Inquilab Logo Happiest Places to Work

وقت آنے دے دکھا دینگے تجھے اے آسماں!

Updated: August 10, 2026, 11:45 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

سنیچر کو رانچی میں نیہا بورا پر سیاہی پھینکی گئی۔ اس واقعہ پر افسوس تو ہوا، تعجب نہیں ہوا۔ افسوس کیوں ہوا اس کا جواب ضروری نہیں، تعجب کیوں نہیں ہوا اس کا جواب ضروری ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
سنیچر کو رانچی میں نیہا بورا پر سیاہی پھینکی گئی۔ اس واقعہ پر افسوس تو ہوا، تعجب نہیں ہوا۔ افسوس کیوں ہوا اس کا جواب ضروری نہیں، تعجب کیوں نہیں ہوا اس کا جواب ضروری ہے۔ اور جواب یہ ہے کہ تعجب تب ہوتا ہے جب کچھ ایسا ہو جائے جو غیر متوقع ہو۔ موجودہ حالات میں طلبہ اور نوجوانوں کو بہلایا بھی جا رہا ہے اور ڈرایا بھی۔ وزیراعظم کا آدھی رات کو ریل بنا کر طلبہ سے مخاطب ہونا کیا ہے؟ بہلانے کی کوشش ہے۔ لوک سبھا میں بانسری سوراج اور سری کانت شندے کا جین زی کی لفظیات استعمال کرنا کیا ہے؟ بہلانےکی کوشش ہے۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ جین زی کی شکایات درست ہیں اور احتجاج کرنے سے وہ اینٹی نیشنل نہیں ہو جاتے، یہ کیا ہے؟ بہلانے کی کوشش ہے۔
اس کے بر خلاف ۲۰؍ جولائی کو نئی دہلی میں جو کچھ ہوا اور جس طرح پُرامن مظاہرین پر آنسو گیس چھوڑی گئی اور لاٹھیاں برسائی گئیں وہ سب نے دیکھا۔ ان میں خواتین بھی تھیں جن میں سے بعض کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا سلوک کیا گیا۔ یہ ڈرانے کی کوشش تھی۔ ۱۸؍ جولائی کو ابھیجیت دیپکے پر بھی، جب وہ جنتر منتر میں تھے، سیاہی پھینکی گئی تھی۔ یہ بھی ڈرانے کی کوشش تھی۔ اس طرح ایک طرف بہلایا جا رہا ہے دوسری طرف ڈرایا جا رہا ہے۔
 
 
مقصد یہ ہے کہ طلبہ یا تو بہل کر باز آ جائیں یا ڈر کر باز آ جائیں۔ مگر طلبہ، نہ تو بہلنا چاہتے ہیں نہ ہی ان کی کتاب میں ڈرنا لکھا ہے۔ وہ تاریخ رقم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لے کر انہوں نے خود کو اور اپنے احتجاج کو منوایا ہے۔ 
سی جے پی کا وہ دھرنا جو جنتر منتر پر ایک ماہ سے زیادہ جاری رہا ختم ہوا تو نئے آندولن میں بدل گیا۔ اسی آندولن کا حصہ تھیں  ۲۰؍ دن سے زیادہ مدت تک بھوک ہڑتال کرنے والی نیہا بورا۔ اب وہ اپنی تنظیم آئیسا کے پرچم تلے الگ الگ ریاستوں کے کم و بیش پندرہ شہروں کیلئے نکل چکی ہیں، یونیورسٹیوں کا دورہ کریں گی، کالجوں میں جائینگی، طلبہ سے ملیں گی اور ان کی حمایت سے طلبہ تحریک کو نئی بلندی عطا کریں گی۔ جھارکھنڈ ان کا پہلا پڑاؤ تھا جہاں ان پر سیاہی پھینکی گئی۔ بہلانے اور ڈرانے کی کوششوں کے پس منظر میں سیاہی پھینکنے کے واقعہ پر نیہا بورا سے پوچھئے کیا وہ ڈر گئیں؟ دیپکے سے پوچھئے کیا وہ ڈر گئے؟ یا جاری تحریک میں شامل ہزاروں طلبہ سے پوچھئے کیا وہ ڈر گئے؟ تو ایک ہی جواب ملے گا جو وہی ہوگا جو رام پرشاد بسمل کے لفظوں میں نیہا نے جنتر منتر کی اپنی تقریر میں کہا تھا کہ:
وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
 
 
بھاگوت جائز مطالبات کیلئے احتجاج کرنے والے جین زی طلبہ کو اینٹی نیشنل نہیں مانتے جبکہ جھارکھنڈ میں سیاہی پھینکنے والا نیہا کو اینٹی نیشنل کہتا ہے۔ ا س کا کیا مطلب ہے؟ کیا یہ نہیں کہ ہر ایک کا رول طے ہے۔ لیڈران بہلائیں گے، کارکنان ڈرائیں گے۔ مگر، جے ہو طلبہ کی، وہ بہلنے کیلئے تیار ہیں نہ ڈرنے کیلئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK