Inquilab Logo Happiest Places to Work

سب سے سیکھنے اور خود کو سنوارنے کا جذبہ

Updated: August 22, 2026, 1:31 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ایک خبر کچھ ایسی ہے۔ انسٹا گرام پر پوسٹ کئے گئے ایک ویڈیو میں، امریکہ میں مقیم ایک ہندوستانی جوڑے سے پوچھا گیا کہ وہ نوجوان ہندوستانیوں کو امریکہ میں ملازمت کے سلسلے میں کیا مشورہ دینا چاہیں گے تو ویڈیو میں دیکھے گئے مرد کا فوری جواب تھا: ’’(یہاں) مت آنا۔‘‘

Picture: INN
تصویر: آئی این این
ایک خبر کچھ ایسی ہے۔ انسٹا گرام پر پوسٹ کئے گئے ایک ویڈیو میں، امریکہ میں مقیم ایک ہندوستانی جوڑے سے پوچھا گیا کہ وہ نوجوان ہندوستانیوں کو امریکہ میں ملازمت کے سلسلے میں کیا مشورہ دینا چاہیں گے تو ویڈیو میں دیکھے گئے مرد کا فوری جواب تھا: ’’(یہاں) مت آنا۔‘‘ اس بے ساختہ جواب کے بعد اس جوڑے نے ہندوستانیوں کو پیش آنے والی دشواریوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اب سے چند سال پہلے تک ہندوستان میں مواقع کم تھے اور امریکہ میں زیادہ، مگر، اب ہندوستان میں حالات بہتر ہیں جبکہ امریکہ میں بڑی دقتوں کا سامنا ہے۔ 
 
 
اس میں شک نہیں کہ امریکہ میں ملازمتوں کا حصول اور ملازمت کیلئے ویزا کا حصول پہلے کے مقابلے میں کافی مشکل ہوگیا ہے، بالخصوص ٹرمپ کی جارحانہ امیگریشن پالیسی کے بعد، مگر مذکورہ جوڑا چونکہ امریکہ میں رہائش پزیر ہے اس لئے ممکن ہے وطن کے زمینی حالات سے واقف نہ ہو۔ ہندوستان میں روزگار کے حالات بہتر ہوتے تو نوجوانوں میں اتنا اضطراب نہ ہوتا جتنا حالیہ مظاہروں میں دیکھا گیا ہے۔ ۲۰۱۹ء میں ’’پیریاڈک لیبر فورس سروے‘‘ کا یہ انکشاف موضوع بحث بن گیا تھا کہ ۱۸۔۲۰۱۷ء میں ملک میں بے روزگاری کی شرح ۴۵؍ سال کی سب سے اونچی سطح (۱ء۶؍ فیصد) پر تھی۔ وزارت محنت نے اس کی توثیق بھی کی تھی۔ مذکورہ امریکی جوڑا روزگار کے حالات سے اس قدر ناواقف نہیں ہو سکتا البتہ یہ ممکن ہے کہ امریکہ میں ہندوستانیوں کیلئے ملازمتوں اور ویزا کا حصول مشکل ہوجانے کے بعد اس میں بے دلی پیدا ہوئی ہو اور اسی وجہ سے اس نے نوجوانوں کو مذکورہ مشورہ دیا ہو۔ ہمارے خیال میں بہتر مشورہ وہ ہوتا جو اس ویڈیو میں بعد میں دیا گیا۔ اُس کا کہنا تھا کہ ’’چین کے نوجوان یہاں (امریکہ میں) آتے ہیں، سیکھتے ہیں اور پھر وطن واپس چلے جاتے ہیں تاکہ جو کچھ بھی سیکھا اُس سے اپنے وطن کو فیضیاب کریں۔‘‘  اس انکشاف میں درس ہے، ایک پیغام ہے کہ ہندوستانی نوجوانوں کو بھی اسی انداز میں سوچنا چاہئے۔ 
 
 
امریکہ جانا محض ملازمت کیلئے، پیسہ کمانے کیلئے اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کیلئے نہ ہو۔ امریکہ جانا اس لئے ہو کہ وہاں کی معیشت، طرز تعلیم، آدابِ زندگی، دفتری کام کاج، وقت کی سخت پابندی، شہری فرائض کی ادائیگی کا رویہ، وغیرہ کو دیکھا جائے، اُس سے سیکھا جائے اور جو کچھ دیکھا اور سیکھا اُس کو اپنے وطن میں جاری و ساری کرنے کی تدابیر کی جائیں۔ ہمارا جانا صرف اپنے لئے نہ ہو بلکہ اپنے وطن کیلئے بھی ہو، اہل وطن کیلئے بھی ہو۔ امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں، جن کا بڑا شہرہ ہے، میں سب کچھ قابل تقلید نہیں ہے مگر بہت کچھ ایسا ہے جس کو اپنے انداز میں نافذ کیا جاسکتا ہے۔ اکا دکا لوگ ہی ایسے ملتے ہیں جو واپس آکر وہاں سے سیکھی ہوئی باتوں کو اہل وطن میں رائج کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ اکثر لوگ تو واپس ہی نہیں آتے۔ اُنہیں اپنا وطن بُرا لگنے لگتا ہے۔ اِس طرز عمل کو بدلنا چاہئے تاکہ ہم بدلیں اور اپنی مثبت خصوصیات برقرار رکھ کر اَوروں کی مثبت خصوصیات اپنائیں اور ثابت کریں کہ ہم ہندوستانی سب سے سیکھتے اور خود کو سنوارتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK