اگر کسی کو یہ توقع تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان نصف صدی سے چل رہے تنازعات کا حل ۲۱؍گھنٹوں کی بات چیت میں نکل آئیگا تو اسے اس شخص کی خوش گمانی اور مشرق وسطیٰ کی جیو پالیٹکس سے ناواقفیت کے سوا اور کیا کہیں گے؟ اسلام آباد میں سنیچر کو جو ہوا اسے مذاکرات کا پہلا راؤنڈ سمجھنا چاہئے۔
ایران اور پاکستان مذاکرات۔ تصویر:آئی این این
ہفتے کے دن اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے مذاکرات بے نتیجہ رہے۔اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ امریکہ جنگ کے میدان میں جو حاصل نہیں کرسکا وہ مذاکرات کی میز پر حاصل کرنے پر مصر تھا۔ ٹرمپ کی جس ہٹ دھرمی کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے تھے۔ مذاکرات بھی اسی ہٹ دھرمی کا شکار ہوگئے۔ ایران نے جب ا نتالیس روزہ جنگ کی ہلاکت خیزیوں کے باوجود ہتھیار نہیں ڈالے تو وہ اکیس گھنٹوں تک چلے مذاکرات میں خود سپردگی کیسے کرسکتاتھا، ٹرمپ یہ سمجھنے سے قاصر رہے۔انہیں اپنی ہی کہی ہوئی یہ پتے کی بات بھلا کیسے یاد نہیں رہی:
"Iran never won a war,
but never lost a negotiation!"
۲۰۲۰ء میں کیا گیاٹرمپ کا یہ دعویٰ آدھا صحیح اور آدھا غلط تھا۔ اب انہیں اپنی رائے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ ایران نے جنگ کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا اور مذاکرات میں بھی سپر پاور کے سامنے اعتماد کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹارہا۔ بڑ بولے ٹرمپ ہر دن جنگ جیت لینے کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن امریکہ بلکہ دنیا بھر میں عمومی طور پر یہ کہا جارہا ہے کہ امریکہ یہ جنگ ہار چکا ہے۔ معتبر جریدہ دی اکنامسٹ نے ٹرمپ کو اس جنگ کے "biggest loser"کا لقب دیا ہے۔معروف امریکی اسکالر John Mearsheimerنے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا شکنجہ کس کر اور خلیجی ممالک میں تباہی مچاکر امریکہ کو گھٹنے پر لادیا اور ٹرمپ کے پاس شکست تسلیم کرلینے کے علاوہ کو ئی چارہ نہیں ہے۔
ٹرمپ اس جنگ کی دلدل سے باہر نکلنے کی کوئی باعزت راہ ڈھونڈرہے ہیں جس میں وہ اپنی حماقت اور نیتن یاہو کی خباثت کی وجہ سے بری طرح پھنس گئے ہیں۔سیز فائر اور مذاکرات کے لئے بھی ٹرمپ ہی چھٹپٹا رہے تھے۔ایرانی تہذیب کوصفحہ ہستی سے مٹادینے کی ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران کے دس نکاتی مطالبات کو ’’مذاکرات کیلئے معقول بنیاد‘‘ قرار دے کردو ہفتے کا سیز فائرکا اعلان اوراسلام آباد میں بات چیت پر آمادگی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ کو جنگ کی دلدل سے باہر نکلنے کاsafe exit درکار ہے۔
اگر کسی کو یہ توقع تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان نصف صدی سے چل رہے تنازعات کا حل ۲۱؍گھنٹوں کی بات چیت میں نکل آئے گا تو اسے اس شخص کی خوش گمانی اور مشرق وسطیٰ کی جیو پالیٹکس سے ناواقفیت کے سوا اور کیا کہیں گے؟ نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے:’’اگرچہ یہ مذاکرات کسی معاہدہ کے بغیر ختم ہوگئے تاہم ان مذاکرات کا انعقاد ہی بذات خود ایک بڑی پیش رفت ہے۔‘‘ یہ مذاکرات تاریخی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اتنے اہم امریکی اور ایرانی لیڈروں نے ایک میز پر آمنے سامنے بیٹھ کر پہلی بار براہ راست بات چیت کی۔بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور مذاکرات کے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کے قائد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمدباقر قالیباف نے مصافحہ بھی کیا۔فروری میں مسقط اور جینوا میں جو مذاکرات ہوئے تھے وہ براہ راست نہیں تھے۔عمان فریقین کے درمیان سہولت کار اور ایلچی کا کردار نبھارہاتھا۔
اسلام آباد مذاکرات کا شایدکوئی نتیجہ نکل سکتا تھا اگر ایران اپنے جوہری پروگرام اور یورینیم کی افزودگی پر رویہ لچکدار کرلیتااور امریکہ غیر ملکی بینکوں میں منجمد اربوں ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی تہران کو واپسی اور لبنان پر اسرائیلی جارحیت روکنے کی گارنٹی دے دیتا۔ وینس امن معاہدہ کے بجائے ایسا ڈیل تلاش کررہے تھے جس کے ذریعہ ٹرمپ کو اپنی فتح وکامرانی کاپرچم لہرانے کا موقع مل جائے اور ان کی بین الاقوامی رسوائی کا ازالہ ہوسکے۔لیکن شطرنج کے ماہرایرانی رہنماؤں نے سفارتی بساط پر بھی امریکہ کی ایک نہ چلنے دی۔
اسلام آباد میں مذاکرات کے بے نتیجہ رہنے کی حقیقی وجہ وہی تھی جو جنگ شروع ہونے کی تھی یعنی اسرائیلی مداخلت اور اشتعال انگیزی۔ اب تو یہ راز ساری دنیا جان گئی ہے کہ کس طرح ۱۱؍فروری کو نیتن یاہو نے وہائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ٹرمپ اوران کے سیاسی اور فوجی رفقا کا برین واش کرکے امریکہ کو ایران پر بمباری کے لئے اکسایا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا ایکس پر انکشاف کیاہے کہ میٹنگ کے بیچ میں وینس کو نیتن یاہوکا فون کال آیا اور اس کے بعد توجہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات سے ہٹ کر اسرائیل کے مفادات پر مرکوزکردی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:حسرت جے پوری کے لکھے ہوئے ٹائٹل گیت آج بھی مقبول ہیں
ویسے بھی دو امریکی صلاح کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جو سائے کی طرح وینس کے ارد گرد موجود تھے وہ دونوں یہودی ہیں اور نیتن یاہو کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔ فروری میں ایران کے ساتھ ہوئے تین مرحلوں کے مذاکرات میں امریکی وفد کی نمائندگی یہی دونوں کررہے تھے۔عمان کے وزیر خارجہ نے انکشاف کیا تھا کہ ایران نے امریکہ کی زیادہ تر شرائط مان لی تھیں اور دونوں جوہری معاہدہ کی دہلیز پر پہنچ گئے تھے۔ لیکن امریکہ اور اسرائیل نے مل کر تہران پر بمباری شروع کردی اور آیت اللہ خامنہ ای سمیت ایران کی اعلیٰ ترین سیاسی اور عسکری قیادت کے درجن بھر لیڈروں کو شہید کردیا۔ ٹرمپ نے بعد میں یہ تسلیم کیا کہ کشنر، وٹکوف اور پیٹر ہیگسیتھ نے ہی انہیں ایران پر حملہ کرنے کیلئے قائل کیا۔جو لوگ پہلے تین مرحلوں کے مذاکرات میں ناکام رہے تھے اور جنہوں نے امن کی بجائے ٹرمپ کو جنگ کی راہ اپنانے کی رائے دی، امریکی صدر نے ا یک بار انہی غیر معتبر لوگوں پر اعتماد کیا۔ جو ٹیم لگاتار تین میچ ہارچکی تھی اسی ٹیم کو چوتھے میچ میں اتارنے کا فیصلہ کتنا احمقانہ اور غیر ذمہ دارانہ تھا۔ کشنر اور وٹکوف دونوں کا سیاست اور سفارتکاری سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے۔ دونوں رئیل اسٹیٹ کے دھندے سے منسلک ہیں۔امریکہ کا وزیر دفاع پیٹر ہیگسیتھ فاکس ٹی وی پر ایک شو کا اینکر ہوا کرتا تھاجس پر شراب پی کر عورتوں کے ساتھ نازیبا حرکت کا الزام ہے۔کیسے کیسے لوگوں کے ہاتھوں میں امریکہ اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی کی ذمہ داری ہے! ایران کی تہذیب کو ٹرمپ کبھی مٹا نہیں سکیں گے لیکن جس امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کا جھانسہ دے کر انہوں نے دو بارہ صدارت ہتھیائی ہے اس امریکہ کی عظمت کو ضرور خاک میں ملاکر دم لیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:ایفل ٹاور کی اصل سیڑھی کا ایک حصہ پیرس میں نیلامی کیلئے پیش
پس نوشت: حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ امریکہ یا ایران کسی نے بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے ہیں یعنی اسلام آباد میں مذاکرات در حقیقت بے نتیجہ ختم نہیں ہوئے تھے بلکہ مذاکرات کا پہلا راؤنڈ ختم ہوا تھا۔منگل کی صبح جب میں یہ کالم مکمل کررہا ہوں سی این این پر یہ خبرنشر کی جارہی ہے کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