Inquilab Logo Happiest Places to Work

اجلاس ختم، سوال باقی

Updated: August 14, 2026, 5:18 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

پارلیمنٹ کا بارانی اجلاس، جو ۲۰؍ جولائی کو شروع ہوا تھا، تکمیل کو پہنچا۔ ماضی میں ضروری اُمور پر بحث و مباحثہ کیلئے مزید وقت کی ضرورت ہوئی تو اجلاس کی میعاد میں توسیع کی گئی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

پارلیمنٹ کا بارانی اجلاس، جو ۲۰؍ جولائی کو شروع ہوا تھا، تکمیل کو پہنچا۔ ماضی میں ضروری اُمور پر بحث و مباحثہ کیلئے مزید وقت کی ضرورت ہوئی تو اجلاس کی میعاد میں توسیع کی گئی۔ مگر، عموماً ایسا تب ہوا جب حکمراں محاذ اور اپوزیشن اس کیلئے آمادہ و تیار تھے۔ دونوں جانب سے آمادگی و تیاری ہی دراصل جمہوریت کی روح ہے۔ اٹل بہاری واجپئی کا تاریخی جملہ ہے کہ ’’اقتدار کا کھیل تو چلتا رہے گا، سرکاریں آئیں گی، جائیں گی، پارٹیاں بنیں گی، بگڑیں گی، مگر یہ دیش رہنا چاہئے، اس دیش کا لوک تنتر  رہنا چاہئے۔‘‘ اس کا مفہوم بیان کرنا ضروری نہیں مگر اس پس منظر میں، پارلیمانی اجلاس اور جمہوریت کی موجودہ صورتحال پر غور کرنا ضروری ہے۔ اراکین پارلیمان حلف لیتے ہیں تو آئین کی پاسداری اور اس کے تئیں وفاداری کا عہد کرتے ہیں مگر جب اَنا آئین پر حاوی ہوجاتی ہے تو سب سے پہلی ضرب جمہوریت اور عوامی مفاد پر پڑتی ہے۔ زیر بحث اجلاس میں یہی دیکھنے کو ملا۔ اَنا آئین پر حاوی تھی اور اس قدر حاوی تھی کہ تعطیل کو ملا کر کم و بیش ۲۴؍ دن کا اجلاس قطعی بے نتیجہ ثابت ہوا، اس میں نہ تو بحث و مباحثہ ہوا نہ ہی پیش کئے گئے بل اتفاق رائے سے منظور کئے گئے۔ جو منظوریاں ہوئیں، برسراقتدار محاذ کے اراکین کے صوتی ووٹوں سے ہوئیں، ان میں اپوزیشن کی رائے کا دخل تھا ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: تاریخ یقیناً ڈاکٹر سنگھ کو احترام کے ساتھ یاد رکھے گی

جمہوریت یکطرفہ رائے کا نام نہیں، اتفاق رائے کا نام ہے۔ برسراقتدار محاذ کہہ سکتا ہے کہ کئی بلوں کی منظوری اجلاس کی کامیابی کی دلیل ہے مگر وہ خوبی جو جمہوریت کی روح ہے اور جسے بحث و مباحثہ کے بعد بلوں کی منظوری کا نام دیا جاتا ہے، مفقود ہی رہی۔ اپوزیشن ۲۰؍ جولائی کے اُن واقعات پر بحث اور وزیر داخلہ کے بیان کی بہ اصرار مانگ کرتا رہا جن میں طلبہ پر لاٹھی چلی، آنسو گیس کے گولے داغے گئے، مبینہ طور پر پیلٹ گن کا استعمال ہوا حتیٰ کہ پٹنہ میں اے کے ۴۷؍ چلی، مگر، وزیر داخلہ کو ایوان میں نہیں آنا تھا سو وہ نہیں آئے۔ آخری دن محض تھوڑی دیر کیلئے اس طرح آئے کہ وندے ماترم گاین کے وقت موجود رہے اور بس۔ خود وزیر اعظم ایوان سے غیر حاضر ہی رہے اور صرف وندے ماترم گاین میں شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: پورا پورا ہندوستان ہمارا

ایک اور مسئلہ جس پر اپوزیشن بحث اور بیان چاہتا تھا، چندہ اور چڑھاوا چوری سے متعلق تھا۔ مگر نہ تو وزیر داخلہ نہ ہی وزیر اعظم نے اس پر کچھ کہنے سننے کی ضرورت محسوس کی۔ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں موضوعات کچھ ایسے مشکل نہیں تھے کہ ان پر بیان نہ دے کربرسہا بر س تک یاد رکھی جانے والی روایت قائم کردی گئی۔ پارلیمانی اُمور کا وسیع تجربہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ اجلاس سے اول تا آخر غیر حاضر رہے ہوں۔ کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں ہی صاحبان کے پاس کہنے کیلئے کچھ نہیں تھا؟ یا، اگر کچھ کہتے تو اپوزیشن کو اور بھی زیادہ جارحانہ تنقید کا مواد اور موقع مل جاتا؟ یہ ہم نہیں جانتے مگر تمام اہل وطن نے، خواہ اُن کی وابستگی ملک کی کسی پارٹی سے ہو، اس غیر حاضری کا بُرا مانا ہوگا۔ واجپئی جی کے قول کا مفہوم تھا کہ چاہے جو ہو، دیش اور جمہوریت رہنی چاہئے تو اس کی شرط اول ذمہ داری اور جوابدہی ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے اس کی پاسداری نہیں کی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK