• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج بھی گرم ہے بازار جفا کاروں کا

Updated: October 08, 2026, 2:03 PM IST | Professor Sarwar Ul Huda | Mumbai

دھواں کہیں دلوں سے اٹھ رہا ہے تو کہیں کارخانوں سے۔ دل کا دھواں کارخانے کے دھوئیں سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا لیکن کارخانے کا دھواں فوری طور پر انسانی معاشرہ کو جتنا نقصان پہنچاتا ہے اسے بھی الزام کے طور پر دیکھا گیا۔ کارخانے زندگی کے چہرے کو نکھارتے ہیں لیکن دھوئیں کی سیاہی سے نکھار کو ایک رشتہ بھی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

  اخباروں کو پڑھنے اور خبروں کو سننے کے بعد ذہن مسلسل اس سوال سے گزشتہ رہا ہے کہ زندگی کا بنیادی مسئلہ کیا ہے۔ تہذیبی زندگی میں مختلف زندگی کے شعبے داخل ہو جاتے ہیں اور ہر شعبہ اپنے طور پر تہذیبی زندگی کا مفہوم متعین کرتا ہے۔ یہ تمام شعبے مل کر تہذیبی زندگی کو تقویت پہنچاتے ہیں اور کبھی کوئی ایک شعبہ تہذیبی زندگی کو کمزور بھی کرتا ہے۔ زندگی کی صورتوں میں ایک صورت وہ بھی ہے جسے سیاست بناتی اور بگاڑتی ہے۔ زندگی اپنے وقت کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ وقت وہ ہے جو گزرے ہوئے وقت کے ساتھ نہیں بلکہ موجودہ وقت کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ موجودہ وقت گزرے ہوئے وقت سے بے تعلق نہیں ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جموئی اور سمستی پور کے ویڈیوز: ایسا کرنے والے اس قدر بےحس کیسے ہوسکتے ہیں؟

پچھلے ہفتے کے کالم میں حافظے کو موضوع بنایا گیا تھا۔ بعض پڑھنے والوں نے انفرادی اور اجتماعی حافظے کے تعلق سے اپنی رائے بھی پیش کی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس موضوع کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ حافظہ چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی اسے بھی الزام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ الزام کا نہ کوئی علاقہ ہے اور نہ اس کا کوئی واقعی جواز ہے۔ الزام تو بس الزام ہے دھرتے چلے جائیے۔ الزام کے جو منفی نتائج ہیں ان پر بہت کم غور کیا گیا ہے۔ الزام ثابت ہو جائے تو پھر اس کے آگے کچھ کہنے اور سننے کے لیے باقی نہیں رہ جاتا۔ الزام دینے اور الزام دھرنے والے کس قدر ایک مشکل اور ناپسندیدہ عمل سے خود کو گزارتے ہیں۔ الزام دھرنے کی روایت کہاں سے شروع ہوئی اس کی تحقیق بھی ضروری ہے۔ یہ تحقیق بھی ضروری ہے کہ الزام دینے کی نفسیات کا کتنا تعلق اس شخص کی دنیاوی ضرورتوں سے جس نے کسی پر الزام لگایا ہے۔ یہ الزام کبھی کبھی اتنا اہم ہو جاتا ہے کہ زندگی کی سرخروئی کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الزام لگنے کے بعد بھی کوئی شخص کسی اہم اور بڑے مقصد کی خاطر خود کو وقف کر سکتا ہے۔  الزام جتنی آسانی سے لگا دیا جاتا ہے اتنی آسانی سے اس کا سفر ختم نہیں ہوتا۔ الزام ایک معنی میں افواہ کی طرح ہے جس کو پھیلنے میں وقت نہیں لگتا۔ پھر بھی الزام دھیرے دھیرے زندگی کے سفر میں ہاپنے کانپنےلگتا ہے، لیکن تب تک  اپنا کام کر چکا ہوتا ہے۔ جس پر الزام لگایا گیا ہے اگر وہ شخص ذہنی اور فکری طور پر خود کو مضبوط نہ رکھ سکے تو ایسے میں اس کا وجود سمٹ سا جاتا ہے۔الزام ثابت ہو نے تک کا زمانہ بڑا ہی صبرآزما  ہے۔

زندگی کا کوئی بھی شعبہ الزامات سے محفوظ نہیں ہے۔ اپنے اوپر الزام دھر نے کی کوئی روایت کبھی رہی ہوگی لیکن سمجھا یہ جاتا ہے کہ الزام جو دوسروں پر لگایا جائے۔ الزام کبھی کبھی سرخ روئی کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ مشن بڑا ہو۔ الزام کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے والا جانتا ہے کہ وہ سچا ہے۔ پھر بھی سچ اور سچائی کو خوف اس سیاست سے ہے جو بہت تیزی کے ساتھ الزام کو سچ کا لبادہ اوڑھا دیتی ہے۔ سچ اور جھوٹ کے اس کھیل میں اکثر اوقات جیت جھوٹ کی ہو جاتی ہے۔ ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب سیاست نے الزامات کے تحت اہم شخصیات کو قید خانے میں ڈال دیا۔ دنیا بھر میں اس کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ ان الزامات کی صفائی میں ملزموں کی پیشی اس بات کی شہادت ہے کہ الزام چاہے جتنا بھی سخت ہو سچ اسے مغلوب کر دیتا ہے۔ لیکن موجودہ وقت میں الزام دینے اور الزام دھرنے کی جو روش ہے اس سے ہماری تہذیبی زندگی کا شیرازہ ابھی بکھرا تو نہیں ہے مگر یہ کمزور ضرور ہوا ہے۔ ایک دوسرے پر الزام دھرنے کی نفسیات دراصل اپنی کمزوری اور شرارت کو چھپانے کی ایک کوشش بھی ہے۔ اپنا محاسبہ کرنا ہمیشہ سے مشکل عمل رہا ہے۔ محاسبہ تو وہ حکومت اور قوم کرتی ہے جسے مستقبل کی تعمیر کرنی ہے اور حال کو بغیر کسی پر الزام دھرے ، خوبصورت بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:وہ ’’بہت کچھ‘‘ اور یہ ’’بہت کچھ‘‘ (۱)

  الزام دھرنے کی بنیادیں فوری طور پر تو یہی کہتی ہیں کہ الزام لگانے سے پہلے الزام دھرنے والے نے بہت مشقت کی ہے۔ کبھی اس نے تاریخ کا سفر کیا ہے تو کبھی اس نے تہذیب کو دیکھا ہے۔ الزام دینے والا کچھ ایسے حقائق کو ڈھونڈ لیتا ہے جنہیں سیاق میں نہ دیکھنے کی وجہ سے غلط مفاہیم نکالے جا سکتے ہیں۔ تاریخی اور تہذیبی حوالے کتنے بے بس نظر آتے ہیں۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ تاریخ اور تہذیب پر جتنے الزامات لگائے گئے ہیں اتنے تو انسانی معاشرے پر بھی نہیں لگائے جا سکے۔

دھواں کہیں دلوں سے اٹھ رہا ہے تو کہیں کارخانوں سے۔ دل کا دھواں کارخانے کے دھوئیں سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا۔ لیکن کارخانے کا دھواں فوری طور پر انسانی معاشرے کو جتنا نقصان پہنچاتا ہے اسے بھی الزام کے طور پر دیکھا گیا۔ تیل صاف کرنے کا کارخانہ اور اس طرح کے دوسرے کارخانے زندگی کے چہرے کو نکھارتے ہیں لیکن دھوئیں کی سیاہی سے نکھار کو ایک رشتہ بھی ہے۔ کتنی فیکٹریاں بند ہو گئیں اور کتنی فیکٹریاں کھولی گئیں۔ مگر ایک حکومت دوسری حکومت پر الزام دھرتی ہے۔ سچ پوچھئے تو اب صرف الزام دینے کا کاروبار اور سلسلہ ہے۔

جفا کاروں کی اتنی ہی قسمیں ہیں جتنی قسمیں تہذیبی زندگی کے شعبوں کی ہیں لیکن جفا کاروں کی نفسیات ایک جیسی ہوتی ہیں۔ جفا کار فریبی بھی ہوتے ہیں اور وقت شناس بھی۔ وہ بہت خوبصورتی کے  ساتھ اپنی زندگی کوآاسان بنا لیتے ہیں چاہے زندگی کا چہرہ جتنا بھی رسوا ہو جائے۔ صورتحال الزامات کے تعلق سے اتنی خراب ہو چکی ہے کہ فوری طور پر کوئی اور صورت دکھائی نہیں دیتی۔ چونکہ اس کا تعلق زندگی کے ایک بڑے کینوس سے ہے لہٰذا کوئی شخص چاہے جتنا بھی تنہا ہو خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ پھر بھی الزامات کی سچی بنیادیں ایک امید بھی لگاتی ہیں کہ جھوٹ رسوا ہوگا۔ سیاست الزامات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ اپنے مطابق معاملات طے کیے جا سکیں۔ مباحثے ایک حد تک ہی الزامات کو سچ یا غلط ثابت کر سکتے ہیں۔ پھر بھی فیصلے کی گھری تو فیصلے کی گھری ہے۔ وہ صرف حقائق کو پہچانتی ہے۔ مگر ایسا لکھتے ہوئے دل کسی کا ڈوبنے لگتا ہے۔

بقول کلیم عاجز 

 آج بھی گھر میں بازار جفا کاروں کا 

 کل بھی آراستہ تھی ان کی دکاں آج بھی ہے  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK