Inquilab Logo Happiest Places to Work

قرآن کی بیان کردہ حقیقت: انسان سب سے زیادہ دھوکہ اپنے آپ کو دیتا ہے

Updated: April 03, 2026, 4:28 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai

خود فریبی انسان کی ایک ایسی باطنی بیماری ہے جو اسے حقیقت سے دور کر دیتی ہے۔ یہ انسان کو وقتی سکون تو دیتی ہے مگر اس کی اصلاح کے دروازے بند کر دیتی ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے باطن کو سچائی، اخلاص اور محاسبۂ نفس سے منور کرے۔

In this age of social media, humans present an artificial image of themselves and form unrealistic perceptions about themselves by looking at the artificial lives of others. Photo: INN
سوشل میڈیا کے اس دور میں انسان اپنی ایک مصنوعی تصویر پیش کرتا ہے اور دوسروں کی مصنوعی زندگیوں کو دیکھ کر اپنے بارے میں بھی غیر حقیقی تصورات قائم کرتا ہے۔ تصویر: آئی این این

انسانی شخصیت کا سب سے نازک اور پیچیدہ پہلو اس کا باطن ہے۔  اسی باطن میں نیتیں جنم لیتی ہیں، فیصلے تشکیل پاتے ہیں اور رویّے اپنی اصل سمت اختیار کرتے ہیں۔ بظاہر انسان دوسروں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہوا نظر آتا ہے، مگر قرآنِ مجید ایک چونکا دینے والی حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ انسان سب سے زیادہ دھوکہ اپنے آپ کو دیتا ہے۔ یہ خود فریبی محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ایک گہری نفسیاتی کیفیت ہےجو انسان کے شعور، ترجیحات اور اس کے فیصلوں کو اندر سے متاثر کرتی ہے۔ یہ وہ پردہ ہے جس کے پیچھے انسان اپنی کمزوریوں، غلطیوں اور ناکامیوں کو چھپا کر اپنے آپ کو مطمئن رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

قرآنِ مجید نے انسانی نفس کے اس پہلو کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

 ’’وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو دھوکہ نہیں دے رہے ہوتے اور انہیں شعور نہیں ہوتا۔ ‘‘ (البقرہ:۹ ) 

اللّٰہ رب العزت نے پہلے ہی پارے میں خود فریبی کی بنیادی حقیقت کو بے نقاب کردیا ہے۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں کو دھوکہ دے رہا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنے ہی شعور کو دھوکے میں رکھ رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان اپنے بارے میں ایک جھوٹی تصویر قائم کر لیتا ہے اور پھر اسی تصویر کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آج ہم جن پریشانیوں میں مبتلا ہیں، وہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے!

جدید علمِ نفسیات میں اس کیفیت کو سیلف ڈِسیپشن (Self-Deception) کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق انسان کا ذہن ایک ایسا دفاعی نظام رکھتا ہے جو اسے تکلیف دہ سچائیوں سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب کوئی حقیقت انسان کیلئے ناقابلِ قبول ہو تو وہ اسے ماننے کے بجائے اس کے گرد توجیہات کا ایک جال بُن لیتا ہے۔ اس عمل کو  ریشنلائزیشن( Rationalization) کہا جاتا ہے یعنی انسان اپنی غلطیوں کیلئے ایسے جواز پیدا کرتا ہے جو اسے اپنے ہی سامنے درست ثابت کر سکیں۔

خود فریبی کی ایک بنیادی صورت یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو معیارِ حق بنا لیتا ہے۔ قرآنِ مجید اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے:’’ کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے؟ ‘‘ (الجاثیہ:۲۳)

قرآن کے یہ الفاظ انسانی نفس کی اس گمراہی کو ظاہر کرتے ہیں کہ جب انسان اپنی خواہشات کے تابع ہو جاتا ہے تو وہ ہر اس چیز کو درست سمجھنے لگتا ہے جو اسے پسند ہو۔ وہ اپنے اعمال کو صحیح ثابت کرنے کیلئے دلائل تراشتا ہے اور یوں حقیقت سے دور ہوتا جاتا ہے۔

