Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک ٹھہرا ہوا منظر ہے، بدلتا ہی نہیں!

Updated: April 14, 2026, 3:34 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

وقت بدل جاتا ہے، چیزوں کو دیکھنے کے زاویئے اور ناپنے کے پیمانے بدل جاتے ہیں مگر غربت اور بے بسی قائم رہتی ہے۔ ہر دور میں انسانی آبادی کا ایک حصہ دوسرے حصے کا جبر سہتا رہتا ہے، اس کیلئے حالات نہیں بدلتے۔ امیر اور غریب کی جنگ برقرار رہتی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مطالعہ ٔ کتب کا ذوق رکھنے والوں کیلئے روسی ادیب نکولائی گوگوئی کا نام محتاج تعارف نہیں۔ یہ ادیب، جسے عالمی ادب میں قدرومنزلت حاصل ہے، محض ۴۲؍ سال جیا۔ دُنیا میں اس جیسے فنکاروں کی تعداد کم نہیں جنہیں ایک یا زائد کارنامے انجام دینے کیلئے طویل عمر درکار نہیں ہوئی۔ ان فنکاروں کو شاید الہام ہوجاتا تھا کہ اُنہیں مختصر مدت میں کوچ کرنا ہے اس لئے وہ اپنے ہر کام کو کارنامہ بنانے کے مقصد سے تخلیق فن میں مصروف رہتے تھے۔ گوگوئی ایسے ہی فنکاروں میں سے ایک تھا ۔ اُسے زیادہ موقع نہیں ملا مگر اُس نے اِتنا اور ایسا لکھا کہ موت کے پونے دو سو سال بعد بھی دُنیا اُسے یاد کرتی ہے، اُس کی کتابیں آج بھی چھپتی ہیں اور ذوق وشوق سے خریدی اور پڑھی جاتی ہیں۔ اس کی تحریروں کا  مختلف موقعوں پر حوالہ بھی دیا جاتا ہے۔

گوگوئی کی ایک کہانی جو اِس مضمون نگار نے برسوں پہلے پڑھی تھی، ایک ایسے شخص کی داستانِ غربت ہے جو بے پناہ محنتی ہے مگر نہایت قلیل تنخواہ پاتا ہے، جو بے حد سادہ لوح ہے مگر آس پاس کے لوگ اس کا مذاق اُڑاتے ہیں اور جو اولین توجہ کا مستحق ہے مگر ارباب اختیار اُسے اولین توجہ سے کبھی نہیں نوازتے۔ پوری کہانی اُس کے اوور کوٹ کے گرد گھومتی ہے اس لئے کہانی کا عنوان اوور کوٹ ہے۔ اس شخص کا نام اکاکی اکاکیوچ ہے جو سرکاری کلرک کی حیثیت سے ملازم ہے۔ اس کے اوور کوٹ کی اپنی تاریخ ہے۔ یہ اُس کے پردادا سے دادا کے پاس آیا، دادا سے اُس کے باپ کے پاس آیا اور باپ سے اُس کے پاس۔ چوتھی نسل میں منتقل ہونے تک یہ کوٹ جگہ جگہ سے پھٹ چکا ہے اور اس کا کالر گھس گیا ہے مگر شدید سردی سے بچنے کیلئے اُس کے پاس کوئی اور شے نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: درد مجھ سے کہتا ہے کتنی دیر ٹھہرو گے آج تم مرے ہمراہ!

ایک دن وہ فیصلہ کرتا ہے کہ درزی  کے پاس جاکر اُسے رفو کروائیگا۔ درزی  کے، کبھی اُس کو اور کبھی کوٹ کو دیکھنے کے دوران وہ بڑی شرمندگی محسوس کرتا ہے مگر کربھی کیا سکتا ہے۔ نیا خریدنے کی اُس کی طاقت نہیں ہے اور درزی اُسے ٹھیک کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ چاروناچار وہ اِس ارادہ کے ساتھ لوَٹ آتا ہے کہ چاہے اُسے پیٹ کاٹنا پڑے، وہ اتنی رقم ضرور پس انداز کریگا کہ نیا اوور کوٹ بنوا سکے۔ اب اُس کا ایک ایک دن اسی جدوجہد میں گزر رہا تھا کہ مطلوبہ رقم جمع کرکے نیا کوٹ سلوا لے۔ یہاں تک پہنچ کر کہانی نئے اوور کوٹ کی خواہش میں گزرنے والے شب و روز میں ڈھل جاتی ہے اور نیا اوور کوٹ اُس کا خواب اور اُس کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے۔

یہ کہانی جب بھی یاد آتی ہے مَیں اپنے ملک میں پائی جانے والی غربت کے بارے میں سوچنے لگتا ہوں۔ بلاشبہ، امیر زیادہ امیر ہورہے ہیں اور غریب زیادہ غریب مگر اس فرق کے ساتھ کہ اب ایسے غریب بھی ہمارے درمیان میں ہیں جنہیں کھانے پینے کی اشیاء درکار نہیں، اُنہیں پیسہ چاہئے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ پیٹ بھرنا اُن کیلئے مشکل نہیں ہے، رقم جمع کرنا مشکل ہے، وہ رقم جس کے ذریعہ وہ کوئی مطلوبہ شے خریدنے کے قابل ہوجائیں۔

یہ شے اُن کی ضرورت بھی ہوسکتی ہے اور خواہش بھی۔ خواہش کب ضرورت بن جاتی ہے یہ کہنا دشوار ہے مگر صارفیت کے اِس  دور میں نام نہاد خواہش ہر جگہ پائی جانے لگی ہے۔ اس کے زمرے الگ الگ ہیں۔ کہیں ڈپلیکس فلیٹ کی خواہش ہے تو کہیں بی ایم ڈبلیو کی۔ کہیں موبائل کی اور کہیں کسی اچھے ہوٹل میں کھانے کی۔ خواہش چھوٹی اور بڑی ہونے لگی ہے، اس کے ضرورت بننے کا عمل بھی تیز ہوگیا ہے۔سماج میں اکاکی اکاکیوچ کی طرح اوور کوٹ کیلئے پیسے جمع کرنے والے بھی ہیں اور اچھے خاصے اوور کوٹ کو ریٹائر کرکے نیا برانڈیڈ اوور کوٹ یا اس جیسی کوئی چیز خریدنے کے خواہشمند بھی۔جو بہت امیر ہیں اُن کے قبضہ ٔ قدرت میں سب کچھ ہے۔ اُنہیں کسی خواہش کی تکمیل میں دشواری نہیں ہوتی مگر جو اتنے امیر نہیں ہیں وہ مطلوبہ رقم جمع ہونے تک خود کو غریب سمجھتے ہیں۔ امارت میں غربت کا یہ ’’لطف‘‘ اِسی دور کی اُپج ہے۔ معلوم ہوا کہ خواہش اچھے خاصے  کھاتے پیتے انسان کو بھی غریب بنا دیتی ہے جس کی وجہ سے جسے شکر ادا کرنا چاہئے، وہ انتظار کرتا ہے اور ادائیگی ٔ شکر کو اُس وقت تک ٹالتا ہے جب تک بڑی خواہش پوری نہیں ہوجاتی۔ مڈل کلاس کے اکثر لوگوں کا یہی حال ہے۔ بڑی خواہش کی تکمیل یہ ضمانت ہرگز نہیں دیتی کہ اس سے بڑی خواہش دامن گیر نہیں ہوگی۔ 

یہ بھی پڑھئے: اُداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں گے!

گوگوئی کی کہانی آگے بڑھتی ہے اور ایک دن اکاکی اکاکیوچ اس قابل ہوجاتا ہے کہ نیا اوور کوٹ خرید لے۔ وہ نیا اوور کوٹ پہن کر دفتر جاتا ہے جہاں دفتر کے ساتھی اُسے نئے کوٹ کی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور پارٹی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے میرے پاس جو کچھ تھا سب کوٹ خریدنے میں صرف کرچکا ہوں اس لئے معذرت مگر دفتر کا ایک ساتھی اپنی جانب سے پارٹی کی دعوت دے دیتا ہے۔ بہرکیف پارٹی ہوتی ہے۔ وہ اس میں شریک تو ہوتا ہے مگر تھوڑی دیر کیلئے۔ اُس کی خواہش تھی کہ سڑکوں پر گھومے اور اپنے نئے کوٹ کی نمائش کرے۔ وہ ایسا ہی کرتا ہے مگر ایک جگہ جہاں بہت اندھیرا تھا چند آوارہ گرد اُس کا کوٹ چھین لیتے ہیں۔ کل تک وہ نئے کوٹ کی آس میں جی رہا تھا اب چھن جانے والا کوٹ دوبارہ حاصل کرنے کیلئے ارباب اختیار کی منت سماجت کرتا ہے۔ یہاں گوگوئی نے نہایت چابکدستی سے ایک غریب سادہ لوح انسان کی بے بسی کی تصویر نمایاں کی ہے۔ یہ بے بسی ہمارے آپ کیلئے نئی نہیں ہے۔ گوگوئی کے دور کے روس کی بے بسی آج کے روس کی بے بسی ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی مگر ویسی ہی بے بسی ہمارے یہاں آج بھی ہے۔ شنوائی ہوتی ہے نہ کارروائی، ہزار دھکے کھانے کے بعد بھی کوئی اُمید بر نہیں آتی، کوئی صورت نظر نہیں آتی کی کیفیت برقرار رہتی ہے۔ 

کہانی میں، اکاکی اکاکیوچ ایک حادثہ میں فوت  ہوجاتا ہے اور چند روز بعد شہر میں افواہ پھیلتی ہے کہ ایک بھوت ہے جو رات گئے سڑک پر آکر لوگوں کے اوور کوٹ چھینتا ہے۔ یہ بھوت خصوصاً اُن لوگوں پر جھپٹتا ہے جو اکاکی اکاکیوچ کو اُس کی زندگی میں پریشان کرتے رہے تھے۔ یہ گوگوئی کا اُس دَور کا تخیل ہے۔ وہ آج کے دور میں ہوتا تو ممکن تھا یہ لکھتا کہ کل جنہوں نے انسانوں کو  ستایا تھا آج اُن کا بھوت بھی اُنہیں ستا ہی رہا ہے، بے بسی آج بھی کم نہیں۔

russia Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK