Inquilab Logo Happiest Places to Work

درد مجھ سے کہتا ہے کتنی دیر ٹھہرو گے آج تم مرے ہمراہ!

Updated: April 14, 2026, 3:34 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

دلت برادران کے غم کو سمجھنا مشکل ہے۔ اس کی ہزار تہیں ہیں اور یہ سلسلہ ہزاروں سال سے جاری ہے۔ دلت ادب کے مطالعہ میں فائدہ یہ ہے کہ اس برادری کے احساسات اور اس کی برہمی کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اُردومیں درد مندی جیسے یا اس کے ہم معنی الفاظ، مثلاً غمگساری، غم خواری، ہمدردی یا رحم دلی کہے سنے تو جاتے ہیں، کہنے اور سننے والے ان کا مفہوم بھی جانتے ہیں مگر عموماً ان کے مفہوم کی گہرائی میں اُتر کر دیکھا نہیں جاتا، اسی لئے ان کی تفہیم کا حق ادا نہیں ہوتا۔

دردمندی اور ہمدردی کا اظہار ایک عمل ہے، درد کو سمجھنا دوسرا عمل ہے، درد بانٹنا تیسرا عمل ہے، درد کم کرنے کی جدوجہد کرنا چوتھا عمل ہے اور جدوجہد کو نتیجہ خیز بنانا پانچواں عمل ہے۔ اگر یہ تجزیہ درست ہے تو ہر شخص کو خود سے پوچھنا چاہئے کہ درد کی طویل رہ گزر پر وہ کہاں کھڑا ہے؟ اگر وہ تماشائی نہیں ہے تب بھی کیا وہ درد اُسے کچھ سوچنے سمجھنے پر مجبور کررہا ہے؟ درد کے حوالے سے اِس وقت سب سے پہلے غزہ کا خیال آتا ہے اور مَیں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ  مذکورہ بالا پانچ مراحل میں سے مَیں کس مرحلے میں ہوں؟ کیا پہلے ہی مرحلے میں ہوں جہاں دردمندی اور ہمدردی کے اظہار پر اکتفا کرلیا جاتا ہے یا درد کو سمجھنے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوا ہوں؟ 

یہ بھی پڑھئے: اُداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں گے!

دردکو سمجھنے کے بھی اپنے تقاضے ہیں۔ کسی دردناک منظر کو دیکھ کر لرز جانا آسان ہے مگر درد کے ساتھ جینا مشکل ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو غزہ کے درد کے ساتھ جی رہے ہیں؟ اکثر تو دردناک مناظر کے ویڈیو دیکھ کر سکتے میں آجاتے ہیں، بعض اوقات رونے لگتے ہیں مگر چند لمحوں بعد اُن کی زندگی درد کی اُس کیفیت سے باہر آ کر پہلے جیسی ہوجاتی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہوتا؟ہندوستانی عوام، اہل غزہ کی ہمدردی میں درد کے اولین دو مرحلوں ہی میں رہ سکتے ہیں بقیہ تین مراحل تک رسائی اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے تب بھی مَیں خود کو ٹٹولتا ہوں کہ پہلے مرحلے میں ہوں یا دوسرے میں؟ 

خود وطن عزیز میں وقفے وقفے سے ایسے حالات پیدا ہوتے رہے ہیں جب ایک طبقہ کے خلاف نفرت کی برسوں کی روایت تشدد کے نئے واقعات کا جامہ پہن کر خبروں کی سرخی بن جاتی ہے۔ وہ طبقہ  کون سا ہے یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ حالیہ تین بڑے واقعات نے ملک کے درد مند شہریوں پر سکتہ طاری کردیا ہے۔ رائے بریلی میں ہری اوم والمیکی نامی ایک شخص کی ہجومی تشدد میں موت، ہریانہ کے آئی پی افسر پورن کمار کی خودکشی اور چیف جسٹس آف انڈیا (بی آر گوئی) کی جانب جوتا اُچھالنے کی کوشش۔ یہ واقعات اُس ازلی، نسلی اور قدیم نفرت کا نتیجہ ہیں جو ہر دلت بستی میں آج بھی اپنا شکار تلاش کرتی رہتی ہے اور اب تک بے شمار افراد اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ درد کے حوالے سے اس مضمون کی ابتداء میں جن باتوں کی نشاندہی کی گئی ہے اُن میں یہ اضافہ ضروری ہے کہ دردمندی یا ہمدردی تب تک پیدا نہیں ہوگی جب تک واقعات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جائیگی۔ اس کیلئے خبروں سے وابستگی ضروری ہے جبکہ دوسرا تقاضا یہ ہے کہ درد کے پس منظر تک رسائی حاصل کی جائے۔ ہندوستان میں ’’دلت سمسیا‘‘ کو سمجھنے کا بہترین طریقہ دلت ادب کا مطالعہ ہے جس کی ضرورت پر گزشتہ ہفتے بھی قارئین کی توجہ دلائی گئی تھی۔ تب، ممتاز اُردو شاعر جینت پرمار کے حوالے سے گفتگو کی گئی تھی۔ آج جی چاہتا ہے کہ قارئین کو اوم پرکاش والمیکی کے بارے میں مزید کچھ بتایا جائے جن کی نظم ’’ٹھاکر کا کنواں‘‘ اور سوانح حیات ’’جھوٹن‘‘ کو ا س کالم میں موضوع بحث بنایا جاچکا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کیا ہماری خارجہ پالیسی ٹھیک چل رہی ہے؟

دلت ادب پڑھتے وقت درد کی ایسی ہزار کیفیتیں اُبھرتی ہیں کہ سوچنا محال ہوجاتا ہے، ذہن ماؤف ہوجاتا ہے اور یقین نہیں آتا کہ وطن عزیز میں آج بھی ایسا ہوتا ہے۔ شاعر یا ادیب بہت سے واقعات پر غور کرتا ہے، اُنہیں انگیز کرتا ہے تب کہیں جاکر اُس درد کو اپنے فن میں سمونے کے قابل ہوتا ہے جو یا تو خود اُس کا درد ہے یعنی آپ بیتی ہے یا کسی کے درد کو اُس نے اپنے اندرون میں پوری شدت کے ساتھ محسوس کیا ہے یعنی جگ بیتی ہے۔ 

اوم پرکاش والمیکی نے جو کچھ بھی لکھا وہ اُن کا اور اُن کے طبقے کا درد ہے جو افسوس کہ پورے ملک کا درد نہیں بن سکا۔ سیکڑوں سال کی اذیت، تحقیر، تضحیک اور دشنام کوملک کے عوام کے اجتماعی ضمیر کا حصہ بن جانا چاہئے تھا مگر کیا ایسا ہوا ہے؟ والمیکی کی ایک نظم کے یہ مصرعے دیکھئے: ’’یاد کرو اُس بیٹے کا چہرا/ جس کے سامنے پھینک دیئے ہو / نوچ نوچ کر اُس کی ماں کے وَستر ‘‘۔ یا پھر، سیکڑوں سال سے جاری ایسی وارداتوں کو اپنے پورے وجود کے ساتھ محسوس کرنے والے شاعر کے ذہن میں پیدا ہونے والے انتشار کا جائزہ لیجئے جو زمانے کو پاکھنڈی تصور کرنے پر مجبور ہے:

 ’’مَیں نے دکھ جھیلے/ سہے کشٹ پیڑھی در پیڑھی اتنے / پھر بھی دیکھ نہیں پائے تم / میرے اُت پیڑھن کو/ اسی لئے یُگ سموچا /

 لگتا ہے پاکھنڈی مجھ کو

زمانہ پاکھنڈی ہے کا معنی؟ ہر وہ شخص جو زمانے میں ہے شاعر کی نظر میں پاکھنڈی ہے کیونکہ وہ درد کے پہلے مرحلے سے سرسری گزرتا ہے، دوسرے مرحلہ میں داخل نہیں ہوپاتا، اسی لئے تیسرے اور چوتھے اور پانچویں مرحلے کی اُس سے اُمید نہیں کی جاسکتی۔ والمیکی نے خود نوشت سوانح ’’جھوٹن‘‘ میں، جس کا اُردو ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے، میں بچپن کی فضیحت کی بابت اس طرح لکھا ہے:

’’ چھوا چھوت کے خلاف گاندھی جی کی تعلیمات کے سبب سرکاری اسکولوں کے دروازے اچھوتوں کیلئے کھلنے شروع ہوگئے تھے لیکن عام لوگوں کی سوچ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں دکھائی دے رہی تھی۔ اسکول میں دوسروں سے دور بیٹھنا پڑتا تھا۔ وہ بھی زمین پر۔ اپنے بیٹھنے کی جگہ تک آتے آتے چٹائی چھوٹی پڑ جاتی تھی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اہل اُردو ہیں ہمارا کیش ہے ترک ِ زباں

ایک اور اقتباس: ’’کبھی کوئی اچھا صاف ستھرا کپڑا پہن کر نکلئے تو طرح طرح کی باتیں سننی پڑتی تھیں، ایسی چوٹیں جو بجھے تیر کی طرح اندر تک اُتر جاتی تھیں۔ صاف ستھرے کپڑے دیکھ کر کلاس کے لڑکے کہتے: ابے چوہڑے کا (دلتوں کو ’’چوہڑے کا‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا) نئے کپڑے پہن کر آیا ہے؟ اور میلے پرانے کپڑے پہن کر جائیے تو کہتے: ابے چوہڑے کا، دور ہٹ، بدبو آرہی ہے۔‘‘   

سوچئے یہ اور ایسے ہزار دکھوں سے روزانہ گزرنے والے کوئی اور نہیں، اپنے ہم وطن ہی ہیں جنہیں آج بھی تحقیر و تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دردمندی کا تقاضا ہے کہ اُن کے درد کو سمجھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ساتھ درد کے پانچوں مراحل میںرہا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK