کرنے کیلئے کافی وقت دیا گیا۔ عدالت نے اس سے کئی سوالات پوچھے، لیکن اس نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ ملزم کی ذہنی حالت اور جنسی صلاحیت سے متعلق میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی اور بتایا گیا کہ ملزم ذہنی طور پر قابل اور جنسی فعل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب عدالت اس انتہائی حساس اور متنازعہ کیس میں سزا کا حتمی فیصلہ ۲۹؍ جون کو سنائے گی۔ یاد رہے کہ کامبلے کو سزائے موت دینے کیلئے مقامی لوگوں نے احتجاج بھی کیا تھا ۔