• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار میں ایک اور نئے گھوٹالے کا انکشاف!

Updated: October 19, 2026, 4:21 PM IST | Professor Mushtaq Ahmed | Mumbai

بھاگلپور کے محکمہ تعلیم کے نظام میں ایک فرضی خاتون ٹیچر کے نام سے شناختی کارڈ تیار کیا گیا اور اس کے لئے جعلی دستاویزات کا استعمال کیا گیا۔ ابتدائی رپورٹوں میں تقریباً ایک کروڑ روپے کی مالی بدعنوانی اجاگر ہوئی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بہار میں سرکاری خزانے سے رقم کی غیر قانونی نکاسی کے واقعات نئے نہیں ہیں، لیکن اسکولی اساتذہ کے فرضی ناموں اور جعلی شناختی اندراجات کی مدد سے سرکاری رقم نکالنے کا تازہ معاملہ کئی اعتبار سے تشویشناک ہے۔ اس لئے یہ معاملہ موجودہ حکومت کیلئے دردِ سر بن گیا ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر سرکاری محکموں میں نگرانی کا نظام کس حد تک مؤثر ہے اور ڈجیٹل انتظامات کے باوجود بدعنوان عناصر سرکاری خزانے تک رسائی حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہو جاتے ہیں؟ جب کسی محکمے میں ایک فرضی ٹیچر کی شناخت تیار کرکے اس کے نام پر تنخواہ یا دوسری مالی ادائیگیوں کا راستہ کھولا جاتا ہے تو یہ محض مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ سرکاری نظام کے بنیادی اعتماد پر حملہ ہوتا ہے۔

اکتوبر ۲۰۲۶ء میں بہار کے تعلیمی محکمے سے متعلق سامنے آنے والی خبروں نے اس تشویش کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بھاگلپور میں ایک فرضی خاتون ٹیچر کی شناخت کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ روپے کے مبینہ گھوٹالے کی اطلاع سامنے آئی، جبکہ پٹنہ میں بھی تنخواہ اور مکان کرایے کے الاؤنس کی غیر مجاز ادائیگیوں سے متعلق بڑی مالی بے ضابطگی رپورٹ ہوئی ہے۔ ان واقعات کے بعد تنخواہوں کے ریکارڈ کی مکمل جانچ اور ادائیگیوں کی تصدیق کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ تاہم، ان معاملات کی حتمی ذمہ داری اور مالی نقصان کا تعین مکمل تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تشویشناک مسائل اور اُمید افزا جمہوری ردعمل