نفسیاتی اعتبار سے یہ کیفیت علمی عدم اطمینان  (Cognitive Dissonance) کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جب انسان کے عقائد اور اس کے اعمال میں تضاد پیدا ہوتا ہے تو اس کے اندر ایک ذہنی کشمکش جنم لیتی ہے۔ اس کشمکش کو ختم کرنے کے لئے انسان اپنے اعمال کو بدلنے کے بجائے اپنے خیالات کو اس طرح ڈھال لیتا ہے کہ اسے اپنے آپ سے تصادم محسوس نہ ہو۔ یہی خود فریبی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ان اخلاقی خوبیوں کو اپنائیے جن سے جنت کے مستحق بن سکیں

قرآنِ مجید نے اس حقیقت کو نہایت گہرائی کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے:  ’’بلکہ انسان خود اپنے آپ کو خوب جانتا ہے، چاہے وہ کتنے ہی عذر پیش کرے۔‘‘ (سورہ القیامہ:۱۴۔۱۵) یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ انسان کے اندر ایک ایسا شعور موجود ہوتا ہے جو اس کی اصل حقیقت سے واقف ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے سکتا ہے، مگر اپنے ضمیر کو مکمل طور پر خاموش نہیں کر سکتا۔

خود فریبی کی ایک نمایاں شکل اخلاقی جواز ہے۔ انسان اپنے غلط اعمال کو درست ثابت کرنے کے لئے انہیں اچھے نام دے دیتا ہے چنانچہ ظلم کو حکمت، دھوکہ کو چالاکی، کمزوری کو مجبوری، اور اسراف کو ضرورت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید نے اس کیفیت کو یوں بیان کیا ہے: ’’ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں، خبردار! یہی لوگ فساد کرنے والے  ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ ‘‘ (البقرہ: ۱۱۔۱۲)

نفسیات میں اسے اخلاقی عدم شمولیت یا اخلاقی انفصال   ( Moral Disengagement ) کہا جاتا ہے۔ انسان اپنے اعمال کے اخلاقی نتائج سے خود کو الگ کر لیتا ہے تاکہ اسے ضمیر کی ملامت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تشریح کے طور پر یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ علم نفسیات کے مطابق اخلاقی عدم شمولیت  یا اخلاقی انفصال  ( Moral Disengagement ) وہ نفسیاتی عمل ہے جس میں انسان اپنے اخلاقی اصولوں اور ضمیر سے خود کو الگ کر لیتا ہے۔ اس سے وہ شرم، جرم یا ذہنی تکلیف کے بغیر نقصان دہ یا غیر اخلاقی کام کر سکتا ہے۔ البرٹ بنڈورا کے مطابق، لوگ مختلف میکانزم (جیسے اخلاقی جواز، ذمہ داری کا بکھیرنا، نتائج کو کم کرنا اور دوسروں کو غیر انسانی قرار دینا) استعمال کر کے اپنے بُرے اعمال کو جائز ٹھہراتے ہیں، تاکہ مثبت خودی کا احساس برقرار رکھ سکیں۔ 

خود فریبی کی ایک اور اہم شکل خود غرضانہ مفاد (Self-Serving Bias) ہے جس میں انسان اپنی کامیابیوں کو اپنی صلاحیت کا نتیجہ قرار دیتا ہے اور اپنی ناکامیوں کو حالات یا دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔ یہ رویہ انسان کو اپنی اصلاح سے محروم کر دیتا ہے کیونکہ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اسی طرح انکار یعنی  Denial بھی خود فریبی کی ایک صورت ہے۔ انسان بعض اوقات کسی حقیقت کو ماننے سے اس لئے انکار کرتا ہے کیونکہ اسے قبول کرنا اس کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ یہ طریقہ وقتی سکون تو دیتا ہے مگر انسان کو حقیقت سے دور لے جاتا ہے۔

ایک اور شکل Projection ہے۔ انسان اپنی کمزوریوں کو دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔ وہ اپنی غلطیوں کو دیکھنے کے بجائے دوسروں کی خامیوں کو نمایاں کرتا ہے۔ قرآنِ مجید اس رویے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: ’’ کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ ‘‘ (البقرہ:۴۴)  قرآن نے خود فریبی کے ایک اہم پہلو کو ظاہر کیا ہے کہ انسان دوسروں کی اصلاح میں مصروف رہتا ہے مگر اپنی اصلاح سے غافل ہوتا ہے۔

خود فریبی کی ایک بڑی وجہ خوف بھی ہے۔ انسان اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کا سامنا کرنے سے ڈرتا ہے کیونکہ اسے اپنی انا کو جھکانا پڑے گا۔ اسی لئےوہ حقیقت سے فرار اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح معاشرتی دباؤ بھی خود فریبی کو بڑھاتا ہے۔ جب معاشرہ کسی غلط رویے کو معمول بنا دیتا ہے تو فرد بھی اسے درست سمجھنے لگتا ہے اور اپنے ضمیر کو خاموش کرنے کے لئے خود فریبی کا سہارا لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عبادت مسجد تک محدود نہیں؛ یہ گھر، بازار اور مسافر کی تھکن تک دراز ہے

آج کے دور میں خود فریبی کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے، اور وہ ہے سماجی موازنہ اور نمائشی زندگی۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں انسان اپنی ایک مصنوعی تصویر پیش کرتا ہے اور دوسروں کی مصنوعی زندگیوں کو دیکھ کر خود اپنے بارے میں غیرحقیقی تصورات قائم کرتا ہے۔ وہ اپنی اصل حالت سے دور ہوتا جاتا ہے اور ایک خیالی شخصیت میں جینے لگتا ہے۔ یہ بھی خود فریبی کی ایک جدید صورت ہے۔

خود فریبی کا ایک اور پہلو شناخت کا تحفظ (Identity Protection) ہے۔ انسان اپنی بنائی ہوئی شناخت کو بچانے کے لئے حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے۔ اگر کوئی سچ اس کی خود ساختہ تصویر کے خلاف ہو تو وہ حیرت انگیز رویہ اختیار کرتے ہوئے اسے قبول کرنے کے بجائے رد کر دیتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں خود فریبی کے علاج کیلئے سب سے اہم چیز محاسبۂ نفس ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔ ‘‘(ترمذی)  

محاسبۂ نفس دراصل خود فریبی کے پردہ کو چاک کرنے کا عمل ہے۔ جب انسان اپنے اعمال، نیتوں اور خیالات کا جائزہ لیتا ہے تو وہ اپنی اصل حالت کو پہچاننے لگتا ہے۔ قرآنِ مجید بھی اسی طرف متوجہ کرتا ہے: ’’اے ایمان والو! تم اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھتے رہنا چاہئے کہ اس نے کل (قیامت) کیلئے آگے کیا بھیجا ہے۔‘‘  (الحشر:۱۸)

نفسیاتی اعتبار سے خود فریبی کے علاج کیلئے باخبری (Self-Awareness) بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ جب انسان اپنے خیالات اور رویوں کو شعوری طور پر سمجھنے لگتا ہے تو وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح غور و فکر کی عادت ( Reflective Thinking) انسان کو فوری ردعمل کے بجائے حقیقت پسندانہ سوچ کی طرف لے جاتی ہے۔ ایک اور مؤثر طریقہ مخلصانہ و ایماندارانہ رائے Honest Feedback کا ہے۔ جب انسان دوسروں کی مخلصانہ تنقید کو قبول کرتا ہے تو اسے اپنی کمزوریوں کا بہتر اندازہ ہوتا ہے۔اسی طرح تشکر اور اعتراف Gratitude اور Acceptance بھی انسان کو حقیقت کے قریب لاتے ہیں اور اسے خود فریبی کی ضرورت کم محسوس ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: اعتکاف اور شوال کے روزوں کی قضا کا حکم

بالیقین خود فریبی انسان کی ایک ایسی باطنی بیماری ہے جو اسے حقیقت سے دور کر دیتی ہے۔ یہ انسان کو وقتی سکون تو دیتی ہے مگر اس کی اصلاح کے دروازے بند کر دیتی ہے۔

قرآنِ مجید انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے باطن کو سچائی، اخلاص اور محاسبۂ نفس سے منور کرے۔ حقیقت کا سامنا کرنے لگے تو انسان  خود فریبی کے پردوں سے نکل کر ایک متوازن، باوقار اور سچی شخصیت بن جاتا ہے۔ یہی وہ داخلی صداقت ہے جو انسان کو حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتی ہے، اور یہی وہ نفسیاتی پختگی ہے جسے جدید علمِ نفسیات ایک صحت مند اور بالغ شخصیت کی علامت قرار دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK