عوام اپنے لیڈروں کو سرگرم دیکھنا چاہتے ہیں۔ اُنہیں یہ گوارا نہیں کہ اُن کے لیڈر اقتدار یا سرکاری مراعات کا لطف لیں اور عوامی مسائل کو طاق پر رکھ دیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ لیڈر جب تک سڑک پر نہیں اُترتے، عوام کے دلوں میں جگہ نہیں بناتے۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 4:45 PM IST | Mumbai
عوام اپنے لیڈروں کو سرگرم دیکھنا چاہتے ہیں۔ اُنہیں یہ گوارا نہیں کہ اُن کے لیڈر اقتدار یا سرکاری مراعات کا لطف لیں اور عوامی مسائل کو طاق پر رکھ دیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ لیڈر جب تک سڑک پر نہیں اُترتے، عوام کے دلوں میں جگہ نہیں بناتے۔
عوام اپنے لیڈروں کو سرگرم دیکھنا چاہتے ہیں۔ اُنہیں یہ گوارا نہیں کہ اُن کے لیڈر اقتدار یا سرکاری مراعات کا لطف لیں اور عوامی مسائل کو طاق پر رکھ دیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ لیڈر جب تک سڑک پر نہیں اُترتے، عوام کے دلوں میں جگہ نہیں بناتے۔ سیاستدانوں کا فرض ہے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرنا۔ ایک دور تھا جب جارج فرنانڈیز، بہوگنا، جے پرکاش نرائن اور ایسے درجنوں سیاستداں عوامی مسائل و موضوعات پر آئے دن دھرنا دیتے، ہڑتالیں کرتے اورعوامی اجتماعات سے خطاب کرتے تھے۔ سوشل میڈیا کے اِس دور نے سیاستدانوں کی عادت بگاڑ دی۔ وہ روزانہ چند ٹویٹ کے ذریعہ سمجھنے لگے تھےکہ عوام سے جڑے ہوئے ہیں مگر جلد ہی اُنہوں نے بھانپ لیا کہ وہ غلطی پر ہیں۔ سوشلسٹ لیڈر رام منوہر لوہیا کا یہ قول اپنے دور سے زیادہ گزشتہ برسوں میں مشہور ہوا اور اپوزیشن کے لیڈروں کو دعوتِ عمل دیتا رہا کہ ’’ سڑک سونی ہوجائے تو سنسد آوارہ ہوجاتی ہے‘‘۔ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا ’’سڑک پر آنے کی کوشش‘‘ ہی تھی۔ تب سے لے کر اب تک راہل مسلسل سڑک پر ہیں، ریلیاں کرتے ہیں اور لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اُنہوں نے پارٹی کو بھی سڑک پر آنے، عوام سے ملنے، پریس کانفرنسیں کرنے وغیرہ پر مامور کردیا۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ کے ساتھ بہتر سلوک ہوسکتا تھا!
اسی سلسلے کی کڑی گزشتہ روز کا دھرنا ہے جو کانگریس کے تمام اراکین ِ پارلیمان نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر دیا جس نے حکومت، برسراقتدار محاذ، خفیہ ایجنسیوں، پولیس اور میڈیا کو چونکا دیا۔ اس دھرنے کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کانگریس اچانک ایسا قدم اُٹھائے گی کہ ہر خاص و عام بشمول حکمراں محاذ کا ہمنوا میڈیا کھرگے، راہل، پرینکا، وینو گوپال اور دیگر کے دھرنے کی جانب متوجہ ہوجائیگا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ارباب اقتدار جو ایک ماہ سے زیادہ عرصہ سے نہ تو طلبہ کی آواز سن رہے تھے نہ ہی اپوزیشن لیڈروں کے مطالبات پر کان دھرنے کو تیار تھے ، فوراً حرکت میں آگئے لہٰذا دھرنے پر بیٹھے کانگریسیوں سے بات چیت کیلئے فوراً وزیر مملکت ڈاکٹر جیتندر سنگھ کو روانہ کیا گیا۔ جو کام اتنے دنوں میں نہیں ہو پایا تھا وہ محض چند منٹوں میں ہوگیا، ہیڈ لائنس بدل گئیں اور ہر طرف کانگریس چھا گئی۔
اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں طلبہ کے مسائل بالخصوص پیر کو ہونے والے لاٹھی چارج پر بحث شروع کردی جاتی تو کانگریس کے اراکین پارلیمان کو یہ قدم اُٹھانے اور ہر خاص و عام کی توجہ ’’ہتھیا لینے‘‘ کا موقع نہ ملتا۔ اس اقدام سے ایک بار پھر یہ اشارہ ملا کہ ۲۰۱۴ء میں این ڈی اے کے اقتدار میں آنے کے بعد جو کانگریس ایئر کنڈیشنڈ کمروں کی سیاست کررہی تھی، سڑک کی سیاست کیلئے کمربستہ ہوچکی ہے۔ طلبہ کے مسائل کیلئے کانگریس کی یوتھ وِنگ اور طلبہ وِنگ نے کئی شہروں میں پُرزور احتجاج کیا جبکہ راہل نے کوٹا اور دہرا دون میں خصوصی ریلیاں کیں۔
ہوسکتا ہے کانگریس کے سامنے یہ سوال ہو کہ طلبہ کے مسائل کو ہم نے زوروشور سے اُٹھایا مگر اس سے بننے والی عوامی لہر پر کاکروچ جنتا پارٹی قابض نہ ہوجائے جسے جنتر منتر پر بھرپور حمایت مل رہی ہے۔ اگر ایسا ہے تب بھی کانگریس کو فکرمند نہیں ہونا چاہئے، اُسے اقتدار کی خواہش سے بالاتر ہوکر دل جیتنے کا عمل جاری رکھنا چاہئے۔