واضح ہو کہ بھاگلپور سے متعلق خبروں کے مطابق، محکمہ تعلیم کے نظام میں ایک فرضی خاتون استاد کے نام سے شناختی آئی ڈی تیار کی گئی اور اس کیلئے جعلی دستاویزات کا استعمال کیا گیا۔ ابتدائی رپورٹوں میں تقریباً ایک کروڑ روپے کی مالی بدعنوانی اجاگر ہوئی ہے۔ اس معاملے میں محکمہ جاتی ریکارڈ، ڈجیٹل شناخت اور ادائیگی کے نظام کی جانچ کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ اس لئے زیادہ سنگین ہے کہ کسی فرضی ملازم کے نام پر رقم نکالنے کیلئے صرف ایک جعلی نام کافی نہیں ہوتا۔ اس کیلئے شناختی ریکارڈ، ملازمت سے متعلق تفصیلات، تنخواہ کے اندراجات، بینک اکاؤنٹ اور ادائیگی کی منظوری جیسے مختلف مراحل میں کسی نہ کسی سطح پر خامی یا ملی بھگت کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے تحقیقات کا دائرہ صرف اس شخص تک محدود نہیں رہنا چاہئے جس نے مبینہ طور پر فرضی شناخت تیار کی، بلکہ یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ اس اندراج کی تصدیق کس نے کی، اسے منظور کس نے کیا اور ادائیگی کے مرحلے میں ضروری احتیاط کیوں نہیں برتی گئی۔ اگرچہ حکومت نے ریاستی سطح پر ایک خصوصی مہم چلانے کا اعلان کیاہے اور تمام اساتذہ کی تقرری کی از سرِ نو جانچ کی جا رہی ہے اور جانچ کی مدت تک تنخواہ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پولیس محکمے میں بھی اس طرح کے معاملے سامنے آئے ہیں ، وہاں بھی جانچ شروع کی گئی ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ اگر متعلقہ محکمہ میں استاد کی تقرری، اس کی ملازمت، تعیناتی، حاضری اور تنخواہ کا باقاعدہ ریکارڈ موجود تھا تو فرضی شناخت کو نظام میں جگہ کیسے مل گئی؟ کیا ریکارڈ کی جانچ محض رسمی کارروائی تھی یا اس کے لئے کوئی قابل اعتماد طریقۂ کار موجود ہی نہیں تھا؟ ان سوالات کے جواب سامنے آنا ضروری ہے۔ آج سرکاری محکموں میں ڈجیٹل نظام کو شفافیت، رفتار اور بدعنوانی کی روک تھام کا مؤثر ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔ ایچ آر ایم ایس جیسے نظاموں کا مقصد ملازمین کے ریکارڈ کو منظم کرنا، تنخواہوں کی ادائیگی کو سہل بنانا اور مالی معاملات میں انسانی مداخلت کے غیر ضروری امکانات کو کم کرنا ہے۔ لیکن یہ سمجھ لینا درست نہیں کہ محض کمپیوٹرائزیشن سے بدعنوانی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ڈجیٹل نظام اسی وقت مؤثر ثابت ہوتا ہے جب اس میں درست معلومات درج کی جائیں، شناخت کی آزادانہ تصدیق ہو، ہر تبدیلی کا ریکارڈ محفوظ رہے اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی فوری نشاندہی ممکن ہو۔ اگر کسی شخص کو جعلی دستاویزات درج کرنے، ریکارڈ میں تبدیلی کرنے یا منظوری کے ضابطوں سے بچ نکلنے کا موقع مل جائے تو جدید ٹیکنالوجی بھی بدعنوانی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔اس لئے اصل ضرورت صرف آن لائن نظام قائم کرنے کی نہیں، بلکہ اس نظام کو محفوظ، جواب دہ اور شفاف بنانے کی ہے۔ ہر ملازم کی شناخت کو اس کے اصل تقرری نامے، تعلیمی اسناد، سروس بک، تعیناتی اور بینک اکاؤنٹ سے مربوط کرکے جانچنا چاہئے۔ تنخواہ میں کسی غیر معمولی اضافے، نئے اکاؤنٹ کے اندراج یا اچانک بڑی رقم کی ادائیگی کی صورت میں خودکار تنبیہ کا نظام بھی ہونا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے:کبھی مل جائیں سرسید تو عید ِ جین زی ہوجائے!

اب بہار حکومت کی جانب سے تنخواہوں اور الاؤنس کے ریکارڈ کی مکمل تصدیق کا فیصلہ ایک ضروری قدم ہے۔ اکتوبر کی تنخواہوں کی ادائیگی سے قبل دستاویزات کی جانچ اور مالی بے ضابطگیوں کی صورت میں ذمہ داری متعین کرنے سے متعلق ہدایات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سرکاری خزانے سے رقم صرف مستحق ملازمین کو اور قواعد کے مطابق ادا ہو۔ لیکن اس سلسلے میں ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے۔ جانچ کے نام پر تمام اساتذہ کی تنخواہیں غیر معینہ مدت تک روک دینا مناسب حل نہیں ہو سکتا۔ ایک طرف سرکاری رقم کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے، تو دوسری طرف حقیقی اساتذہ کو ان کی محنت کا معاوضہ وقت پر ملنا بھی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ جو استاد روزانہ اسکول پہنچتا ہے، بچوں کو پڑھاتا ہے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے، اسے چند بدعنوان افراد کی وجہ سے مالی پریشانی میں مبتلا نہیں کیا جانا چاہئے۔ حکومت کو چاہئے کہ تصدیق کا عمل تیز، شفاف اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کرے۔ جن ملازمین کا ریکارڈ درست ہے، ان کی تنخواہوں کی ادائیگی میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو، اور جن معاملات میں شکایت یا بے ضابطگی سامنے آئے، ان کی الگ سے جانچ کی جائے۔ اس سے بدعنوانی کی روک تھام بھی ہوگی اور ایماندار اساتذہ کا اعتماد بھی برقرار رہے گا ۔کسی بھی گھوٹالے میں صرف رقم کی مقدار اہم نہیں ہوتی بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے انتظامی غفلت، داخلی ملی بھگت یا نگرانی کی ناکامی میں سے کون سے عوامل کارفرما تھے۔

(مضمون کا دوسرا اور آخری حصہ اگلے ہفتے ملاحظہ کیجئے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK