اس مضمون میں مضمون نگار نے ڈاکٹر پناگریہ کے چھ مشوروں سے بحث کی ہے کہ یہ اچھے مشورے ہیں مگر دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت انہیں قابل اعتناء سمجھتی ہے یا نہیں۔
EPAPER
Updated: February 05, 2026, 2:38 PM IST | p. Chidambaram | Mumbai
اس مضمون میں مضمون نگار نے ڈاکٹر پناگریہ کے چھ مشوروں سے بحث کی ہے کہ یہ اچھے مشورے ہیں مگر دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت انہیں قابل اعتناء سمجھتی ہے یا نہیں۔
یہ کوئی راز نہیں ہے کہ اروند پناگریہ ، وزیر اعظم مودی کے محبوب ماہر معاشیات ہیں۔ وہ اُن کے دوست بھی ہیں، فلاسفر بھی ہیںاور رہنما بھی۔ اروند پناگریہ کو نیتی آیوگ کا پہلا نائب چیئرمین بنایا گیا تھا۔ اُنہیں نالندہ یونیورسٹی کا چانسلر مقرر کیا گیا، پھر ۱۶؍ ویں مالیاتی کمیشن کا چیئرمین۔ وہ کئی ٹاسک فورسیز کے سربراہ بھی رہے۔ این ڈی اے حکومت سے اُن کی مختلف انداز میں وابستگی خاصی طویل اور قابل ذکر ہے۔ ڈاکٹر پناگریہ کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور اپنے استاد ڈاکٹر جگدیش بھگوتی کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ میں نہ صرف ڈاکٹر پناگریہ بلکہ ڈاکٹر جگدیش بھگوتی کی بھی ستائش کرتا ہوں کیونکہ فری ٹریڈ اور کھلی معیشت کے معاملے میں ان کا کمٹمنٹ اہمیت کا حامل ہے۔ چونکہ ڈاکٹر پناگریہ، وزیر اعظم مودی کے وفادار حامی ہیں اس لئے اُن کی تنقید کا انداز الگ ہے جو بظاہر توصیفی لگتا ہے، جیسے کہہ رہے ہوں کہ ’’شاباش، مگر یہ دل مزید کچھ چاہتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اوی مکتیشورانند کا تنازع سلجھ جائے تو اچھا
ایک حالیہ مضمون میں ڈاکٹر پناگریہ نے حکومت کی یہ کہتے ہوئے ستائش کی کہ ’’۲۰۲۵ء ملک کی تاریخ میں معاشی اصلاحات کا سال قرار دیا جائیگا۔‘‘ وہ جانتے ہیں کہ وہ جو کہہ رہے ہیں، درست نہیں ہے۔ ۲۰۲۵ء میں معاشی اصلاحات کے نام پر کچھ زیادہ نہیں ہوا۔ ذرائع ابلاغ کی خبروں اور پارلیمانی کارروائیوں سے صاف جھلکتا ہے کہ معاشی اصلاحات کے باب میں کچھ خاص نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر جی ایس ٹی میں جو اصلاحات ہوئیں وہ اس لئے کرنی پڑیں کہ ابتداء میں (جولائی ۲۰۱۷ء) کافی غلطیاں کی گئی تھیں۔ اسی طرح کسٹم ڈیوٹی میں تبدیلیاں بھی اس لئے کی گئیں کہ کسٹم ڈیوٹیز میں تسلسل کے ساتھ اضافہ کیا گیا اس لئے ان کا تبدیل کیا جانا ناگزیر ہوچکا تھا۔ قوانین ِ محنت (لیبر لاء) کی بات کرلیجئے تو وہاں سرمائے کے حق میں جان بوجھ کر نئے قسم کا توازن پیدا کیا گیا جس کا نتیجہ تھا کہ مزدور یونینوں نے اس کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ احتجاج کرنے والی یونینوں میں بی جے پی کی ہم خیال یا اس سے وابستہ تنظیم بھارتیہ مزدور سنگھ بھی شامل رہی۔
اسی طرح منریگا کی جگہ لایا گیا قانون ’’وی بی، جی رام جی ایکٹ‘‘ ہے جسے اصلاحات کے ذیل میں رکھا ہی نہیں جاسکتا بلکہ اس کی وجہ سے دُنیا کے سب سے بڑے فلاحی پروگرام کو تباہ کردیا گیا اور ۸ء۶؍ کروڑ جاب کارڈ ہولڈرس کی روزی روٹی کے مسائل پیدا ہوجائینگے۔
یہ بھی پڑھئے: جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
مَیں شری اروند پناگریہ کے احترام کے باوجود یہ نہیں مان سکتا کہ ۲۵ء معاشی اصلاحات کا سال تھا۔ مضمون میں ڈاکٹر موصوف نے تنقید کا مختلف انداز اپناتے ہوئے حکومت کو چھ مشورے دیئے ہیں۔ انکو بغور دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُنہوں نے مودی حکومت کی سابقہ گیارہ سال کی کارکردگی کو اصلاحات مخالف قرار دیا ہے۔ کسٹم ڈیوٹی کے باب میں یوپی اے حکومت نے ڈیوٹی کم کرنے کا قدم اُٹھایا تھا۔ تمام اشیاء کو ۶ء۳۴؍ فیصد کے زمرے میں لایا گیا تھا۔ این ڈی اے حکومت آئی تو اس نے کسٹم ڈیوٹی کے نظام کو بدل دیا اور ڈیوٹی ۱۲؍ فیصد کردی۔ وزیر اعظم مودی وزیر اعظم بننے سے پہلے گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اور اکثر وزرائے اعلیٰ کی طرف کافی ’’تحفظ پسند‘‘ (پروٹیکشنسٹ) تھے۔ وہی ذہن وہ مرکز میں بھی لے آئے۔ تحفظ پسندوں کی لابی نے اُن کی ستائش کی۔ پناگریہ نے مشورہ دیا ہے کہ مرکزی حکومت یکساں ۷؍ فیصد ڈیوٹی نافذ کرے۔
ایک مشورہ کوالیٹی کنٹرول آرڈرس کا بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کس نے اس نوع کے احکام ( کیو سی او) جاری کئے ۔ یہ امپورٹ پر نان ٹیرف بیریئر ہوتے ہیں۔ اگر ایک ہی طرح کے معیارات تمام ہندوستانی مصنوعات پر لگائے جائیں توچند ایک بھی مشکل سے اس آزمائش سے گزر سکیں گے۔ ڈاکٹر موصوف نے حکومت کو مبارکباد دی کہ اس نے ۲۰۲۵ء میں ۲۲؍ مصنوعات پر سے کیو سی او کو ہٹایا۔ وہ کہہ نہیں پائے کہ ان اشیاء پر کیو سی او کب عائد کئے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: عام بجٹ اور ریاست بہار کا ترقیاتی نشانہ
ایک اور مشورہ تجارتی معاہدہ (ٹریڈ ڈیل) سے متعلق ہے جس کےذریعہ پناگریہ نے امپورٹ میں لچک (امپورٹ لبرلائزیشن) کے خلاف ہماری مزاحمت کا اعتراف کیا ہے۔ اُنہوں نے لچک پیدا کرنے کے خلاف ’’ہماری‘‘ مزاحمت کہا مگر یہ نہیں کہا کہ کس کی مزاحمت؟ یا یہ ہماری یعنی کس کی؟ این ڈی اے حکومت نے دو دہائیوں کی امپورٹ لبرلائزیشن پالیسی کو تبدیل کیا، غیرملکی تجارتی پالیسی کو سخت کیا اور ایسے ہی کئی دوسرے اقدام کئے۔ ڈاکٹر پناگریہ کا انداز مختلف ہے مگر یہ اچھی بات ہے کہ اُنہوں نے ان باتوں کی نشاندہی کی جو سب کے سامنے ہے۔
روپے کی قدر کے سلسلے میں ڈاکٹر پناگریہ کا کہنا ہے کہ زر مبادلہ کی شرح ایک حساس موضوع ہے۔ یہ شرح غیر ملکی زر مبادلہ کے بہاؤ، روپے اور ڈالر کی سپلائی اور ڈیمانڈ، افراط زر، تجارتی خسارہ وغیرہ پر منحصر رہتی ہے اور انہی بنیادوں پر گھٹتی بڑھتی ہے۔ اگر روپے کی قدر بڑھائی گئی تو اس سے برآمدات متاثر ہوں گی اور روپیہ کمزور ہوا تو اس کے بھی اثرات مرتب ہوں گے اس لئے روپے کی قدر کتنی ہونی چاہئے اس کا فیصلہ مارکیٹ پر اور آر بی آئی پر چھوڑ دینا چاہئے جو (آر بی آئی) موقع موقع سے زر مبادلہ کی شرح کو ٹھیک کرنے کے معاملے میں مداخلت کرتا ہے۔ ڈاکٹر پناگریہ نے ایک مشورہ یہ بھی دیا ہے کہ بار بار پالیسی بدلنا، ضابطے تبدیل کرنا، احکام جاری کرنا، اصلاحات کرنا، وغیرہ کی وجہ سے برآمدات پر اثر پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گاندھی جی کو سنتے اور دیکھتے ہوئے
مختصر یہ کہ اگر ڈاکٹر پناگریہ کے مشوروں کو قابل اعتناء سمجھا گیا تو بجٹ ۲۷۔۲۰۲۶ء پر اس کے اثرات دکھائی دیں گے (یہ مضمون بجٹ سے پہلے شائع ہوا ہے) اور اگر قابل اعتناء نہیں سمجھا گیا تو اسے ڈاکٹر پناگریہ کا فرسٹریشن قرار دیا جائیگا۔ اگر حکومت نے اُن کی صلاح اور اُن کے مشوروں کو شرف قبولیت بخشا تو مَیں اس کا جشن مناؤں گا اور اُن سے درخواست کروں گا کہ وہ مزید چھ یا ساٹھ مشورے حکومت کو دیں کیونکہ ہمیں معاشی ترقی کی حقیقی رہگذر پر آنے اور تیزی سے گامزن ہونے میں ابھی وقت ہے۔