آل انڈیا ادارۂ تحفظ حسینیت کے زیراہتمام برآمد ہونے والے ۶۶؍ ویں جلوسِ عاشورہ میں یاحسینؓ کےفلک شگاف نعرے۔ شہدائے کربلا کی یاد میں جگہ جگہ سبیلیں بنانے کے ساتھ شربت تقسیم کیا گیا۔ ناریل واڑی رے روڈ، گھڑپ دیو، گوونڈی، ماہم، دھاراوی، جوگیشوری، مالونی، کاندیولی اور دیگر علاقوں میں تعزیہ داری۔ پولیس کاسخت پہرہ۔
شہرمیں نکالے گئے عاشورہ کے جلوس میں بڑی تعداد میں شرکاء نظر آرہے ہیں۔ (تصویر: انقلاب)
شہر ومضافات میں جمعہ کو جلوس ِ عاشورہ میں شرکاء کا اِژدہام نظرآیا۔شرکائے جلوس سیاہ کپڑوں میںملبوس پیشانی پر’یاحسینؓ ‘کی پٹّی باندھے ننگے پیر ماتم کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ ان میںمرد وخواتین اوربچے سبھی شامل تھے۔ آل انڈیا ادارۂ تحفظ حسینیت کے زیر اہتمام زینبیہ امام باڑہ ، بھنڈی بازار سے برآمد ہونے والے ۶۶؍ویں جلوسِ عاشورہ میں شرکاء نے یاحسینؓ کےفلک شگاف نعرے بلند کئےجبکہ حسینی فیڈریشن کی جانب سے بھی جلوس کا اہتما م کیا گیا اورشبِ عاشورہ میںمسجد ایرانیان (مغل مسجد) میں آخری مجلس سے مولانا سید نجیب الحسن زیدی نےخطاب کیا ۔
حسبِ روایت محرم کا یہ جلوس شہدائے کربلا کی یاد میںنکالا جاتا ہے اور اس پیغام ِ امام حسین ؓکی یاددہانی کروائی جاتی ہے جس میں آپ ؓنےخانوادۂ اہل بیت کی شہادت کو توقبول فرمایا مگریہ گوارا نہ کیاکہ نانا جان کے دین پرحرف آئے ۔ آپؓ نےاپنی شہادت سے حق وباطل کےدرمیان ایسی واضح مثال قائم فرمائی کہ رہتی دنیا تک اس سے روشنی حاصل کی جاتی رہے گی ۔ شہدائے کربلا کی یاد میںجگہ جگہ سبیلیں بنانے کے ساتھ شربت تقسیم کیا گیا ۔ناریل واڑی روڈ، گھڑپ دیو ،گوونڈی ، کرلا ، ماہم ،دھاراوی ، مالونی ، کاندیولی ، میراروڈاو ر دیگر وغیرہ علاقوں میں تعزیہ داری کی گئی۔ جلوس برآمد ہونے سے لے کرختم ہونے تک بھنڈی بازار سے رحمت آباد قبرستان (مجگاؤں ) تک اوردیگر علاقوں میں پولیس کاسخت پہرہ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ اور والدین کی پریشانی کے باعث سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی ہدایت
۴؍بجے جلوس برآمدہوا اور شام غریباں کی مجلس
حسبِ ترتیب زینبیہ امام باڑہ میںآخری سجدے کی مجلس مولانا عابدبلگرامی نےانتہائی پرسوز انداز میں پڑھی جس سے حاضرین آبدیدہ ہوگئے۔ اس کےبعد جلوس اپنے قدیمی راستے یعقوب گلی ، ہونڈا کارنر، جے جے کارنر، ہینکاک بریج ،سیلزٹیکس ہوتا ہوا رحمت آباد قبرستان پہنچا۔یہاںشا م غریباں کی مجلس مولانا مرزا یعسوب عباس نےپڑھی ۔ یہاںایرانی نوجوانوں نے آگ پرماتم کیا ۔اس کے علاوہ جسٹ اورٹروپسٹ کےرضاکار بھی اپنی طبی خدمت انجا م دیتے رہے۔ جلوسِ عاشورہ کی سربراہی مولانا عنبرزیدی ،مولانا جعفر اور مولانا شوکت نے کی جبکہ ادارہ ٔ تحفظ حسینیت کے عہدیداران ذوالفقار زیدی ، حبیب ناصر ،حسین علی رضوی ،سلمان زیدی ، انوار زیدی ، محمد باقر ، جاوید ابرار ، رضا عباس اورعلمدار حسین وغیرہ پیش پیش تھے۔ مذکورہ ادارہ کے صدر ذوالفقار زیدی نےنمائندۂ انقلاب کو بتایاکہ’’ جلوس عاشورہ کا اہتمام ۱۹۶۰ء سے کیا جارہا ہے ۔ شہر کے دیگر حصوں اورمختلف علاقوں سے نکلنے والے جلوس اس میںضم ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں اہل تشیع دیگر علاقوں سے بھنڈی بازار پہنچ کر اس مرکزی جلوس کاحصہ بنتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بارش پھر رُوٹھ گئی، پیر تک انتظار
امام حسینؓ کی یاد میں تعزیہ داری
ناریل واڑی قبرستان کے نگراں یٰسین چشتی نے انقلاب کو بتایاکہ ’’ ناریل واڑی رے روڈ میںتعزیہ داری کا اہتمام کرنے والے نوجوانوں میں شہزاد درویش، فرقان چشتی، عبدالستار اجمیری، مزمل انصاری او محمد ارمان وغیرہ پیش پیش تھے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہم لوگوںنے تعزیہ داری کااہتمام امام حسینؓ اورشہدائے کربلا کی یاد میںکیا ۔ یہی دیگر علاقوں کے منتظمین کی جانب سے بھی کہا گیا۔